Download (14)

کشمیر دشمنوں کے عزائم صحیح نہیں، یہ لوگ جموں وکشمیر کے تشخص کو نیت و نابود کرنا چاہتے ہیں/ فاروق عبد اللہ

جموں وکشمیر میں امن، ترقی، خوشحالی اور فارغ البالی کی نئی صبح ضرور طلوع ہوگی

سرینگر // مہذب اورامن پسند اقوام نے اتحاد و اتفاق، قومی جذبہ اور وطنی پرستی کی بنیاد پر دنیا میں اپنے ممالک کا نام روشن کرکے ترقی پذیر بنایا اور اپنی نئی نسلوں کیلئے ایک خوشگواراورفارغ البال ماحول میسر رکھا۔ جموں وکشمیر کے موجودہ گوناگوں حالات کو دیکھتے ہوئے ہم پر یہ فرض بنتا ہے کہ ہم اتحاد واتفاق کا مظاہرہ کریں اور ذاتی مفادات کے بجائے قومی مفادات کو ترجیح دیکر اپنی آنے والی نسلوں کیلئے ایک بہتر کل کی داغ بیل ڈالیں۔ ان باتوں کا اظہار صدرِ جموں وکشمیر نیشنل کانفرنس ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے آج پارٹی ہیڈکوارٹر پر حلقہ انتخاب حضرت بل کے ڈیلی گیٹ حضرات کے ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس سے پارٹی جنرل حاجی علی محمد ساگر نے بھی خطاب کیا جبکہ تقریب کا اہتمام انچارج کانسچونسی حضرت بل سلمان علی ساگر نے کیا تھا۔ اجلاس میں پارٹی سرگرمیوں، تنظیمی پروگراموں کے علاوہ لوگوں کے مسائل و مشکلات کے بارے میں بھی سیر حاصل بحث کی گئی۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہاکہ ’’میں عوام سے اپیل کرتا ہوںکہ اگر وہ واقعی اس پُرآشوب، نامساعد اور ظلم و ستم کے دور سے نجات چاہتے ہیں تو اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لیں، آپسی رنجشوں کو ترک کرکے اپنی صفوں کو مضبوط کریں، اتحاد و اتفاق کا مظاہرہ کرکے خود میں صبر و تحمل اور عزم و استقلال اور حب الوطنی کا جذبہ پیدا کریں۔ اسی میں ہماری کامیابی اور کامران ی کا راز مضمرہے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ جمہوری نظام کی عدم موجودگی میں جموں وکشمیر کے عوام کو اس وقت سخت ترین انتظامی مشکلات کا سامنا ہے اور افسر شاہی لوگوں کو راحت ملتی نظر نہیں آرہی ہے۔ اس بات میں کوئی دورائے نہیں کہ ہم اس وقت ایک مشکل ترین دور سے گزر رہے ہیں لیکن ہمیں ہر حال میں صبرو تحمل ،ثابت قدم اور پُرعزم رہنے کی ضرورت ہے، انشاء اللہ جموں وکشمیر میں امن، ترقی، خوشحالی اور فارغ البالی کی نئی صبح ضرور طلوع ہوگی۔ ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا کہ ہمارے حوصلے پست نہیں ہوئے ہیں، ہم اپنے اصولوں پر چٹان کی طرح قائم و دائم ہے اور اپنی حقوق واپس لے کر ہی دم لینگے۔ انہوں نے کہاکہ کشمیر دشمنوں کے عزائم صحیح نہیں، یہ لوگ جموں وکشمیر کے تشخص کو نیت و نابود کرنا چاہتے ہیں۔ان لوگوں نے اپنے عزائم کو پورا کرنے کیلئے کشمیر میں اپنے آلہ کاروں کو کام پر لگا رکھا ہے اور طاقت و پیسے کے بلبوتے پر اپنے منصوبوں کو عملی جامہ پہنچانے کیلئے کوشاں ہیں۔ لیکن کشمیریوں کو بالغ النظری اور ہوشیاری سے کام لیکر قوم دشمنوں کو مسترد کرنا ہے۔ یہ لوگ ہمیں مذہبی، علاقائی، لسانی یہاں تک کہ مسلکی بنیادوں پر تقسیم کرنے چاہتے ہیں۔ ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا کہ جموں وکشمیر کے عوام کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اپنے وطن کیخلاف ہورہی ہر ایک سازش کا مقابلہ کرے ۔پارٹی جنرل سکریٹری حاجی علی محمد ساگر نے پارٹی عہدیداروں اور کارکنوں کو ہدایت کی کہ وہ لوگوں کے ساتھ قریبی رابطہ رکھیں اور ان کے مسائل و مشکلات اُجاگر کرنے اور ان کا سدباب کرانے کیلئے اپنی کوششیں جاری رکھیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں