Download (8)

جج آئین اور قانون کے مطابق کسی بھی مقدمے کا فیصلہ کرتے ہیں
عدالت میں ایک بار فیصلہ سنانے کے بعد وہ فیصلہ قوم کی پبلک پراپرٹی بن جاتا ہے/ چیف جسٹس آف انڈیا
ملک میں ہمارے پاس ایک آئین ہے جو اظہار رائے کی آزادی کے حق کا تحفظ کرتا ہے

سرینگر //جج آئین اور قانون کے مطابق کسی بھی مقدمے کا فیصلہ کرتے ہیں کی بات کرتے ہوئے چیف جسٹس آف انڈیا ڈی وائی چندر چوڑ نے کہا کہ جج اپنے فیصلے کے ذریعے اپنے ذہن کی بات کرتے ہیں جو کہ فیصلے کے بعد پبلک پراپرٹی بن جاتی ہے اور آزاد معاشرے میں لوگ ہمیشہ اس کے بارے میں اپنی رائے دے سکتے ہیں۔ انگریزی خبر رساں ادارے پی ٹی آئی کے ساتھ خصوصی انٹرویو میں چیف جسٹس آف انڈیا ڈی وائی چندر چوڑ نے دفعہ 370 کو ختم کرنے کے سپریم کورٹ کے متفقہ پانچ ججوں کی بنچ کے فیصلے پر تنقید کا جواب دینے سے انکار کر دیااور کہا کہ جج آئین اور قانون کے مطابق کسی بھی مقدمے کا فیصلہ کرتے ہیں۔ چیف جسٹس آف انڈیا نے کہا کہ جج اپنے فیصلے کے ذریعے اپنے ذہن کی بات کرتے ہیں جو کہ فیصلے کے بعد پبلک پراپرٹی بن جاتی ہے اور آزاد معاشرے میں لوگ ہمیشہ اس کے بارے میں اپنی رائے دے سکتے ہیں۔انہوں نے کہا ’’جہاں تک ہمارا تعلق ہے ہم آئین اور قانون کے مطابق فیصلہ کرتے ہیں۔ میرے خیال میں تنقید کا جواب دینا یا اپنے فیصلے کا دفاع کرنا میرے لیے مناسب نہیں ہوگا۔ جو کچھ ہم نے اپنے فیصلے میں کہا ہے وہ دستخط شدہ فیصلے میں موجود وجہ سے ظاہر ہوتا ہے اور مجھے اسے اسی پر چھوڑ دینا چاہیے۔ ‘‘ خیال رہے کہ 11 دسمبر کو، سپریم کورٹ نے دفعہ 370 کو ختم کرنے کو برقرار رکھتے ہوئے جموں کشمیر میں ریاستی درجہ جلد بحال کرنے کے ساتھ ساتھ اسمبلی انتخابات منعقد کرانے کی آخری تاریخ 30ستمبر مقرر کردی ۔ انٹرویو کے دوران سی جے آئی چندرچوڑ نے کہا’’جج جو کیس کا فیصلہ کرتے ہیں وہ اپنے فیصلے کے ذریعے بولتے ہیں۔ ایک بار فیصلہ سنانے کے بعد وہ فیصلہ قوم کی پبلک پراپرٹی بن جاتا ہے۔ جب تک کوئی فیصلہ نہیں سنایا جاتا یہ عمل ان ججوں تک ہی محدود رہتا ہے جو اس کیس کے فیصلے میں شامل ہیں۔ ایک بار جب ہم کسی فیصلے پر پہنچ جاتے ہیں اور فیصلہ سنایا جاتا ہے تو یہ عوامی ملکیت ہے۔ یہ قوم کی ملکیت ہے۔ ہم ایک آزاد معاشرہ ہیں‘‘۔انہوں نے مزید کہا ’’ہمارے پاس ایک آئین ہے جو اظہار رائے کی آزادی کے حق کا تحفظ کرتا ہے۔ اور اس لیے لوگوں کو آزادی اظہار اور اظہار رائے کا حق حاصل ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں