Download (6)

ہتھیاروں کی درآمد پر انحصار مہلک ثابت ہو سکتا ہے: وزیر دفاع راجناتھ سنگھ

سرینگر// وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے پیر کو کہا کہ ملک ہتھیاروں یا پلیٹ فارمز کی درآمد پر انحصار نہیں کر سکتا کیونکہ یہ حکمت عملی کے لحاظ سے مہلک ہو سکتا ہے اور مودی حکومت اقتدار میں آنے کے بعد سے ہی دفاعی شعبے میں خود انحصاری کو بڑھانے کے لیے متعدد اقدامات کررہی ہے پیر کو یہاں مانیک شا سنٹر میں ڈیف کنیکٹ 2024 کے دوران صنعتوں، صنعت کاروں، اختراع کاروں اور پالیسی سازوں کے ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے، سنگھ نے کہا، “خود انحصاری کے بغیر، ہندوستان اپنے قومی مفادات کے مطابق عالمی مدوں پر آزادانہ فیصلے نہیں لے سکتا ہے۔

وزیر دفاع نے کہا، ”اسٹریٹجک خود مختاری اسی صورت میں برقرار رکھی جا سکتی ہے جب ہتھیار اور سازوسامان ہندوستان میں ہمارے اپنے لوگ بنائے۔ ہم اس سمت میں کام کر رہے ہیں اور نتائج مثبت ہیں۔ جہاں 2014 میں ہماری ملکی دفاعی پیداوار تقریباً 44000 کروڑ روپے تھی، وہیں آج یہ ایک لاکھ کروڑ روپے کے ریکارڈ کو عبور کر چکی ہے اور مسلسل بڑھ رہی ہے۔ یہ تبدیلی ہماری مسلسل کوششوں کی وجہ سے آئی ہے۔انہوں نے کہا کہ گھریلو مینوفیکچرنگ کو فروغ دینے کے لیے کئی اقدامات کیے گئے ہیں، جس میں دفاعی سرمایہ کی خریداری کے بجٹ کا 75 فیصد ہندوستانی کمپنیوں کے لیے مختص کرنا بھی شامل ہے۔

سنگھ نے دفاعی پیداوار میں خود انحصاری حاصل کرنے کے لیے حکومت کی طرف سے کی جانے والی کوششوں پر روشنی ڈالی جس میں ہندوستان میں تیاریا تیار کیے جانے والے بڑے پلیٹ فارمز اور آلات کی مثبت مقامی فہرست کو مطلع کرنا بھی شامل ہے۔انہوں نے محکمہ دفاعی پیداوار کو یہ بھی مشورہ دیا کہ آنے والے برسوں میں ہمیں درآمد کی جانے والی اشیائ کی ایک چھوٹی منفی فہرست لانی چاہئے اور مکمل خود اعتمادی حاصل کرنے کے لئے اس فہرست کو ختم کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔وزیر دفاع نے اس بات پر زور دیا کہ حکومت اور تجارت ایک دوسرے پر منحصر ہیں اور پرائیویٹ سیکٹر کو پھلنے پھولنے کے لیے ایک پلیٹ فارم کی ضرورت ہے، جو حکومت کی جانب سے معیشت کو مضبوط کرنے کے ہدف کو حاصل کرنے کے لیے فراہم کیا جارہاہے۔

انہوں نے کہا کہ نجی شعبے کو ایک پلیٹ فارم فراہم کرنے کے لئے امن و امان، صحت مند اور ہنر مند افرادی قوت، قانون کی حکمرانی اور ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ ایکو سسٹم جیسے بہت سے پہلوو¿ں کی ضرورت ہے۔ معاشرہ اور حکومت مل کر ان ضروریات کو پورا کرتے ہیں تاکہ نجی شعبہ ترقی کر سکے اور معیشت کی پیداواری صلاحیت اور کارکردگی کو بڑھا سکے۔ وزیر دفاع نے کہا کہ اس ٹیکنالوجی میں یا تو دوسرے ممالک کی جدید اختراع کو اپنا کر یا خود اپنی ترقی کے ذریعے مہارت حاصل کی جا سکتی ہے۔ انہوں نے زوردے کر کہا کہ حکومت دونوں طریقوں پر کام کر رہی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں