F2eed1fc 53df 44c9 97c5 E0339a81f587

یوز اِن تھرو پلاسٹک پالیتھین لفافوں کااستعمال جاری متعلقہ ادارے خاموش

یوز اِن تھرو پلاسٹک پالیتھین لفافوں کااستعمال جاری متعلقہ ادارے خاموش

سرینگر// ماحولیات کو آلودگی سے بچانے اور ماحول کو آلودگی سے پاک رکھنے کے ضمن میںسرکار کی جانب سے اٹھائے جانے والے اقدامات بے معنیٰ ہوکر رہ گئے ہے نہ پالیتھین لفافوں کی خرید فروخت پر اور نہ ہی ان کے استعمال کرنے پر عائدکی گئی پابندی پر عمل کیاجارہاہے ہر دن گرمائی دارلخلافہ سرینگر میں ٹنوں کے حساب سے پالیتھین اور پلاسٹک اشیاء داخل ہورہی ہے اگریہ قانونی ہے تو پھر پابندی کس بات کی ۔دوکانداروں ریڈیاں لگانے والوں کی جانب سے دن بھر جو بھی اشیاء فروخت کی جاتی ہے وہی پالیتھین لفافوں میں فروخت کی جاری ہے ا ور متعلقہ اداروں کے افسران ہویاماتحت عملہ کہ یہ سب ان کے آنکھوں کے سامنے ہورہاہے ۔ جموںو کشمیرکے ایل جی کی جانب سے نشاط شالیمار میں الیکٹرانک بس سروس وادی کشمیرمیں شروع کرنے کے موقعے پر منعقد کی گئی تقریب پر تقریر کرتے ہوئے انہوںنے اس بات کی طرف لوگوں کی توجہ دلائی کہ ای بس سروس چلانا صرف لوگوں کوبہترٹرانسپورٹ سہولیا ت فراہم کرنا نہیں بلکہ گلوبل وارمنگ اور ماحولیات کی آلودگی کو بچانے کابھی مقصد ہے ۔انہوںنے کہاآہستہ آہستہ ملک میں ایندھن پرچلنے والی گاڑیوں کوہٹایاجارہاہے او رقانون کی جگہ الیکٹرانک گاڑیوں کواستعمال میں لاناوقت کی ضرورت بن گئی ہے جموں وکشمیر جسے قدرت نے خوبصورتی سے مالامال کیاہے میں کئی بار ماہرین نے گلوبل وارمنگ اور ماحولیات کی آلودگی کے بارے میں آگاہ کیا۔سرکار نے ان کے مشوروں پرکس حد تک عمل کی اس کے پس منظر میں جائے بغیر جموں و کشمیرمیں پالیتھین لفافوں اور پلاسٹک یوز ان تھرو اشیاء کے استعمال پر2019میں پابندی عائد کی گئی۔ 2020-2021-2022میں جموںو کشمیرکے ایل جی نے پولو ویو سرینگر میں سرینگر میونسپل کارپوریشن کی جانب سے منعقد کی گئی تقریبات کے دوران تمام اداروں پرزور دیاکہ وہ پلاسٹک سے بنی مصنوعات اورپالیتھین لفافوں کے کاروبار کو ناممکن بنانے کے لئے اقدامات اٹھائیں ۔تاہم جموں وکشمیرکے ایل جی کا یہ اعلان کس حدتک صحیح ہے اور اس پرعمل کی جارہی ہے یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے ۔وادی کے طول ارض میں پابندی عائد کرنے کے اعلان کے بعد پالیتھین لفافوں اور پلاسٹک یوز اِن تھرو اشیاء کے استعمال میں 20-25%کااضافہ ہوا ہے۔ عدالت عالیہ عدالت عظمیٰ جموںو کشمیر سرکار کی جانب سے جتنے بھی احکامات صادرکئے گئے ہیں ان سبہوں کوپاؤں تلے رندھاجارہاہے ۔متعلقہ ادارے اپنے فرائض منصبی انجام دینے کے لئے یاتو سنجیدہ نہیں ہے کچھ او رہے جسکی پردہ داری کی جارہی ہے کس طرح سے وادی کشمیرمیں ایسی اشیاء داخل کی جاتی ہے جسپرپابندی عائد کی جاتی ہے اور پھرکھلے عام اس کااستعمال ہورہاہے اور جن اداروں کوان اشیاء پر پابندی عائد کرنے کے لئے مقررکیاگیاہے وہ خاموش تماشائی بنے ہوئی ہیں۔ کیامتعلقہ اداروں میں تعینات ملازمین اس جموںو کشمیرسے تعلق نہیں رکھتے کیا ان کی شکم سیری سے ماحولیات آلودہ ہوجائے اراضی دلدل میں بدل جائے گلوبل وارمنگ اورماحولیات آلودہ ہوجائے کیاانہیں لوگوں کے جانوں کی ضیاں کی فکرنہیں ،افسوس تواس بات کاہے کہ ہر ایک انسان اس بات سے باخبر ہے کہ پالیتھین لفافوں اور یوز ان تھرو پلاسٹک کااستعمال کرنا جان لیوا ہے پھربھی اس کااستعما ل ہورہاہے اور سرکار اس چیز کوروکنے کے لئے اپنے جاری کئے گئے احکامات پر سنجیدگی کے ساتھ عمل کرانے میں مسلسل ناکام ثابت ہورہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق جس بڑے پیمانے پرپالیتھین لفافوں یوز اِن تھرو پلاسٹک کامسلسل استعمال ہورہاہے اس سے ماحولیات آلودہ ہورہاہے او رگلوبل وارمنگ کی زد میں وادی کشمیر تیز ی کے ساتھ آرہی ہے آبی پناہ گاہیں دلدل میں تبدیل ہورہی ہے قابل کاشت آبی اول اراضی نے فصلیں اُگاناچھوڑدی ہے اس سے بڑی بدقسمتی اور کیاہوسکتی ہے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں