2039017

ممبئی میں “قوم میں شرح طلاق میں زیادتی کے اسباب و نتائج “ کے موضوع پر جلسہ کا انعقاد

ممبئی// مسجد ایرانیان(مغل مسجد) ممبئی میں ریئل ہیومنٹی سرویسز (.R.H.S) ، انجمن ثار اللہ اور والفجر ایجوکیشنل اینڈ ولفیئر ٹرسٹ کے زیر اہتمام منعقد ہوا جس میں اس مہینے کا موضوع ”قوم میں شرح طلاق میں زیادتی کے اسباب و نتائج “ تھا۔ جس میں مقررین اور سامعین نے اپنے قیمتی مشورے اور تجربات کو بیان کرتے ہوئے طلاق کی روک تھام کے سلسلے میں کار آمد مشوروں سے نوازا۔

حجت الاسلام والمسلمین عالی جناب مولانا سید روح ظفر (امام جماعت خوجہ مسجد، ڈونگری ممبئی) نے بطور صدر جلسہ شرکت فرمائی۔ انہوں نے تقریر کرتے ہوئے کہا کہ جو بات میرے تجربے میں آئی ہے وہ یہ ہے کہ شرح طلاق میں زیادتی کا ایک اہم سبب فقر و غربت ہے کیوں کہ آج کے زمانے میں شادی کے بعد اخراجات میں بے تحاشا اضافہ ہو جاتا ہے جبکہ آمدنی محدود ہوتی ہے اور جب میاں بیوی ایک دوسرے کی مشکلات کو نہیں سمجھ پاتے تو آخر میں طلاق کی نوبت آجاتی ہے۔

انجمن ثار اللہ کے سربراہ مولانا فرمان‌ موسوی صاحب نے بھی اپنی قیمتی تجاویز سے آگاہ کرتے ہوئے فرمایا کہ آج کل دیکھنے میں آتا ہے کہ شادی شدہ جوڑوں کو سوائے صیغۂ نکاح کے دین سے کوئی لینا نہیں ہوتا اور نہ ہی دیگر معاملات میں کوئی دینی ذمہ داری کا علم انہیں ہوتا ہے لہذا باہری دنیا بالخصوص فلمی دنیا کے لحاظ سے زندگی گزارنے کی کوشش کرتے ہیں جس کا نتیجہ طلاق پر ختم ہوتا ہے۔

والفجر ایجوکیشنل و ولفیئر ٹرسٹ کے ذمہ داران اور ٹرسٹی مولانا عابد رضا رضوی صاحب اور مولانا سید محمد حیدر اصفہانی صاحب نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

مولانا سید عابد رضا صاحب نے کہا کہ حضرت فاطمہ زہرا نے اپنے شوہر سے آخری کلام میں فرمایا کہ«یابن عم ما عهدتنی کاذبة، و لا خائنة، و لا خالفتک منذ عاشرتنی؛ اے میرے چچازاد میں نے پوری زندگی کبھی جھوٹ نہیں بولا، کبھی خیانت نہیں کی اور نہ ہی آپ کی مخالفت کی یعنی ایک رشتہِ ازدواج کے بقا کے لئے ضروری ہے کہ اک دوسرے سے چھوٹ نہ بولا جائے اس دوسرے کے خیانت نہ کی جائے اور زوجہ اپنے شوہر کی مخالفت سے پرہیز کرے۔

مولانا سید محمد حیدر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ طلاق کے اسباب میں سے ایک سبب یہ بھی ہے کہ رشتہ ازدواج سے منسلک ہونے کے لیے اسلامی طریقہ کار اور اسلامی اصولوں کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے اور آج کل معاشرے میں لو میرج کا چلن بھی شرح طلاق میں اضافے کا سبب بن رہا ہے کیوں کہ جب کوئی لڑکا کسی غیر محرم سے رابطے میں آتا ہے تو وہ اس سے قریب ہونے کے لئے ایسے وعدے کرتا ہے اور ایسا سبزباغ دکھاتا ہے کہ جو بعد میں پورا کرنا تقریبا نا ممکن ہوتا ہے لہذا لو میرج میں ٩٥ فیصد مسائل طلاق تک پہنچ جاتے ہیں۔

اس کے علاوہ موصوف نے ایک تجویز پیش کرتے ہوئے کہا کہ اگر طلاق کو کم‌ کرنا ہے تو علماء اور دردمندان قوم و ملت کو آگے آنا پڑے گا اور اس سلسلے میں کوئی عملی قدم‌ اٹھانا ہوگا لہذا علماء کا ایک ایسا پینل بنے جو ان مسائل کا حل و فصل کرے اور اس کا فیصلہ ہی آخری فیصلہ ہو تاکہ تھانہ پولس اور مقدموں کی نوبت نہ آئے۔

ان کے علاوہ اس جلسے میں ڈاکٹر فخرالحسن رضوی، ڈاکٹر علی اکبر گھبرانی، خصال جعفری پونہ اور نوجوان سیاسی لیڈر افضل داؤدانی کے علاوہ دیگر افراد بھی شامل رہے۔ جلسہ کی نظامت کے فرائض ریئل ہیومنٹی سرویسز کے روح رواں ڈاکٹر ممتاز حیدر ”پرنس رضوی“ نے کی۔

آخر میں صدر جلسہ نے تمام شرکاء کا شکریہ ادا کرتے ہوئے جلسے کے اختتام اور آئندہ جلسہ کا اعلان کیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں