1999307

کلام امامت، وحی خدا کا ترجمان ہوتا ہے؛ مولانا احمد علی عابدی

ممبئی//ہندوستان میں آیت اللہ سیستانی دام ظلہ کے وکیل مطلق، امام جمعہ خوجہ جامع مسجد اور حوزہ علمیہ جامعۃ الامام امیرالمومنین علیہ السلام “نجفی ہاؤس” ممبئی کے مدیر حجۃ الاسلام والمسلمین مولانا سید احمد علی عابدی نے امام وقت کی عظمت و بلندی پر روشنی ڈالتے ہوئے فرمایا کہ ہم امام کی زیارتوں اور دعاؤں میں پڑھتے ہیں زنۃ عرش اللہ و مداد کلماتہ وما احصاہ علمہ و احاط بہ کتابہ۔۔۔۔ وہ صلوات و سلام جو عرش سے بھی زیادہ عظیم ہے ہم صبح و شام اسے پڑھ کر ان کی عظمت کا اندازہ لگا سکتے ہیں۔

انہوں نے مزید وضاحت کرتے ہوئے فرمایا کہ امام کی عظمت و بلندی کو خود کلام معصومین علیہم السلام میں تلاش کیا جا سکتا ہے کلام امام وحی خدا کا ترجمان ہوتا ہے آپ کے کلام میں کوئی مبالغہ نہیں ہے۔ لیکن جو کلمات امام زمانہ عج کے سلسلے میں ملتے ہیں وہ کسی اور کے لئے نہیں ملتے۔ اگر صرف یہ ایک ہی حدیث پر غور کر لیا جائے تو امام وقت کی عظمت و بلندی خود بخود سمجھ میں آجائے گی جس میں صادق آل محمد علیہم السلام ارشاد فرماتے ہیں: ۔۔۔لو ادرکتہ لخدمتہ۔۔۔ اگر مجھے ان کا زمانہ مل جائے اور میں امام آخر کو درک کر لوں تو ساری زندگی ان کی خدمت کرتا رہوں۔۔۔ یعنی امام صادق علیہ السلام کچھ دیکھ رہے ہیں۔

انہوں نے آیۃ اللہ صافی طاب ثراہ کی ایک حدیث نقل کرتے ہوئے فرمایا کہ جو کہ راوی سدیر صیرفی سے ہے۔ کہتے ہیں ایک دن ہم امام جعفر صادق علیہ السلام کی خدمت میں باریاب ہوئے۔ دیکھا امام زار زار آنسو بہا رہے ہیں اور فرما رہے ہیں: سَیِّدِی! غَیْبَتُکَ نَفَتْ رُقَادِی، وَضَیَّقَتْ عَلَیَّ مِهَادِی، وَابْتَزَّتْ مِنِّی رَاحَةَ فُؤَادِی. سَیِّدِی! غَیْبَتُکَ أَوْصَلَتْ مُصَابِی بِفَجَائِعِ الْأَبَدِ، وَفَقْدُ الْوَاحِدِ بَعْدَ الْوَاحِدِ یَفْنِی الْجَمْعَ وَالْعَدَدَ …؛ امام کسی کو اپنا سید و سردار کہیں۔۔۔ اے میرے سردار، اے میرے آقا۔۔۔ آپ کی غیبت نے میری آنکھوں کی نیند اڑا دی ہے میرے چین و سکون کو چھین لیا ہے۔ سدیر صیرفی کہتے ہیں میں تو امام کی یہ بات دیکھ کر گھبرا گیا اور مین نے امام سے کہا مولا آپ تو ایسے رو رہے ہیں جیسے آپ کے ساتھ کوئی بہت بڑا حادثہ ہو گیا ہو۔۔ امام علیہ السلام نے فرمایا: آج میں کتاب جفر پڑھ رہا تھا اس میں میں نے اپنے آخری کی غیبت کو دیکھا۔

وہ امام جس کا اتنا درجہ ہو اج وہ امام ہمارے درمیان سب سے زیادہ مظلوم ہے ، سب سے کم اگر کسی کا تذکرہ ہے تو اسی امام کا ہے۔ ہمارے ساتھ کوئی مشکل ہوتی ہے، کوئی پریشانی آتی ہے تو ہمہم ہر در پہ جاکر حاضری دیتے ہیں مگر فرزند زہرا سے اپنی مشکلات کو بیان نہیں کرتے۔ جبکہ فرزند زہرا سلام اللہ علیہا کے در پہ جانے کے لئے ہمیں کہیں جانے کی ضرورت نہیں ہے بلکہ صرف مصلے تک جانے کی ضرورت ہے۔ مصلے پر بیٹھ کر کے کہیں السلام علیک یا صاحب الزمان۔۔ وہ ہمارے باپ ہیں بلکہ وہ ہمارے باپ سے زیادہ شفیق ہیں ہماری ماؤں سے زیادہ مہربان ہیں، یہ پوری کائنات ان کے ہاتھوں پر اسی طرح ہے جیسے کسی کے ہاتھ میں سکہ رکھا ہو۔ وہ مٹی کو سونے اور پتھر کو ہیرے میں بدلنے کی طاقت رکھتے ہیں۔ اور اج جو کچھ ہمارے حصے میں ہے وہ سب امام وقت کی نسبت سے ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں