وادی کشمیر میں پیام انٹرنیشنل آرگنائزیشن کی جانب سے” یوم نزول قرآن پاک” منایا گیا۔

بزم سخن کے اس پروگرام میں وادی کے نامور ادیب و شعرا اور اہل دانشوروں نے اپنی شرکت کو یقین بنایا۔

سرینگر// پیام انٹرنیشنل آرگنائزیشن کی جانب سے کل 24 رمضان المبارک 1445 ہجری بمطابق 04 اپریل 2024 عیسوی کو ایک پروقار محفل مشاعر ہ “بزم سخن” جو “یوم نزول قرآن پاک” کے عنوان سے عیاں تھا بمقام ہائیر اسکندری اسکول گنڈ حسی بٹ سرینگر کشمیر میں نہایت ہی پر وقار اور عقیدت و احترام کے ساتھ منایا گیا۔ جسمیں وادی کے مایہ ناز قلمکار، ادیب و شعراء حضرات نے منتخب شدہ عنوان ” نزول قرآن پاک ” کو اپنا پسندیدہ موضوع بناکر نظرانہ عقیدت پیش کیا۔
Img 20240405 Wa0140
اس عظیم و درخشاں “بزم سخن” میں جن ادیب، دانشور، قلمکار و شعراء حضرات نے شرکت کرکے نزول قرآن پاک کے گرانقدر و درخشاں موضوع پر اپنا نظرانہ عقیدت پیش کیا ان میں وادی کے عمدہ قلمکار، درد آشنا سوشل ایکٹوسٹ، منظور نظر اسلامی سماجی و سیاسی کالم نگار، چیرمین پیام انٹرنیشنل آرگنائزیشن، چیف کاڈینیٹر حضرت مرزا ابولقاسم رحمتہ اللہ علیہ میموریل مشن کشمیر، بیرو چیف نارتھ کشمیر اور بڈگام، سابقہ چیرمین آف CDRCT کشمیر، اسلامک ریسرچر، واجب الاحترام ملک ظہور مہدی کشمیری، آرگنائزیشن کے سٹیٹ کاڈینیٹر، واجب الاحترام، استاد ڈاکٹر محمد جعفر، آرگنائزیشن آرگنائزر، محترم استاد خواجہ غلام محمد گوہر، پریزیڈنٹ کاروان ادب ڈب جناب سید اختر منصور، پریزیڈنٹ اندر کلچرل فورم جناب سلیم یوسف، پریزیڈنٹ انجمن مصنفین جناب سید اسداللہ صفوی، جناب سید مہدی حسن، ماسٹر میر رفیق، جناب گلفام نوگامی،جناب ساجد سجاد، جناب غلام حسین حقنواز، جناب شوقین سونمی، جناب افضل ہاشمی، جناب غلام حسن حسن، جناب ساحل رضا، جناب ملک ندیم احمد، جناب وسیم حسین وانی، محترمہ افشانہ جی، عشرت آرا، شیزان، صبرینہ جی، پروینہ اختر، پروینہ جی، جناب مظفر احمد، جناب محمد صفدر قابل ذکر ہیں. جبکہ اس بزم سخن میں مقررین کے علاوہ دیگر معزز دانشور اور عقیدت مند حضرات شرکت فرما تھے۔ اس عظیم و شان پروگرام “بزم سخن” میں مقررین و شعراء حضرات نے عنوان “نزول قرآن مقدس” پر آئینہ امت مسلمہ قرآن پاک کے مختلف درخشاں پہلوؤں کو اپنا گوہر افشاں موضوع بناکر سامعین کے قلبوں کو مستفید کیا۔ اس بزم سخن میں حضرت مرزا ابولقاسم رحمتہ اللہ علیہ میموریل مشن کی جانب سے مشتہر کی گئی دو کتابچہ جس کے مصنف استاد ڈاکٹر محمد جعفر صاحب ہے کی رسم رونمائی کی گئی۔ بزم سخن کے آخر پے تمام ادیب و شعراء حضرات کے علاوہ ذمہ داران انسٹیوٹ اور دیگر ذمہ داران کو پیام انٹرنیشنل آرگنائزیشن کے چیرمین محترم ملک ظہور مہدی اور ڈاکٹر محمد جعفر کے مبارک ہاتھوں سٹیفکیٹ ایواڈ سے پر مسرت انداز میں نوازا گیا۔ جبکہ اس پروقار موقع پرخاص طور پر استاد داکٹر محمد جعفر کو عمدہ اسکول لیڈرشپ اور منیجمنٹ ایوارڈ سے نوازا گیا۔ کفیل آرگنائزیشن محترم ملک ظہور مہدی سے “شب قدر کیا ہے” کا سوال طلب کیا گیا تو آپ نے اپنے جواب میں اس رات ”شب قدر” کیوں کہا جاتا ہے من جملہ یہ کہا کہ شب قدر کی فضیلت کے لئے اتنا کافی ہے کہ یہ رات ہزار مہینوں سے بہتر ہے اس شب میں انسان کی تقدیر لکھی جاتی ہے اور جو انسان اس سے با خبر ہو وہ زیادہ ہو شیاری سے اس قیمتی وقت سے استفادہ کرے گا ۔ ظہور مہدی نے شب قدر کی اہمیت کو مذید یوں بیان کیا کہا کہ شب قدر کو شب قدر کا نام اس لئے دیا گیا ہے کہ بندوں کے تمام سال کے سارے مقدّرات اسی رات میں معین ہوتے ہیں اس معنی کی گواہ سورہ دخان کی آیت ہے جس میں آیا ہے کہ: ” انا انزلنا ہ فی لیلة مبارکة اناکنا منذرین فیھا یفرق کل امر حکیم”(دخان)” ہم نے اس کتاب مبین کو ایک پر برکت رات میں نازل کیا ہے اور ہم ہمیشہ ہی انداز کرتے رہے ہیں اس رات میں پر امر خداوند عالم کی حکمت کے مطابق تنظیم و تعین ہوتاہے” یہ بیان متعدد روایات کے ساتھ ہم آہنگ ہے جو کہتی ہیں کہ اسی رات میں انسان کے ایک سال کے مقدورات کی تعیین ہوتی ہے اور رزق ، عمریں اور دوسرے امور اسی مبارک رات میں تقسیم اور بیان کئے جاتے ہیں ۔ البتہ یہ چیز انسان کے ارادہ اور مسئلہ اختیار کے ساتھ کسی قسم کا تضاد نہیں رکھتی کیونکہ فرشتوں کے ذریعے تقدیر الہی لوگوں کی شائستگیوں اور لیاقتوں اوران کے ایمان اور تقوی اور نیت اعمال کی پاکیزگی کے ہو تی ہے یعنی ہر شخص کے لئے وہی کچھ مقدر کرتے ہیں جو اس کے لائق ہے یا دوسرے لفظوں میں اس کے مقدمات خود اسی کی طرف سے فراہم ہوتے ہیں اور یہ امر نہ صرف یہ کہ اختیار کے ساتھ منافات نہیں رکھتا ۔ بلکہ یہ اس پر ایک تاکید ہے۔ اس رات میں اس قدر فرشتے نازل ہوتے ہیں کہ ان کے لئے

اپنا تبصرہ بھیجیں