Download (8)

34برسوں کے بعد مرکزی کابینہ نے نئی تعلیمی پالسی لاگو کرنے کے فیصلے کوہری جھنڈی دکھائی

دسویں جماعت کے لئے اب بورڈ امتحان نہیں ہوگا ایم اے کے بعد پی ایچ ڈی کرنے کی بھی اجازت ہوگی

سرینگر//34برسوں کے طویل عرصے کے بعد جموں وکشمیر سمیت ملک بھر میں نئی تعلیمی پالسی لاگو کرنے کومرکزی کابینہ نے منظوری دے دی نرسری سے لے کر پی ایچ ڈی تک قوائد وضوابط واضح کئے گئے مادری زبان طلبہ وطالبات کے لئے لازمی ہوگی نئی تعلیمی پالسی لاگو کرنے سے ملک کے نوجوانوں کودور جدیدکی چلینجوں سے نمٹنے میں آسانی ہوگی اور ملک کو ترقی کی منزلوںپرلے جانے او را سے ترقی یافتہ ممالک کی صف میںشامل کرنے میں مددملے گی ۔34برس پہلے مرکزی سرکار نے ملک بھر میں نئی تعلیمی پالسی عمل میں لانے کاارادہ ظاہرکیاتھا تا ہم پچھلے 34برسوں سے اس نئی تعلیمی پالسی کولاگوکرنے کے لئے حیلے بہانے تلاش کئے گئے اب مرکزی کابینہ نے نئی تعلیمی پالسی لاگوکرنے کے فیصلے کوہری جھنڈی دکھائی ۔نئی ایجوکیشن پالسی کیلئے قوائدوضوابط بھی واضح کئے گئے ۔نرسری کلاس کے لئے عمر کی حد پانچ سال مقررکردی گئی اورد سویں جماعت کے طالب علم کے لئے عمرکی حد 16سال لازمی قراردی گئی ۔دسویں جماعت کے لئے بورڈ امتحان ختم کرنے نویں سے بارہویں تک سمسٹرسسٹم متعارف کیاجائیگا ۔ایم اے کے بعد پی ایچ ڈی کے لئے خواہش مندامیدوار اپنی درخواستیں جمع کر سکتے ہیں اور اس کے لئے ایم فل اب لازمی نہیں ہوگا ۔نئی تعلیمی پالسی کااعلان کرتے ہوئے مرکزی وزارت تعلیم نے کہاکہ اسکولوں کالجوں ہائیرسیکنڈریوں میں طلبہ طالبات اور انتظامیہ کے لئے لازمی ہوگاکہ وہ انگریزی، ہندی اور دوسری زبانوں کے مضامین پڑھانے کے لئے اپنی خدمات انجام دے تاہم اسکولوں کالجوں یونیورسٹیوں میں انگیزی زبان کے ساتھ ساتھ مادری زبان میں بات چیت لازمی ہے اور طلبہ کو مادری زبان استعمال کرنے کی ہرممکن کوشش کرنی چاہئے تاکہ مادری زبانوں کوفروغ مل سکے ۔نئی ایجوکیشن پالسی سے طلبہ کواپنے پسندکے مضامین پڑھنے میںمددملے گی اور وہ اعلیٰ تعلیم کے لئے جاسکتے ہے جسے وہ اپنی ملک ریاستوں کے لئے بہترخدمات انجام دے پائینگے ۔نئی تعلیمی پالسی کے تحت نونہالوں کوچلینجوں سے نمٹنے کے لئے مدد ملے گی اور انہیں ملک کو ترقی یافتہ ممالک کے صف میںشامل کرنے کے لئے اپنی صلاحیتوں کابھرپورمظاہراہ کرنے کا بھی موقع ملے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں