Download

کشمیر سے لیکر جموں تک ’’ایکسپرس وے ‘‘ تعمیر کرنے کا منصوبہ ۔ مرکزی وزیر نتن گڈکرے

جموں کشمیر کو عالمی سیاحتی مقام بننے کے تمام تقاضوں کو پورا کیا جائے گا ، سڑک رابطوں کو بہتر بنانے ترجیح
جموں و کشمیر میں ہائی وے، روپ وے پروجیکٹوں کے لیے 2,093 کروڑ روپے کی منظوری دی

سرینگر//مرکزی وزیر نتن گڈکری نے جموں و کشمیر میں دو شاہراہوں کو چوڑا کرنے اور ایک روپ وے پروجیکٹ کے لیے 2,093.92 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔اس موقعے پر انہوںنے بتایا کہ جموں کشمیرمیں بہتر سڑک رابطے کیلئے مرکزی سرکار پر عزم ہے اور یہاں کی سڑکوں کوامریکہ کی سڑکوں کے طرز پر بنانے کیلئے منصوبہ تیار کیا جارہا ہے تاکہ جموں کشمیر عالمی سیاحتی مقامی بننے کے تمام تقاضوں کو پورا کرسکے ۔ اس منصوبے میں کشمیر سے لیکر جموں تک ’’ایکسپرس وے‘‘ تعمیر کرنے کا بھی منصوبہ ہے ۔ جبکہ اس منصوبے کے تحت پہلے ہی کٹرا ، پنجاب اور ممبئی کے درمیان ’’ایکسپرس وے ‘‘ آخری مرحلے میں ہے ۔ سرینگر ضلع میں ایس ڈی اے پارکنگ ( زبروان پارک) سے شنکراچاریہ مندر تک 1.5 کلومیٹر روپ وے بنانے کے لیے 126.58 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔ وائس آف انڈیا کے مطابق مرکزی وزیر برائے روڈ ٹرانسپورٹ اور ہائی ویز نتن گڈکری نے جمعہ کو اعلان کیا کہ جموں و کشمیر میں دو شاہراہوں کو چوڑا کرنے اور ایک روپ وے پروجیکٹ کے لیے 2,093.92 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔انہوںنے اس ضمن میں بتایا کہ مرکزی سرکار جموں کشمیر میں بہتر سڑک رابطوں کی طرف ترجیحی بنیادوں پر توجہ دی رہی ہے ۔ وزیر نے کہا کہ جموں و کشمیر میں قومی شاہراہ 701 کے رفیع آباد ، کپواڑہ ، چوکیبل،ٹنگڈار،چھمکوٹ سیکشن کو چوڑا اور بہتر بنانے کے لیے 1404.94 کروڑ روپے کی منظوری دی گئی ہے ۔ نتن گڈکری نے کہاکہ جموں کشمیر کو عالمی سیاحتی مقام کے طور پر ترقی دی جارہی ہے اور عالمی سیاحتی مقام بننے کے تمام تقاضوں کو پورا کرنے کیلئے مرکزی سرکار سڑک رابطے کے ایک منصوبے کو تیار کررہی ہے جس میں کشمیر سے لیکر جموں تک ’’ایکسپرس وے‘‘ تعمیر کرنے کا بھی منصوبہ ہے ۔ جبکہ اس منصوبے کے تحت پہلے ہی کٹرا ، پنجاب اور ممبئی کے درمیان ’’ایکسپرس وے ‘‘ آخری مرحلے میں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پیکیج I کے تحت انجینئرنگ، پروکیورمنٹ اور کنسٹرکشن (EPC) موڈ پر بارہمولہ اور کپواڑہ اضلاع میں پروجیکٹ بیکن کے تحت انجام دی گئی اس پہل کا مقصد 51 کلومیٹر کے راستے کو دو لین میں تبدیل کرنا ہے۔ ہائی وے خطے میں رسد کے لیے بہت اہم ہے کیونکہ یہ بارہمولہ اور کپواڑہ اضلاع کو جوڑنے والے اسٹریٹجک راستے کا ایک حصہ ہے۔ یہ ایک اہم کردار ادا کرتا ہے اور بین الاقوامی سرحد کے قریب شمالی کشمیر میں سیاحت کے شعبے کی ترقی کے لیے لازمی ہے۔گڈکری نے کہا کہ سرینگر ضلع میں ایس ڈی اے پارکنگ ( زبروان پارک) سے شنکراچاریہ مندر تک 1.5 کلومیٹر روپ وے کی ترقی، آپریشن اور دیکھ بھال کے لیے 126.58 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔جس میں 700 افراد کو فی گھنٹہ فی سمت لے جانے کی صلاحیت ہوتی ہے۔ یہ پروجیکٹ سری نگر شہر اور ڈل جھیل کا ایک خوبصورت منظر پیش کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے، جو ایک محفوظ اور آسان نقل و حمل کے ذرائع فراہم کرتا ہے۔ یہ معذور افراد اور بزرگ شہریوں کے لیے مندر جانے کے لیے آسان رسائی کو یقینی بناتا ہے، سفر کے وقت کو تقریباً 30 منٹ سے کم کر کے تقریباً 5 منٹ کر دیتا ہے۔ یہ نقل و حمل کے لیے ایک ماحول دوست موڈ کے طور پر کام کرتا ہے، مقامی آبادی کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرتا ہے، اور سیاحت کو بڑھا کر خطے کو اقتصادی فوائد پہنچاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ قومی شاہراہ 244 کے ناشری چنانی سیکشن کی اپ گریڈیشن اور مضبوطی کے پروجیکٹ کے لیے 562.40 کروڑ روپے مختص کرنے کی بھی منظوری دی گئی ہے۔ ادھم پور اور رامبن اضلاع میں 39.1 کلومیٹر پر محیط یہ اقدام نیشنل ہائی وے (O) کے تحت EPC موڈ پر کام کرتا ہے۔سڑک کا اضافہ جموں کے ایک سیاحتی مقام، پٹنی ٹاپ سے بہتر رابطہ فراہم کرنے کے لیے تیار ہے، جو خطے کی اقتصادی ترقی کو فروغ دے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں