2095660

کشمیری عالم دین جنکے عدل و انصاف کے فیصلہ آج بھی مثال دئے جاتے ہیں…”آغا سید محمد فضل اللہ علیہ رحمۃ”

کشمیری عالم دین جنکے عدل و انصاف کے فیصلہ آج بھی مثال دئے جاتے ہیں…”آغا سید محمد فضل اللہ علیہ رحمۃ”

تحریر: بشارت حسین سایہ ہامہ بڈگام کشمیر

مرحوم و مغفور آغا سید محمد فضل اللہ ؒ الموسوی الصفوی حضرت آیۃ اللہ آغا سید یوسف ؒ الموسوی الصفوی کے فرزند اکبر تھے۔ آغا سید محمد فضل اللہ ؒ ۲۶ نومبر ۱۹۴۷ ؁ ء کو پیدا ہوئے۔ چھوٹی عمر سے ہی آغا صاحب اپنے والد محترم کے ساتھ دینی امور میں شانہ بہ شانہ رہے۔ ابتدائی تعلیم مدرسہ جامعہ باب العلم سے حاصل کرنے کے بعد اپنے والد محترم کے کہنے پر شہرِ باب العلم، شہر مقدس نجف اشرف وارد ہوئے۔ مزید تعلیم حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ جہاں انہوں نے سرکار آیۃ اللہ سید محسن حکیم رضوان اللہ علیہ کی نگرانی میں مدرسہ آیۃ اللہ طبا طبائی ؒ میں ایک اہم مقام حاصل کیا، وہیں اسی اثنا میں انکو امام راحل امام خمینی ؒ اور دیگر مجتہدین کرام کے ساتھ قریبی تعلقات رہے۔ آیۃ اللہ محسن حکیم ؒ انہیں اپنی اولاد کی طرح خاص توجہ دیا کرتے تھے۔ آغا صاحبؒ جب علمی مقام و کمال حاصل کرکے واپس کشمیر تشریف لے آئے تو والد محترم نے انہیں انجمن شرعی شیعیان سے مربوط کئی اہم ذمہ داریاں سپرد کیں ، جو آنجناب نے نہایت احسن طریقے سے انجام دیں۔ ابتدا میں آغا صاحب باب العلم کے مدیر مقرر کئے گئے۔آغا صاحب کی شخصیت اتنی قابلِ اعتماد اور اعلیٰ درجہ کی تھی کہ آپ خانقاہ میر شمس الدیںؒ ذڈی بل کی تعمیر کیلئے بھی اپنے پدر مہربان کی طرف سے چندہ جمع کرنے پر مامور کئے گئے۔ پھر جب ۲۹ اگست ۱۹۸۲ ؁ ء کو پدر مہربان کا سایہ آغا صاحب کے سر سے اٹھ گیا تو آپ کو ایک پُر آشوب دور کا مقابلہ کرنا پڑا۔ زمانے کے بدلتے حالات نے آغا صاحب کو شدید کرب و آلام میں مبتلا کیا لیکن آپ تمام مورچوں پر شیرِ ببر کی مانند کھڑے رہے اور وقت کے تمام طوفانوں اور مشکلات سے دلیری کے ساتھ مقابلہ کیا۔ بیسویں صدی کے اواخر میں جہاں کشمیر کو سخت نا مساعد حالات کا سامنا کرنا پڑا وہیں یہ مردِ تاریخ ، ممتاز عالم دین اور عدل و انصاف کا پیکر، ایک مثالی مبلغ بن کر اُن خوفناک راتوں کی تاریکیوں میں بھی گاؤں گاؤں جاکر تبلیغِ دین کرنے کے ساتھ ساتھ باقی دینی امورات کے فرائض انجام دیتے رہے۔

مسند قضاوت پر عدل و انصاف کا عالم یہ تھا کہ آپ کے عادلانہ فیصلوں کے چرچے دور دور تک ہوا کرتے تھے۔ آپ کی عدالت اتنی مشہور تھی کہ لوگ آج بھی نہ فقط آپ کو یاد کرتے ہیں بلکہ آپ کی جانب سے دئے گئے فیصلوں کو بطور مثال پیش کرتے ہیں۔

آغا صاحب نہ فقط ایک عالمِ با عمل تھے بلکہ آپ کو عرفانی کمالات بھی حاصل تھے۔ اس ضمن میں آپ کو عرفانی کرامات کے انسان کامل، استادِ عارفین حضرت آیۃ اللہ العظمیٰ سید قاضی طباطبائی کے شاگرد آیۃ اللہ سید عبد الکریم کشمیریؒ جیسے آساتذہ سے درس تلمذ حاصل کیا۔

آغا صاحبؒ اپنا زیادہ تر وقت کتابوں کے مطالعہ میں گزارتے تھے۔ آغا صاحبؒ کی دلی تمنا تھی کہ ہر گھر سے ایک عالمِ با عمل نمودار ہو اور اسی لئے آنجناب مکاتب کے معاملے میں بہت زیادہ سنجیدہ تھے۔ آپ کی سرپرستی میں پوری وادی میں ۴۷ مکاتب قیام پذیر تھے، جن کیلئے آپ نے اعلیٰ پایہ کا جدید نصاب تشکیل دلوایا۔ صدر مرحوم ہر مکتب کی تعلیمی کار کردگی کا بذات خود بار بار جائزہ لیتے تھے اور ان مکاتب کے اندر پائی جانے والی ہر خامی اور کمزوری کو دور کرنے پر گہرا سوچ و وچار کرتے تھے ۔ یہی وجہ ہے کہ مدارس شاخ ہای باب العلم دن دوگنی رات چوگنی ترقی کرنے لگے۔ ۲۰۱۲ ؁ء سے آغا صاحب نے علوم قران نیز حسن قرائت و ترتیل اور حفظ قرآن کریم پہ جو توجہ دی وہ سنہری سیاہی اور چاندی کے قلم سے لکھنے کے قابل ہے جس کا مظاہرہ ان درسگاہوں کے اندر زیر تعلیم طلاب نے نہ فقط ریاستی بلکہ قومی سطحوں کے مقابلوں میں بھی کیا۔ قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ آغا صاحب کے اس لائحہ عمل سے ملت تشیع کے جبینوں پر لگا قرآن صحیح نہ پڑھنے کا داغ ہمیشہ کیلئے محو ہو گیا۔ آپ نے نہ فقط بہترین قرآن خوان قوم کو عطا کئے بلکہ قرآن شناس مستقبل کی بنیاد بھی ڈالی۔ تعلیمی کانفرنسوں، سمیناروں،مسابقوں اور باقی پروگراموں کے انعقاد کرنے میں آغا صاحبؒ بہت سنجیدہ اور پیش پیش رہتے تھے۔

سال ۲۰۱۷ ؁ ء میں آغا صاحبؒ نے تعلیم دین کے حوالے سے ایک اور تاریخ رقم کی اور دار العلی ؒ میر گنڈ بڈگام میں’دارُ القرآن آیۃ اللہ یوسفؒ ‘ کے نام سے ایک دینی مدرسہ قائم کیا ، جہاں طالب علموں کو کھانے پینے کے ساتھ ساتھ تمام دیگر سہولیات بہم رکھ کر اُن کیلئے اپنی آبائی رہائشگاہ بھی وقف کی۔ آغا صاحب کو نہ فقط دینی علوم سے اُنس تھا بلکہ عصری تعلیم کی ترویج میں بھی آپ شد و مد سے پیش پیش رہے ۔ اس سلسلے میں ۲۰۱۲ ؁ء میں شگن پورہ سوناواری میں ۲۶ کنال سے زائد اراضی پر آیۃ اللہ یوسفؒ میمورئل ایجوکیشنل انسٹچوٹ کا قیام عمل میں لانا قابل ذکر ہے جہاں جدید منہج پر طلاب کو مروجہ تعلیم کے ساتھ ساتھ دینی تعلیم کے نور سے بھی منور کیا جاتا ہے ۔ شپ پورہ ماگام میں واقع ایسا ہی ایک اور ادارہ اس سے پہلے ہی قائم کیا جا چکا تھا جہاں سے اب تک ہزاروں طلاب بحر علم سے اپنی پیاس بجھا کر فارغ ہو چکے ہیں ۔

آغا صاحبؒ کی شخصیت اتنی عظیم تھی کہ اپنی پوری زندگی میں مستحق لوگوں، یتیموں، بے بسوں اور لاچاروں کے ساتھ ساتھ حاجتمند طالب علموں کو کبھی فراموش نہیں کیا بلکہ انہیں وقتًا فوقتًا وضائف و امداد سے نوازتے رہے۔آغا صاحب کی سخاوت پوری وادی میں روزِ روشن کی طرح عیاں ہے۔ آپ کے دولت حانہ پر ہر وقت دسترخوان بچھا ہوا ہوتا تھا۔ مہمان نوازی کرنا آپ ایک عظیم سعادت سمجھتے تھے۔

آغا صاحبؒ قوم کے تئیں ہر وقت فکر مند رہتے تھے۔ مصائب و مشکلات کے دوران قوم کے ساتھ شانہ بہ شانہ چلنا آپ کا طرہ امتیاز تھا جس کا بہترین ثبوت ؁۲۰۱۴ ء کا سیلاب ہے۔ جب دیکھتے دیکھتے پوری وادی کے اندر قیامت صغریٰ برپا ہوئی تو آغا صاحب نے سب سے پہلے سیلاب زدگان کو امداد پہنچانے میں پہل کی۔ جسمانی کمزوری کے باوجود آپ خود بنفس نفیس سیلاب زدگان تک پہنچے، اُن کی ڈھارس بندھائی ، اُن سے بات چیت کی اور اُن تک معقول امداد پہنچائی ۔ اس سلسلے میں آغا صاحب نے متاثرین کیلئے کئی امدادی وفود روانہ کئے جنہوں نے کثیر تعداد میں راشن، ادویات اور دیگر ضروریات زندگی متاثرین میں تقسیم کرنے کا کام بنحو احسن انجام دیا۔ کئی جگہوں پر لنگر وں کا بھی اہتمام کیا گیا جن کی نگرانی آپ نے اپنے فرزند ارجمند حجۃ الاسلام و المسلمین آغا سید محمد ہادی الموسوی الصفوی صاحب کو تفویض کی تھی۔

آغا صاحب اپنی پوری زندگی میں لوگوں کو خوفِ خدا یاد دلانے کے ساتھ سا تھ سنت پیغمبر اکرم ﷺ اور سیرتِ ائمہ اطہار ؑ پہ چلنے اور حق شناس بننے کی تلقین کرتے رہے۔ آغا صاحب مصائب کربلا ایک منفرد انداز میں پڑھا کرتے تھے۔ اس دوران لوگون کے اندر کرب و اضطراب کا یہ عالم ہوتا تھا کہ مجلس کے اندر موجود لوگ چیخ چیخ کر روتے تھے، آپ خود بھی گریہ کرتے تھے اور سامعین بھی دیر تک گریہ کنان رہتے تھے۔

آغا صاحب کے تعمیر کردہ شاہکاروں میں سے امام بارہ آیۃ اللہ یوسفؒ بمنہ ایک عظیم شاہکار ہے۔ یہ بر صغیر ہندو پاک کے سب سے بڑے امام بارگاہوں میں سے ایک ہے۔ اس امام بارگاہ کی سنگِ بنیاد آغا صاحب نے ؁۲۰۰۶ ءمیں اپنے مبارک ہاتھوں سے رکھی تھی۔ اس تعمیر کیلئے آغا صاحب نے نہ فقط لوگوں کو چندہ دینے کیلئے راغب کیا بلکہ اپنی ملکیتی زمین وقف کرنے کے علاوہ بھرپور مالی نذرانہ بھی پیش کیا۔

سوس! ۲۹ جنوری ۲۰۱۸ ؁ ء کو یہ عالِم ربانی، مُبلّغِ اعظم، قاضی بے بدل، محسنِ قوم و ملت اور امانتدارِ زمانہ کئی کارہای نمایاں انجام دیکر داعِی اجل کو لبیک کہ گئے اور ہمیں داغِ مفارقت دے کر ہم سے ظاہری طور پر ہمیشہ کیلئے بچھڑ گئے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں