Download (11)

پاکستان کے ساتھ لگنی والی سرحد پر دراندازی صفر تک پہنچ گئی ہے کیونکہ سرحدوں پر تعینات فوج چوکس / منوج پانڈے

چین کے ساتھ لگنی والی سرحد پر صورتحال ’’ مستحکم لیکن حساس ‘‘ ، صورتحال پر گہری نگاہ اور نگرانی رکھنے کی ضرورت
فوج کو ہر سطح پر مضبوط کرنے کی ضرورت ،کسی بھی جگہ کسی بھی طرح کوئی بھی کارروائی کرنا کوئی مشکل نہیں

سرینگر // چین کے ساتھ لگنی والی سرحد پر صورتحال ’’ مستحکم لیکن حساس ‘‘ ہے کی بات کرتے ہوئے فوجی سربراہ جنرل منوج پانڈے نے کہا کہ مشرقی لداخ میں صورتحال پر گہری نظر رکھنے اور نگرانی کرنے کی ضرورت ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کے ساتھ لگنی والی سرحد پر دراندازی صفر تک پہنچ گئی ہے کیونکہ سرحدوں پر تعینات فوج چوکس ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ سرحدی پر ایسے آلات نصب کئے گئے ہیں جس سے دراندازی کی کوششیں ناکام بنائی جاتی ہے۔ سی این آئی کے مطابق انڈیا ٹوڈے کانکلیو 2024 کے ایک حصے کے طور پر منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے فوجی سربراہ جنرل منوج پانڈے نے کہا کہ مشرقی لداخ میں حقیقی کنٹرول لائن کے ساتھ کی صورتحال ’’مستحکم لیکن حساس‘‘ ہے اور اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ حقیقی کنٹرول لائن کے ساتھ فوجیوں اور دیگر ایجنیوں کی تعیناتی انتہائی مضبوط اور متوازن ہے ۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہمیں اس پر گہری نظر رکھنے اور نگرانی کرنے کی ضرورت ہے کہ انفراسٹرکچر اور فوجیوں کی نقل و حرکت کے حوالے سے سرحد کے ساتھ دیگر کیا پیش رفت ہو رہی ہے۔ جنرل پانڈے نے کہا’’بہت مختصر طور پر اگر میں اس بات کا خلاصہ کروں کہ صورتحال کیا ہے، تو میں اسے مستحکم لیکن حساس قرار دوں گا۔ اور، یہ وہ جگہ ہے جہاں ہمیں قریبی نظر رکھنے کی ضرورت ہے، ایل اے سی کے اس پار کی سرگرمیوں کی بہت قریب سے نگرانی کرنی ہوگی، دونوں وقتوں میں، کیا ہم گہرائی سے کہیں گے، اور پیچھے بھی‘‘ ۔آرمی چیف سے یہ بھی پوچھا گیا کہ سرحد پر ہونے والی جھڑپوں سے کیا سبق سیکھا گیا ہے جس پر انہوں نے کہا کہ نہ صرف سرحد پر کیا ہو رہا ہے، میں کہوں گا کہ بہت گہرے سبق ہیں جو ہمیں سرحد پر ہونے والے تنازعات سے سیکھنے کی ضرورت ہے۔ ایک حالیہ بین الاقوامی رپورٹ کے بارے میں پوچھے جانے پر جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایل اے سی کے ساتھ صورتحال مزید بڑھ سکتی ہے، آرمی چیف نے کہا’’ہم مختلف ہنگامی حالات کے لیے منصوبہ بندی کرتے ہیں، اور ہر ہنگامی صورت حال کے لیے، ردعمل مختلف ہوں گے‘‘۔ جنرل پانڈے نے یہ بھی کہا کہ اس بات کی نشاندہی کرنے کی ضرورت ہے کہ مستقبل میں تنازعات کیسے چلیں گے، اور کوئی کس طرح ٹیکنالوجی کا فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا ’’ہمیں یہ دیکھنا ہے کہ کس طرح مصنوعی ذہانت، 5G، انٹرنیٹ آف تھنگز، ڈرونز، سرویلنس سسٹم، سائبر، یہ وہ شعبے ہیں جن پر ہم فی الحال توجہ مرکوز کر رہے ہیں۔ ہم ملک میں موجود بے پناہ اختراعی صلاحیتوں کے ساتھ ساتھ اسٹارٹ اپ صلاحیتوں سے بھی فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں۔ ‘‘ انہوں نے کہا کہ جب ملک کی فوج مضبوط ہو تب ہی جاکر عوام بھی محفوظ ہو سکتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ فوج کو ہر سطح پر مضبوط کرنے کی ضرورت ہے ۔ اس دوران انہوں نے کہا کہ فوج کے لئے کسی بھی جگہ کسی بھی طرح کوئی بھی کارروائی کرنا کوئی مشکل نہیں ہے۔ ۔ فوجی سربراہ نے کہا کہ فوج ایک حکمت عملی کے تحت کام کررہی ہے اور ہماری پہلی کوشش یہ ہے کہ لائن آف کنٹرول پر کسی بھی طرح کی دراندازی پر قابو پانا ہے اور اس میں فوج بڑی حد تک کامیابی بھی ہوئی ہے۔ انہوںنے کہا کہ دراندازی صفر تک پہنچ گئی ہے کیونکہ سرحدوں پر تعینات فوج مستعد اور چوکس ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ سرحدی پر ایسے آلات نصب کئے گئے ہیں جس سے دراندازی کی کوششیں ناکام بنائی جاتی ہے۔
پاکستان معاشی بدحالی کا شکار لیکن عسکری طور پر اس کی صلاحیتوں میں کوئی کمی نہیں آئی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں