2031585

پیغام رمضان؛ برصغیر کے ثقافتی پہلو اور خواتین پر ظلم

پیغام رمضان؛ برصغیر کے ثقافتی پہلو اور خواتین پر ظلم

تحریر: سید ارتضا حسن رضوی

کیا ہماری توجہ ہے کہ ہمارے گھر کی خاتون سحری میں سب سے پہلے جاگتی ہے اور سب گھر والوں کے لیئے سحری تیاری میں مصروف ہو جاتی آخر وقت تک تازہ تازہ کھانا پیش کرتی ہے اور با مشکل خود اسکو سحری نصیب ہوتی ہے۔معنوی پہلوؤں کو تو بھول ہی جائیں کونسی نماز شب اور کونسی دعائیں؟ عورت پر سے تو گویا یہ سب ساقط ہے کس نے ساقط کیا ہمارے کھانے پینے کے خاص برصغیر کے کلچر نے ابھی رک جائیں ابھی جان کہاں چھوٹی سب سورہے ہیں اور روزہ دار خاتون خانہ کو بچوں کو ناشتہ کرواکر اسکول بھی تو بھیجنا ہے ، چلیں جی بچوں کو اسکول بھیج دیا اب تو آرام کرلے، بھئی برتن بھی تو دھونے ہیں، گھر کی صفائی بھی تو کرنا ہے اور سب سے اہم دوپہر کو بچے اسکول سے لوٹیں گے انکے کھانے کا کیا ہوگا؟ لوجی پھر سے کھانا پکانے کی تیاری شروع کردو….

کیا بات یہاں ختم ہوگئی ؟ نہیں ظہرین کی نماز پڑھ کر ایک قرآن ختم کرنے کی خواہش میں ایک سپارہ قرآن تو پڑھنا بنتا ہے آخر مردوں نے تو قرآن ختم نہیں کرنا اس قرآن کی برکتوں سے گھر والوں کو فیض پہچانے کی ذمہ داری بھی خاتون کی ہے۔

لو جی اب افطاری کا ٹائم ہورہا ہے لمبا سا دسترخوان اور اس پر بھانت بھانت کے پکوان آخر سب کی خواہشیں پورہ کرتے کرتے مغرب کی اذان ہوجائے گی تو چلیں پھر کولھو کے بیل کی طرح جت جاؤ، 4 بج گئے ہیں افطاری اور کھانے کی تیاری شروع چاول۔ سالن۔ کباب- پکوڑے۔ چھولے، دھی بڑھے انواع اقسام کی چٹنیاں وغیرہ ارے وہ میٹھے کا کیا ہوگا اس کے بغیر تو میاں صاحب کی افطاری ہی مکمل نہیں ہوگی اسی سب میں مغرب کی اذان اور ادھر آخری وقت تک گرم گرم روٹیاں اور ساتھ میں یہ ڈر بھی لگا رہتا ہے کہیں کسی چیز میں کمی نہ رہ جائے کسی کے منہ سے گلا شکوہ نہ سننا پڑے

ساس اور سسر کے پرھیز کا کھانا الگ اور ساتھ ساتھ افطاری سے پہلے شوہر کا کیچن میں آکر الٹے سیدھے کمنٹس کرنا اور زیادہ ٹینش پھیلانا۔ دسترخوان سے اٹھتے ہوئے تعریف تو دور کی بات پیٹ بھر کر ڈکاریں لینا اور چائے یا لسی کی اضافی فرمائش بھی تو خاتون خانہ نے ہی پوری کرنی ہے؟ نمک کم ہے، میٹھا زیادہ ہے ، مرچیں اتنی بھر کر ڈال دیں شربت صحیح سے ٹھنڈا نہیں تھا پیاس ہی نہیں بجھی جیسے کمنٹس سننے کے باوجود کل پھر سحری کی تیاری کے مقدمات آٹا گوندنا، سالن کی تیاری دودھ جلیبی بھی تو سحری کے لئے تیار کرنا ہے لیکن اس سے پہلے ڈھیر سارے برتن تو دھولے اور کیچن بھی تو خاتون خانہ ہی نے صاف کرنا ہے۔ اور صبح سب کو سحری کے لئے بھی تو اٹھانا خاتون خانہ کے ہی ذمہ ہے اور اگر کوئی دیر سے اٹھ گیا اور صحیح سے سحری نہ کرپایا تو بھی تو قصور خاتون خانہ ہی ٹہریں “ہائے ہماری سحری پوری نہیں ہوئی اب روزہ کتنا سخت گزرے گا”۔

کیا کسی کو پرواہ ہے کہ خاتون خانہ نے کب کھایا کیا کھایا کیسے کھایا، رمضان کی عبادات پر کیسے پہنچیں، نیند کیسے پوری کی؟ اور ایک دن کی بات نہیں پورے تیس دن یہی روٹین اور عید کے دن بھی انکو آرام نصیب نہیں عید سے پہلے بچوں کی عید کی تیاری اور عید کے دن کے خصوصی پکوان نہ بنے تو عید کیسی؟ اور مہمانوں کو بھی تو انہوں نے ہی دیکھنا ہے …..

کیسے ظالم ہیں گھر کے سب افراد، کسی کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی نہ بچوں کو خیال نہ بڑوں کو پرواہ …..اس خدا کی بندی کو خدا کی بندگی بھی صحیح سے نہیں کرنے دیتے، اپنی بندی جو بنالیا ہے…..

کیا ہم سے خدا سوال نہیں کریگا؟

اس مرتبہ ماہ رمضان شروع ہونے سے پہلے ہی اپنا قبلہ درست کرلیں کیونکہ اگر اس بیچاری کو آپ سب کے تعاون سے کچھ وقت ملا تو بھی تو آپکے لئے ہی خدا سے دعائیں مانگے گی تو سوچ کیوں رہے ہیں اٹھیں نہ کاموں کی تقسیم کی لسٹ بنائیں اور خدا کے سامنے سب مل کر سرخرو ہوجائیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں