Download (13)

ہندوستانی بحریہ میں شامل کرنا دفاعی شعبے میں ہندوستان کی خود انحصاری کو ظاہر کرتا ہے/ راجناتھ سنگھ

ہندوستان کی بڑھتی ہوئی معاشی اور اسٹریٹجک طاقت نے کچھ طاقتوں کو حسد اور نفرت سے بھر دیا ہے
قومی مفادات کے تحفظ کیلئے فوج کے تینوں خدمات کی جدید کاری پر یکساں زور دینا حکومت کی ترجیحات میں شامل

سرینگر// ہندوستان کی بڑھتی ہوئی معاشی اور اسٹریٹجک طاقت نے کچھ طاقتوں کو حسد اور نفرت سے بھر دیا ہے کی بات کرتے ہوئے وزیر دفاع راجناتھ سنگھ نے کہا کہ ہندوستانی بحریہ میں شامل کرنا دفاعی شعبے میں ہندوستان کی خود انحصاری کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ قومی سلامتی کے تئیں ایم ڈی ایل اور نیوی کے عزم کو ظاہر کرتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بحری قزاقی اور ڈرون حملوں سے نمٹنے کیلئے P-81طیارے، ڈورنیئرز، سی گارڈینز، ہیلی کاپٹر اور کوسٹ گارڈ کے جہاز مشترکہ طور پر تعینات کیے گئے ہیں۔ نیول ڈاکیارڈ میں منعقدہ ایک تقریب میں خطاب کرتے ہوئے وزیر دفاع راجناتھ سنگھ نے آئی این ایس امپھال کی بھارتی بحریہ میں شمولیت دفاع میں ’آتمنربھرتا‘ کی ایک روشن مثال ہے اور قومی سلامتی کے تئیں ہندوستانی بحریہ، ایم ڈی ایل اور دیگر تمام اسٹیک ہولڈرس کے عزم کی عکاسی کرتی ہے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہندوستان کی بڑھتی ہوئی معاشی اور اسٹریٹجک طاقت نے کچھ طاقتوں کو حسد اور نفرت سے بھر دیا ہے۔اس موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے کہا’’آئی این ایس امپھال ہندوستان کی بڑھتی ہوئی سمندری طاقت کی علامت ہے اور یہ اسے مزید مضبوط کرے گا‘‘۔وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ ہندوستان کی بڑھتی ہوئی اقتصادی اور اسٹریٹجک طاقت کچھ ممالک کو حسد اور نفرت سے بھر رہی ہے۔ انہوں نے بحیرہ احمر میں جہاز ’ایم وی سائی بابا’ پر حملے کو سنگین معاملہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا ’’آئی این ایس امپھال‘‘کو ہندوستانی بحریہ میں شامل کرنا دفاعی شعبے میں ہندوستان کی خود انحصاری کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ قومی سلامتی کے تئیں ایم ڈی ایل اور نیوی کے عزم کو ظاہر کرتا ہے۔ اس کی تعمیر میں تمام اسٹیک ہولڈرز کی محنت اور لگن شامل تھی۔ انہیں یقین ہے کہ بیڑے میں آئی این ایس امپھال کی شمولیت سے ہندوستانی بحریہ مضبوط ہوگی۔انہوں نے کہا کہ جب بھی کوئی کام کرتا ہے تو قوم کی بہتری کو ذہن میں رکھنا چاہیے۔راج ناتھ سنگھ نے قومی مفادات کے تحفظ کے لیے تینوں خدمات کی جدید کاری پر یکساں زور دینے کے حکومت کے عزم کو دہرایا، یہ کہتے ہوئے کہ پہلے کی حکومتیں صرف زمینی خطرات سے ملک کو بچانے پر توجہ مرکوز کرتی تھیں۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ شمال میں ہمالیہ اور مغرب میں پاکستان کے معاندانہ رویے کے ساتھ، ہندوستان کی زیادہ تر اشیا کی تجارت سمندر کے راستے ہوتی ہے، جو اسے ‘ تجارت’ کے نقطہ نظر سے ایک جزیرہ ملک بناتا ہے۔ انہوں نے بحریہ کی صلاحیتوں کو مسلسل ترقی دینے کی ضرورت پر زور دیا کیونکہ عالمی تجارت ہندوستان کے لیے اپنے قومی مفادات کے تحفظ کے لیے بہت اہمیت رکھتی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں