Download (15)

2014 کے اسمبلی الیکشن کے بعد عمرعبداللہ بی جے پی کی حمایت سے وزیر اعلیٰ بننا چاہتے تھے

بی جے پی نے نائب وزیراعلیٰ کی عہدے کی پیش کش کی تھی جسکے نتیجے میں منصوبہ ناکام ہوا /جنید عظیم متو

سرینگر// سرینگر میونسپل کارپوریشن کے میئر نے اس بات کاانکشاف کیاکہ 2014میں نیشنل کانفرنس کے نائب صدر بی جے پی کی حمایت سے جموںو کشمیرکاوزیراعلیٰ بننا چاہتے تھے تاہم بی جے پی نے نائب وزیراعلیٰ کے عہدے کی پیش کش تھی جسپروہ راضی نہ ہوئے تاہم صوبہ کشمیر اور صوبہ جموں میں این سی کے دو سینئرلیڈر نائب وزیر اعلیٰ بننا چاہتے تھے اور میٹھائی بھی اپنے گھروں میں تقسیم کررہے تھے ۔اے پی آئی نیوز کے مطابق سرینگر میونسپل کارپوریشن کے سابق میئرجنید اعظم متو نے اس بات کاانکشاف کیاکہ 2014کے اسمبلی الیکشن کے بعد نیشنل کانفرنس اور بھارتیہ جنتا پارٹ میں قربت بڑھی تھی راز ونیازکی باتیں ہوئی اقتدار مشترکہ طور پر حاصل کرنے کی کوشش بھی کی گئی تا ہم آخری وقت پرمنصوبہ ناکام ہوااور بھارتیہ جنتا پارٹی پی ڈی پی کے مابین اتحاد ہوااورمخلوط حکومت کاقیام عمل میںلایا۔سابق میئر نے کہاکہ نیشنل کانفرنس کے نائب صدر عمرعبداللہ بی جے پی کی حمایت سے وزیراعلیٰ بننے کے لئے تیار تھے تاہم بھارتیہ جنتا پارٹی نے انہیں نائب وزیراعلیٰ عہدے کی پیش کش کی تھی جس پر عمرعبداللہ راضی نہیںہوئے۔انہوں نے کہاکہ صوبہ کشمیر میں نیشنل کانفرنس کے جنرل سیکریٹری علی محمدساگرکے گھر میں مٹھائیاں بانٹی جارہی تھی انہیں یقین تھاکہ بی جے پی او راین سے کے مابین مفاہمت ہوگی عمرعبداللہ وزیراعلیٰ تونہیں بنے گے اورلاٹری ان کے نام نکلے گی ۔جموں میں بھی پارٹی کے اس وقت کا نیشنل کانفرنس لیڈر نائب وزیراعلیٰ بننے کے لئے تیار تھا ہم این سی کایہ خواب اُدھورارہ گیا۔انہوںنے کہاکہ اپنی پارٹی یا دوسری کئی سیاسی پارٹیاں جن کاوجود 370ختم ہونے کے بعد عمل میں آیا انہیں بی جے پی کی بی ٹیم اے ٹیم کہناان لوگوں کوزیب نہیںدیتاہے جنہوںنے بھارتیہ جنتا پارٹی کے ساتھ پہلے ہی مفاہمت کی ہے ۔انہوںنے کہاکہ2014یں عمرعبداللہ اور این سی بھارتیہ جنتاپارٹی کے مابین کیاکیا باتیں ہوئی اس سلسلے میں وہ ثبوت بھی پیش کر سکتے ہیں ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں