IMG-20230915-WA0005

ملی ٹنسی ختم کرنے کیلئے دونوں ملکوں کی بات چیت ضروری

ملی ٹنسی ختم کرنے کیلئے دونوں ملکوں کی بات چیت ضروری

امریکی میوہ جات پردرآمدی ڈیوٹی کم کرناباعث تشویش:ڈاکٹر فاروق

سری نگر// نیشنل کانفرنس کے صدر فاروق عبداللہ نے بدھ کے روز کہا کہ جموں و کشمیر میں عسکریت پسندی اس وقت تک ختم نہیں ہوگی جب تک ہندوستان اور پاکستان تمام تنازعات کا پائیدار حل تلاش کرنے کےلئے بات چیت نہیں کرتے ہیں۔جے کے این ایس مانٹرینگ ڈیسک کے مطابق ڈاکٹر فاروق نے یہاںپارٹی صدر دفتر پرایک میٹنگ کے بعد موقر خبررساں ادارے پریس ٹرسٹ آف انڈیا کیساتھ بات کرتے ہوئے کہاکہ بات چیت ہونے تک جموں وکشمیرمیں تصادم آرائی کے واقعات ہوتے رہیں گے۔انہوںنے کہاکہ یہ کہنا کہ عسکریت پسندی ختم ہو گئی ہے غلط ہو گا۔ یہ چیزیں کل بھی ہوئیں اور آج بھی ہو رہی ہیں، یہ اس وقت تک ہوتی رہیں گی جب تک دونوں ملک حل تلاش کرنے کےلئے بات چیت کے لیے میز پر نہیں آتے۔امریکہ سے سیب، اخروٹ اور بادام کی درآمد پر اضافی ڈیوٹی ہٹانے پر فاروق عبداللہ نے کہا کہ خدشات ہیں کہ یہ اقدام مقامی پیداوار کی قیمتوں میں کمی کا باعث بن سکتا ہے۔انہوںنے کہاکہ ہمیں خدشات ہیں کہ جموں و کشمیر، ہماچل اور اتراکھنڈ میں ہماری پھلوں کی صنعت متاثر ہوگی۔ کسان، جنہوں نے بہت پیسہ خرچ کیا ہے، پریشان ہیں کہ مقامی پیداوار کی قیمتیں گر جائیں گی اور انہیں نقصان اٹھانا پڑے گا۔فاروق عبداللہ نے کہاکہ میں حکومت سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ اس مسئلے پر توجہ دے تاکہ کسانوں کو نقصان نہ پہنچے۔ اگر انہیں نقصان ہوتا ہے تو یہ ملک کے لیے اچھا نہیں ہو۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں