Download (6)

کشمیری دستکاری تمدن ثقا فت کی نشانی معاشی اور اقتصادی بہتری کی ضمانت

سرمائی کھیل 21سے شروع ہونگے ،غذائی اجناس کی قیمتیں مقرر کرنا اب سرکار کے بس میں نہیں /صوبائی کمشنر

سرینگر // گھریلودستکاریوں کو اونچائیو ں پر لے جانے کا اراد ہ ظاہر کرتے ہوئے صوبائی کمشنر نے کہاکہ گھریلیوں دستکاری کی ثقافت کی نشانی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس صنعت سے وابستہ لوگوںکو دور جدید کے تقاضوں کے مطابق ڈالنے کا فیصلہ کیاہے۔اے پی آئی نیوز کے مطابق ہینڈی کرافٹس سے تیار کی جانے والی مصنوعات کو اہمیت کاحامل قرار دیتے ہوئے صوبائی کمشنر نے کہاکہ دور جدید میں کشمیر وادی کی دستکاری کو بین الاقوامی سطح پرجو پذ رائے حاصل ہورہی ہے وہ مستقبل کے حوالے سے خواہش آئیند ہے او رجموںو کشمیر سرکار نے دستکاری کو بین الاقوامی سطح پرمتعارف کرانے کے لئے متحد اقدامات اٹھائے ہیں ۔انہوںنے کشمیری دستکاری میںنمایاں کار کردگی کامظاہراہ کرنے پر شہر خاص کے غلام نبی ڈار کو پدم شری اعزاز سے نوازنے کی ذکر کرتے ہوئے کہاکہ اس صنعت میں روز گار کے مواقعے دستیاب ہے اور ہینڈی کرافٹس ڈیپارٹمنٹ نے جس بڑے پیمانے پرکشمیری دستکاری کو منظر عام پر لانے کے اقدامات اٹھائے ہیں وہ اطمنان بخش ہے ۔صوبائی کمشنر نے ہینڈی کرافٹس کی جانب سے قائم کی گئی نما ئش کو وادی کشمیرکے لوگوں کیلئے اہمیت کاحامل قرار دیتے ہوئے کہاکہ کشمیری دستکاری سے وابستہ لوگوں کوچاہئے کہ اپنی صلاحیتوں کابھر پور مظاہراہ کرے یہ دستکاری معاشی اور اقتصادی حالت کوبہتربنانے میں معاون ثابت ہورہی ہے ۔ماضی میںا س نے لوگوں کوروز گا رسے سرفراز کیاہے اور مستقبل میں یہ جموںو کشمیرکی امدانی کے لئے ایک بڑا وسیلہ ثابت ہوسکتی ہے ۔صوبائی کمشنر نے 21ستمبر سے سرمائی کھیلوں کا آغاز ہونے کی ذکر کرتے ہوئے کہاکہ انتظامات مکمل کر لئے گئے ہے وادی کے تمام صحت افزاء مقامات میں بنیادی ضرورتوں کوپورا کرنے کیلئے ہرممکن اقدامات اٹھائے گئے ہیں ۔ا ن مقامات پرابھی بھی سہولیت کی عدم دستیابی ہے ان مقامات پرترجیحی بنیادو ںپرسہولیات فراہم کرنے کے لئے اقدامات اٹھانے چاہئے ۔وادی کشمیرمیں قیمتوں کواعتدال پررکھنے کے لئے مورصارفین عوامی تقسیم کاری محکمہ کی خاموشی پرپوچھے گئے سوال کے جواب میں انہوںنے کہاکہ ہرایک معاملے میں مداخلت نہیں کی جاسکتی ہے ۔جہاں انہیں اجازت دیگا وہی مداخلت کی جائیگی بازار کمیٹیوں کواختیار دیاگیاہے کہ وہ نرخ مقرر کرے جولوگوں کوقا بل قبول ہو ۔صوبائی کمشنرنے کہاکہ وادی میں کسی بھی چیز کی کوئی کمی نہیں سرحدی علاقوں میں چاول، آٹا،مٹی کاتیل ،چینی ،رسوئی گیس کاپہلے ہی زخیرہ کیاگیاہے اگرکسی علاقے میں کسی بھی طرح کی کوئی شکایت ہو وہ صوبائی انتظامیہ کی نوٹس میں لایاجائے تاکہ فوری طور پراقدامات اٹھائے جاسکے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں