Download (1)

ہندوستانی ہیں تھے اور رہے گے ہلاکتوں کی کارروائیاں سمجھ سے بالاتر /فاروق عبداللہ

سابق ایس ایس تین عام شہریوں پانچ فوجی جوانوں کی جانیں ضائع ہونا افسوس ناک /محبوبہ مفتی

سرینگر// ہم بھارت کا حصہ ہے تھے اور رہے گے کاایک دفعہ پھر قرار کرتے ہوئے سابق وزیر اعلی اورموجودہ ممبرپارلیمنٹ نے کہاکہ بارہمولہ میں سابق ایس ایس پی کی ہلاکت میں ملوث افرادکواسطرح کی کارروائیاں انجام دینے سے کیاملتاہے یہ سمجھ سے بالاترہے صورتحال انتہائی نازک ہے ۔مرکزی وزیر داخلہ کو پونچھ راجوری کادورہ کرنا چاہئے اور جموں وکشمیر میں بہترحالات کے جودعوے کئے جارہے ہیں وہ کھوکھلے ہے اور ایک اور سابق وزیراعلیٰ اور سابق وزیراعلیٰ نے ایس ایس پی کی ہلاکت پررنج وغم کااظہارکیاکہ معصوم شہریوں کی ہلاکتوں سے کچھ حاصل ہونے والانہیں ہے ۔مرکزی سرکار کی جانب سے کئے جانے والے دعوے بے بنیار ہے ۔ بارہمولہ میں گانٹہ مولہ کے علاقے میں سابق ایس ایس پی محمدشفیع میر کو مسجد میں آذان دیتے ہوئے نامعلوم مسئلح افراد کی جانب سے گولیوں کانشانہ بنانے کی شدید الفاظ میں مزمت کرتے ہوئے این سی کے صدر نے کہا کہ حملہ آوروں کوا سے کیاحاصل ہونے والا ہے یہ سمجھ سے بالاترہے۔ انہوںنے کہاجموںو کشمیر بھارت کاحصہ ہے تھااوررہے گااور اسطرح کی کارروائیاں انجام دینے والے جموںو کشمیرکے عوام کے دوست نہیں ہوسکتے ۔انہوںنے مرکزی سرکارکوہدف تنقید کانشانہ بناتے ہوئے کہاحالات بہترہونے کا دعوے کررہے ہیں سیاحوں کارَش بڑھ گیاہے کیا ا سطرح کے دعوے زمینی صورتحال سے میل کھاتے ہے ۔سابق وزیراعلیٰ نے کہاکہ آتنگ وادکو ختم کرنے کے لئے مرکزی سرکار کوسنجیدگی کے ساتھ اقدامات اٹھانے ہونگے ۔پولیس و فورسز کے بل پر عسکریت کوختم نہیں کیاجاسکتا ا س کے لئے منعظم او رٹھوس اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے ۔انہوںنے کہاکہ مرکزی سرکار کی پالسی سمجھ سے بالاتر ہے تمام حزب اختلاف پنچایت میونسپل اداروں نے الیکشن کے لئے تیار تھا کہ اچانک نوٹفکیشن واپس لے لی گئی اگرملک کے ہرایک علاقے میں الیکشن ہوتے ہے توجموںو کشمیرکے لوگوں کو اپنے نمائندے منتخب کرنے کی اجازت کیوں نہیںدی جاتی ہے ۔ادھر پی ڈی ڈی صدر محبوبہ مفتی نے گانٹہ مولہ بارہمولہ میں سابق ایس ایس پی کی نامعلوم مسئلح افراد کے ہاتھوں ہلاکت کوبہت بڑ اسانحہ قرار دیتے ہوئے کہاکہ جموںو کشمیرمیں حالات بہتر ہونے کادعوی ٰکرنے والوں کوزمینی صورتحال کے بارے میں کوئی جانکاری نہیں۔ انہوں نے پونچھ کے بفلیاز سرنکوٹ میں تین عام شہریوں کی پرُاسرارموت پانچ فوجی جوانوںکے جان بحق ہونے او رکئی افراد اب بھی حراست میں ہونے کی کارروائی کو سمجھ سے بالاتر قرار دیتے ہوئے کہاکہ عام لوگوں کو ظلم تشددکانشانہ بننا کس سماج میں جائز ہے ۔سابق وزیراعلی نے کہ بھارت جمہوری ملک ہے یہاں لوگوں کو اپنی بات پرُامن طورپرسامنے رکھنے کی اجازت ہے۔ انہوںنے بفلیاز کے مضافاتی علاقے میں کئی افرادکی گرفتاری کے بعد ان کے لواحقین کوان سے نہ ملنے کی اجازت دینے پرحیرانگی کااظہارکیا اور گور نر سے مداخلت کی اپیل کی۔ ادھرریاستی سکریٹری نے سابق ایس ایس پی کی ہلاکت اوربفلیاز پونچھ میں تین عام شہریوں کے جان بحق ہونے کوبہت بڑالمیہ قراردیتے ہوئے کہاایسے واقعات کی باریک بینی سے تحقیقات ہونی چاہے او رملوث افرادکوکیفرکردار تک پہنچایاجائے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں