Download (14)

کشمیر میں چلہ کلان کا نصف حصہ تو بیت گیا لیکن لوگ اور سیاح برف باری کے انتظار میں بے قرار

کشمیر میں دہلی سمیت ملک کی کئی ریاستوں کے مقابلے میںزیادہ درجہ حرارت ریکارڈ، ماہرین نے قبل از وقت ہی شگوفے پھوٹنے کا امکان ظاہر کیا

سری نگر //وادی کشمیر میں زمستانی ہوائوں اور بھاری باری کے لئے مشہور چالیس روزہ چلہ کلان کا نصف حصہ تو بیت گیا لیکن اہلیان وادی اور یہاں موجود غیر مقامی سیاح برف باری کے انتظار میں بے قرار نظر آ رہے ہیں۔محکمہ موسمیات کے مطابق وادی کشمیر میں 20 جنوری تک وسیع پیمانے پر برف باری ہونے کا کوئی امکان نہیں ہے۔وادی کشمیر میں جاری خشک موسمی صورتحال کی حد یہ ہے کہ یہاں دن کے دوران دہلی سمیت ملک کے کئی علاقوں سے زیادہ گرمی محسوس کی جا رہی ہے۔محکمہ موسمیات کے مطابق سری نگر میں منگل کے روز درجہ حرارت 14.2 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا جو معمول سے 8.1 ڈگری سینٹی گریڈ زیادہ ریکارڈ ہوا تھا جبکہ اس دن دہلی کا درجہ حرارت صرف 13.4 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ ہوا تھا۔وادی کشمیر میں جاری خشک موسمی صورتحال سے نہ صرف یہاں مختلف شعبہ ہائے حیات متاثر ہو رہے ہیں بلکہ غیر مقامی سیاحوں میں بھی مایوسی دیکھی جا رہی ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ خشک موسمی صورتحال سے وادی میں جہاں ایگریکلچر اور ہار ٹیکلچر کے شعبوں پر منفی اثرات مرتب ہوسکتے ہیں وہیں شعبہ سیاحت بھی متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا ہے۔محکمہ موسمیات کے ایک عہدیدار کا کہنا ہے کہ وادی میں جاری خشک موسمی صورتحال کے دور رس نتائج بر آمد ہوسکتے ہیں۔انہوں نے کہا: ‘پانی کی قلت سے ایگریکلچر کے شعبے پر منفی اثرات مرتب ہوسکتے ہیں اور شعبہ ہارٹیکلچر بھی متاثر ہوسکتا ہے خشک موسم سے درختوں پر شگوفے قبل از وقت پھوٹ سکتے ہیں جس سے میوہ کو نقصان ہوسکتا ہے’۔محکمہ جل شکتی کے مطابق خشک موسمی صورتحال کے نتیجے میں وادی کے دریائوں اور ندی نالوں میں پانی کی سطح کم ہو رہی ہے جو آگے پانی کی قلت کا باعث بن سکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر موسم کی یہی صورتحال جاری رہی تو آگے دھان جیسی فصل اگانے کے لئے کٹھن مشکلات در پیش ہوں گے۔شعبہ سیاحت سے جڑے لوگوں کا کہنا ہے کہ خشک موسم وادی میں شعبہ سیاحت کو متاثر کر سکتا ہے۔جی ایم ڈار نامی ایک ٹراول ایجنٹ نے کہا: ‘برف باری سے لطف اندوز ہونے کے لئے غیر مقامی سیاح یہاں آنے کا پلان بناتے ہیں لیکن یہاں صورتحال ایسی ہے کہ یہاں موجود سیاح برف باری نہ ہونے کی صورت میں واپسی کا سامان باندھ رہے ہیں’۔انہوں نے کہا کہ یہاں غیر مقامی سیاحوں میں مایوسی دیکھی جا رہی ہے اور یہ لوگ دوسرے علاقوں جہاں برف باری ہوتی ہے، کا رخ کرنے کا پلان بنا رہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ یہ اس صورتحال سے مختلف شعبوں سے وابستہ لوگوں کا روز گار متاثر ہو سکتا ہے۔ماہرین کے مطابق وادی میں خشک موسمی صورتحال جنگلات اور بستیوں میں آتشزدگی کے واقعات میں اضآفے کی ایک وجہ ہے۔حکام کے مطابق جموں وکشمیر کے کئی جنگلات میں آتشزدگی کے واقعات میں اضافہ درج ہو رہا ہے اور سٹیلائٹ سے حاصل شدہ معلومات کے مطابق 10 زیادہ جنگل آگ کی لپیٹ میں ہیں۔محکمہ فائر اینڈ ایمر جنسی کے مطابق پچھلے چوبیس گھنٹوں کے دوران وادی کے شمالی ، جنوبی اور وسطی کشمیر میں آگ کی الگ الگ وارداتوں میں چھ رہائشی مکان، شاپنگ کمپلیکس ، دو شیڈ ، تین گائو خانے اور تین دکانیں خاکستر ہوئے ہیں۔غلام حسین نامی ایک سبکدوش لیکچرر نے بتایا کہ کشمیر جہاں اپنے قدرتی حسن و جمال کے باعث مشہور ہے وہیں موسم سرما کے دوران بھاری برف باری کی وجہ سے بھی یہ خطہ شہرت کا حامل ہے۔انہوں نے کہا: ‘برف باری بھی ہماری ایک پہچان اور شان ہے اس کے بغیر چلہ کلان کی اہمیت ہی کیا ہے اور سب سے بڑھ کر برف باری ہی کشمیر کے خاص طور پر کسانوں کی لائف لائن ہے’۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں