9c627659 0c07 4828 9306 53060a11c7c3

نئی نسل کی حفاظت کا بہترین وسیلہ نماز ہے / غزہ کے بچے ویرانوں میں نماز ادا کرتے ہیں۔۔۔ صدر ر‏ئیسی

ایران //صدر اسلامی جمہوریہ ایران نے فلسطینی مقاومت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: فلسطینی بچے غزہ کے ویرانوں میں نماز ادا کرتے ہیں اور یہ اس حقیقت کا ّثبوت ہے کہ جس چیز نے فلسطینی بچوں کو میدان جنگ میں جم کر رہنے کی قوت عطا کی ہے وہ نماز ہے اور یقینا اس میدان کا فاتح فلسطین ہے۔

صدر اسلامی جمہوریہ ایران، آیت اللہ ڈاکٹر سید ابراہیم رئیسی نے آج شہر زنجان میں ملک گیر نماز کانفرس سے خطاب کرتے ہوئے نماز کی اہمیت پر روشنی ڈالی اور حجت الاسلام محسن قرائتی اور نماز کی ترویج کی راہ میں کوششیں کرنے والے علماء کو خراج تحسین پیش کیا اور کہا: ان کوششوں کے مثبت نتائج گھر، اسکول، یونیورسٹی، اور مختلف اداروں اور محکموں میں نمایاں ہیں۔

انھوں نے کہا: نماز کے فروغ اور نماز کی طرف توجہ کی ضرورت کی ترویج کے لئے ہونے والی کوششیں قابل تعریف ہیں لیکن امید ہے کہ اس سے بھی زیادہ کام کی ضرورت ہے، کیونکہ فرد اور معاشرے کی تعمیر (خود سازی اور معاشرہ سازی) کا مؤثرترین عنصر قرآن اور نماز ہے۔

انھوں نے کہا: نماز حیات طیبہ تک پہنچنے اور حیات طیبہ کی تشکیل پر بہت اہم اثرات مرتب کرتی ہے۔ ایک صحت معاشرے کی تعمیر نماز کے بغیر ممکن نہیں ہے، ایک صحت مند [اور صالح] انسان کا طرز حیات صرف نماز کی بنیاد پر قابل حصول ہے۔

آیت اللہ رئیسی نے کہا: طاقت و اقتدار اور مال و ثروت کے مالکوں کے لئے سب سے پہلی سفارش “نماز” ہے؛ اگر نماز قائم ہو جائے تو اس کی مدد سے نفس کا بھی مقابلہ کیا جاتا ہے اور بیرونی شیطان کے خلاف جدوجہد بھی ممکن ہو جاتی ہے۔

صدر اسلامی جمہوریہ ایران نے کہا: ایک سالک اور عارف انسان کی سب سے مستحکم پشت پناہ نماز ہے۔

انھوں نے کہا: احکام الٰہیہ کے درمیان، نماز سب سے زیادہ امید افزا فریضہ نماز ہے، جس کی طرف امیرالمؤمنین (علیہ السلام) نے بھی اشارہ فرمایا ہے۔

انھوں نے زور دے کر کہا: نماز ایک الٰہی فریضہ ہے جسے کسی حالت میں بھی ترک نہیں ہونا چاہئے۔ جو چیز سب کے لئے تکلیف دہ ہے، وہ وہ فردی اور سماجی نقصانات ہیں کیونکہ انسان کو اندرونی نفس اور بیرونی شیاطین کی طرف سے خطرہ رہتا ہے اور ان سے نمٹنے کا سب سے اہم راستہ نماز ہے۔

ان کا کہنا تھا: نماز طریق [راستہ] بھی ہے اور مقصد و مقصود اور ہدف بھی بھی ہے، نماز بہترین ذکر اور اللہ کا بہترین وسیلہ ہے، ذکرِ قلبی بھی ہے ذکرِلسانی بھی ہے۔

انھوں نے کہا: اگر میں چاہوں کہ اپنی طرف سے اس الٰہی فریضے کے بارے میں بات کروں تو چند نکتوں کی طرف اشارہ کرنا چاہوں گا؛ سب سے پہلا فریضہ یہ ہے کہ ہم اپنی روح کو نماز کی روح سے اُنسیت دیں اور یہ کامیابی کا راز ہے اور اگر ہم اپنے افعال میں کامیابی چاہتے ہیں تو خدا کے نام کو بھی ہماری جان اور قلب پر حکمران ہونا چاہئے اور روح نماز کی طرف توجہ کو بھی تقویت دینا چاہئے۔

انھوں نے کہا: نماز نفرین بھی کرتی ہے اور دعا بھی کرتی ہے، لیکن اجازت دیجئے کہ نماز کی دعا ہمارے شامل حال ہو، ہمیں نماز کو اجتماعی بنانا چاہئے اور اس امر کے لئے تمام شعبوں کے درمیان باہمی تعاون کی ضرورت ہے۔

صدر نے کہا: ضرورت اس امر کی ہے کہ ذرائع ابلاغ سے وابستہ افرد، اہلیان قلم و ثقافت سب نماز کی ترویج اور تشریح اور مختلف سطحوں پر نماز کی معرفت میں اضافہ کرنے کا اہتمام کریں، نماز کی ترویج اہم ہے اور جو لوگ اس مہم کو سر کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، انہیں اس کا اہتمام کرنا چاہئے۔

آیت اللہ رئیسی نے مزید کہا: ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم سماجی آفتوں کی نسبت فکرمند ہوں اور معاشرے کو [اخلاقی اور سماجی] آفتوں سے بچانے کا راستہ “نماز” ہے۔ دنیا روز بروز ذہین (Smartening) کی طرف جا رہی ہے اور نئے نئے قدم اٹھا رہی ہے، جس کے لئے فطری طور پر ضروری ہے کہ مواصلات کی اس دنیا میں معاشروں کو نماز کے ذریعے محفوظ بنایا جائے۔

انھوں نے کہ نماز کو نئی اور نوجوان نسل کی حفاظت کا بہترین وسیلہ قرار دیا اور کہا: نماز کی طرف توجہ دینا اہم ہے تاہم اس مہم کی نگرانی کرنے کی ضرورت ہے تا کہ جان سکیں کہ اس الٰہی فریضے میں ہم کہاں کھڑے ہیں۔

آیت اللہ رئیسی نے کہا: نماز تمام امور میں مرکزیت رکھتی ہے، اور ہمیں نوجوان نسل اور کم عمر بچوں کو نماز کی برکتوں سے آگاہ کرنا چاہئے۔

انھوں نے فلسطینی مقاومت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: فلسطینی بچے غزہ کے ویرانوں کے بیچ کھڑے ہوکر نماز قائم کرتے ہیں اور یہ اس حقیقت کا

وی در بخش دیگری از سخنان خود به مقاومت مردم فلسطین اشاره کرد و گفت: بچه‌های فلسطین در خرابه ها نماز اقامه می‌کنند و نشان از آن است که مهمترین عنصری که در صحنه جنگ بچه‌های فلسطین را نگه داشته است نماز و اقامه نماز است، و یقینا پیروز میدان فلسطین است.

صدر اسلامی جمہوریہ ایران نے کہا: ایک سالک اور مجاہد انسان کو سب سے زیادہ قوت نماز سے حاصل ہوتی ہے، نیز ایک سالک انسان اور ایک طاقتور معاشرے کی طاقت کا سب سے زیادہ اہم ذریعہ اللہ کی طرف توجہ دینا اور نماز، ہے۔

انھوں نے آخر میں کہا: زنجان کے عوام دین دار ہیں، نماز قائم رکھنے والے لوگ ہیں، اس صوبے کی تاریخ میں ہم نے نماز کی مرکزیت کے ساتھ، تہذیب و ثقافت، ثقافت اور فقہ کی طرف توجہ کا مشاہدہ کیا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں