ممبئی میں یوم انہدام جنت البقیع کے موقع پر عظیم الشان اجتماع

ممبئی // یوم انہدام جنّتُ البقیع کی یاد میں شہر ممبئی کی معروف و قدیمی مسجد، مسجدِ ایرانیان میں ایک عظیم احتجاجی جلسہ منعقد ہوا، جس میں علمائے کرام، دانشوران اور مؤمنین و مؤمنات کی کثیر تعداد نے شرکت کی اور آلِ سعود حکومت کی پرزور مذمّت کرتے ہوئے اُن سے مطالبہ کیا کہ جنّتُ البقیع اور جنّتُ المُعَلّٰی کی تعمیر نو کی جلد از جلد اجازت دے۔

تفصیلات کے مطابق، تقریب میں ولی فقیہ اور انقلابِ اسلامی ایران کے سپریم لیڈر آیت اللّہ العُظمٰی سید علی خامنہ ای کے ہندوستان کیلئے خصوصی نمائندہ اور ایران کے معروف عالم دین آیتُ اللّہ الحاج مہدی مہدوی پور صاحب نے شرکت کی اور اپنی بصیرت افروز تقریر میں بقیع کی مظلومیت اور اہمیت کو بیان کرتے ہوئے تکفیریت کے خطرات اور درپیش مسائل پر مفصّل روشنی ڈالتے ہوئے امّت مسلمہ پر زور دیا کہ جنّتُ البقیع اور جنّتُ المُعلّٰی کے تعمیر نو کیلئے اپنی آواز بلند کر کے وہ اس عالم گیر تحریک کو اور مضبوط بنائیں۔

آیت اللّہ مہدی مہدوی پور صاحب نے عالمی سامراج و عالم استکبار کی ریشہ دوانیوں کو بیان کرتے ہوئے سلطنتِ عُثمانیہ کے زوال اور وہابی نظریات و افکار کی ترویج کی بنا پر اُمّتِ مُسلِمہ کے اندر پائے جانے والے خلا کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اس بات کی وضاحت کی کہ دشمن نے کس طرح اس خلا سے استفادہ کرتے ہوئے اُمّتِ مُسلِمہ کو اپنے مکروہ عزائم کا شکار بنا کر انہیں گروہوں میں تقسیم کر دیا۔

2180291

نمایندہ ولی فقیہ نے اپنے بیان میں دُشمنانِ اسلام و ایران کو بھی خبردار کرتے ہوئے کہا کہ “صبر کرنے کی بھی ایک حد ہوتی ہے اور بہتر ہے کہ ہمارے صبر اور تحمل کو بار بار آ زمانے کی کوشش وہ نا کریں ورنہ انہیں اسکا بھاری خمیازہ بھگتنا ہوگا”، انہوں نے اپنے بصیرت افروز تقریر میں مرجعیت کی طاقت و اہمیت کو بیان کرتے ہوۓ کہا کہ “یہ ایران اور مرجعیت ہی کی بصیرت اور طاقت تھی جس نے ہمارے مُقدّس مقامات کو بچانے میں نا قابلِ فراموش کردار ادا کیا”۔

اس احتجاجی جلسہ میں اسلامی جمہوریہ ایران کے ممبئی میں قونصل جنرل داؤد رضائی اسکندری اور ایران کلچرل ہاؤس کے ڈائریکٹر محمد رضا فاضل کے ساتھ ساتھ شہر کے معتبر و عالی قدر عالم حجۃ الاسلام و المسلمین سید حسین مہدی حسینی صاحب نے بھی اپنے فکر انگیز بیانات سے سامعین کے قلوب کو منور کیا۔

مسجد ایرانیان کے امام جماعت مولانا سید نجیب الحسن زیدی صاحب نے جلسے میں شرکت کرنے والے تمام مؤمنین، اکابرین اور علماء کرام کا خیر مقدم کیا۔

جلسے کا آغاز تلاوت قرآن پاک سے قاری جناب معجز عبّاس صاحب نے کیا، دوران جلسہ مولانا علی عباس (امید اعظمی) صاحب نے نظم اور اشعار کے ذریعے اپنے خیالات کا اظہار کیا، جلسے کی نظامت کرتے ہوئے مولانا علی اصغر حیدری صاحب نے سامعین اور سماں دونوں کو باندھے رکھا اور جلسے کے اخیر میں حاضرین جلسہ اور تمام مہمانوں کا شکریہ ادا کیا۔ بعدہ منہال علی رضوی صاحب کے پر سوز نوحے کے زیرِ اثر مسجد کی فضا غمگین ہوگئی اور ماتم و گریہ کے ساتھ یہ جلسہ حجت الاسلام والمسلمین مولانا سید غلام عسکری صاحب کے ذریعہ پڑھائی گئی زیارت پر اختتام پذیر ہوا، یہ جلسہ اثنا عشری یوتھ فاؤنڈیشن کی جانب سے منعقد کیا گیا تھا۔

حوزہ نیوز

اپنا تبصرہ بھیجیں