وزیر اعظم نریندر مودی نے آزادی کے سات دہائیوں بعد جموں کشمیر میں سماجی انصاف قائم کیا

جموں کشمیر تیز رفتار اور جامع ترقی کی راہ پر گامزن ،کوئی بھی مستقبل پر مبنی معاشرہ عوام پر مبنی حکمرانی کے بغیر ترقی نہیں کر سکتا
پہاڑیوں اور دیگر طبقوں کو درج فہرست قبائل کی فہرست میں شامل کرنا ’’تاریخی فیصلہ‘‘ / لیفٹنٹ گورنر منوج سنہا

سرینگر // وزیر اعظم نریندر مودی نے ہندوستان کی آزادی کے سات دہائیوں سے زیادہ کے بعد مرکزی زیر انتظام علاقے میں سماجی انصاف قائم کیا کی بات کرتے ہوئے لیفٹنٹ گورنر منوج سنہا نے کہا کہ انتظامیہ کا نظریہ اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ ترقی معاشرے کے تمام طبقات تک پہنچ جائے اور مواقع تک مساوی رسائی کے اقدامات کو مزید تقویت دی جائے۔سی این آئی کے مطابق ماہانہ ریڈیو پروگرام ’’عوام کی آواز‘‘ کے ایک اور شمارے میں عوام سے خطاب کرتے ہوئے لیفٹنٹ گورنر منوج سنہا نے آتم نربھرجموں و کشمیر کی تعمیر کیلئے سماجی انصاف فراہم کرنے کیلئے حکومت کی کوششوں پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے فائدہ اٹھانے والوں اور متاثر کن گمنام ہیروز کی کہانیاں بھی شیئر کیں جو ’’ نیا جموں کشمیر‘‘میں تبدیلی کا مجسمہ بن گئے ہیں۔خطاب کے دوران لیفٹنٹ گورنر منوج سنہا نے کہا ’’ہندوستان کی آزادی کے سات دہائیوں سے زیادہ کے بعد، وزیر اعظم نے جموں و کشمیر میں سماجی انصاف قائم کیا، جس نے یہ یقینی بنایا کہ ہر ایک کو مساوی مواقع اور وسائل تک رسائی حاصل ہے اور معاشرے کے پسماندہ طبقات کی فلاح و بہبود یقینی ہوئی ہے‘‘۔انہوں نے کہا کہ ’ سب کا ساتھ سب کا وکاس سب کا وشواس اور سب کا پرایاس‘ کے نظریہ نے ترقیاتی عدم توازن کو دور کیا ہے اور جموں کشمیر کو تیز رفتار اور جامع ترقی کی راہ پر گامزن کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ کوئی بھی مستقبل پر مبنی معاشرہ عوام پر مبنی حکمرانی کے بغیر ترقی نہیں کر سکتا۔ ہمارا ویژن اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ ترقی معاشرے کے تمام طبقات تک پہنچ جائے اور مواقع تک مساوی رسائی کے اقدامات کو مزید تقویت دی جائے۔انہوں نے کہا کہ پہاڑیوں، پڈاری قبائل، کولی اور گڈا برہمن کو درج فہرست قبائل کی فہرست میں شامل کرنے کا ’’تاریخی‘‘ فیصلہ، جبکہ گجر، بکروال اور دیگر درج شدہ قبائل کے مفادات کا تحفظ سب کو بااختیار بنانے کیلئے حکومت کے عزم کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ عوام کی آواز پروگرامکے 35ویں ایڈیشن کو جموں کشمیر کے گمنام ہیروز اور ’ ناری شکتی‘ کو وقف کرتے ہوئے لیفٹنٹ گورنر نے ایک قوم پرست مفکر مصنف ٹھاکر رگھوناتھ سنگھ کو بھی خراج عقیدت پیش کیا اور ان کی اہم شراکت کو یاد کیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں