Images (6)

47-50کے قریب سا بق ممبران اسمبلی ممبران قانون سازیہ پانچ کروڑ ستر لاکھ نکالے گئے لون کی رقم برسوں سے ادا کرنے سے ناکام

ساٹھ قسطوں میں لون کی رقم ادا کرنے قوائدو ضوابط کی منتخب نمائندوں نے دھجیاں اڑا دی

سرینگر // اس بات کاانکشاف ہوا ہے کہ نائب وزراء اعلیٰ ممبران اسمبلی سابق ممبران اسمبلی سابق قانون سازیہ کے ممبران ہاوسنگ لون اور گاڑیوں کے لئے نکالے گئے ایڈوانس کو برسوں سے اداکرنے میں ناکام سرکاری خزانے کو 570لاکھ روپے کے نقصان کاسامنا ،سابق نائب وزراء اعلیٰ نے ممبران اسمبلی اورممبران قانون سازیہ کے پینشن سے بھی نکالے گئے لون کی قسطہ نہیں کاٹی جارہی ہے جوحیرانگی کاعالم ہے ۔حق اطلاعات کے تحت سرکار نے اس بات کاانکشاف کیاہے کہ پچھلے تین دہائیوں سے پچاس سے زیادہ ایسے ممبران اسمبلی ممبران قانون سازیہ اور سا بق نائب وزراء اعلیٰ ہے جنہوںنے منتخب ہونے کے بعد سرکار کی جانب سے دی گئی راحت کواستعمال کرتے ہوئے مختلف مالیاتی اداروں سے رہائشی مکان تعمیرکرنے گاڑیاں خریدنے کیلئے لون حاصل کئے ہیں تاہم ایسے 47کے قریب سا بق منتخب ممبران اسمبلی نے بینکوں سے نکالے گئے لون کو برسوں سے ادانہیں کیاہے او رنہ ہی ان کی پینشن سے لون کی قسطے کاٹی جارہی ہے ۔مالیاتی اداروں کی جانب سے سابق ممبران اسمبلی ممبران قانون سازیہ کو اس طرح کی راحت کیوں دی جارہی ہے جس پر مختلف مکتب ہائی فکر سے تعلق رکھنے والے لوگوں نے حیرانگی کااظہارکیاکہ اگرغریبی کی سطح سے نیچے زندگی بسر کرنے والوں کوئی شخص بینک سے ایک لاکھ روپے کی لون حاصل کرتاہے تو ایسے ملازمین کی گارنٹی لازمی رکھی گئی ہے اور اگراسے کسی وجہ سے بینک کی قسطہ چھوٹ جائے تو ضمانت دینے والے سرکاری ملازم کی تنخواہ روک دی جاری ہے یا ان کی تنخواہ سے قسطہ کی رقم کاٹ کرلون میںجمع کی جاتی ہے اور مالیاتی ادارے اسے قوائد وضوابط کی سنجیدگی قرار دیتے ہے حالانکہ پچاس کے قریب سابق ممبران اسمبلی ممبران قانون سازیہ نے بغیرکسی گارنٹی کے بینکوں سے کروڑوں روپے لون حاصل کئے ہے اور انہوںنے ابھی تک اپنی لون کی رقم ادانہیں کی ہے حالانکہ جن ممبران اسمبلی نے لون حاصل کئے وہ اب بھی زندہ ہیں ان میں سے کئی ایک سرکاری کوٹھیوں پرقابض ہے اور اگرکوئی ممبر ان اسمبلی یاممبران قانون سازیہ وفات کرگئے پھر بھی ان کے پینشن کی رقم اداکر رہے ہیں اور مالیاتی اداروں کی جانب سے جو جانکاری فراہم کی گئی ہے اس کے مطابق پانچ کروڑسترلاکھ روپے سالہا سال سے ادانہیں کئے ہے جس کے نتیجے میں بینکوں یاسرکاری خزانے کو کافی مشکلات سے گزرنا پڑتاہے ۔مختلف مکتب ہائی فکر سے تعلق رکھنے والے لوگوں سے اس بات پر حیرانگی کااظہارکیااگرعام شہری ایک سے پانچ سال تک لون کی رقم ادانا کرے تو اس کے نام قرکی کرنے میں بھی پس و پیش نہیں کیاجاتایاا سے سرعام ذلیل کرنے کی کاروائیاںبھی عمل میںلائی جاتی ہے ۔چندماہ پہلے جموں و کشمیر بینک نے ستر سالہ بیوہ کو گھر سے باہر نکال دیااو رکئی رہائشی مکانوں کو سر بمہرکردیااور ان کی خطا اتنی تھی کہ وہ لون کی قسط اداکرنے سے قاصر رہے تھے ۔آر ٹی آئی جانکاری فراہم کرتے ہوئے مالیاتی اداروں نے کہاکہ فی الحال ایسے سابق ممبران اسمبلی یاممبران قانون سازیہ کے خلاف کسی بھی طرح کی قانونی چارہ جوئی کرنے کاارادہ نہیں ہے جب کہ ان کے نام کئی بار نوٹسیں بھی اجراء کی گئی ہے ۔ واضح رہے کہ جوممبران قانونی سازیہ یاممبران اسمبلی بینکوں سے لون حاصل کیا کرتے تھے انہیں ساٹھ قسطوں میں شرح کی سود پر لون کی رقم ادا کرنی لازمی ہے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں