956868

ملکتہ العرب کی بے مثال فضیلتوں سے آشنائی

ملکتہ العرب کی بے مثال فضیلتوں سے آشنائی

تحریر: ڈاکٹر شجاعت حسین

حضرت خدیجتہ الکبریٰؑ کی وفات 10 رمضان المبارک، انگریزی کیلنڈر کے اعداد و شمار کے مطابق 65 سال کی عمر میں 1405 سال قبل یعنی 619 عیسوی میں ہوئی۔ آپ کا جائے مدفن جنت المعلاۃ، مکہ معظمہ، سعودی عربیہ میں ہے۔ آپ کی ولادت باسعادت 554 عیسوی میں ہوئی۔ آپؑ کی رحلت کا غم الامین و الصادق ﷺ پر بہت گہرا رہا۔

ملکتہ العرب، ام المومنین کے لئے سورۃ ضحیٰ آیت مبارکہ و شریفہ نمبر 8 قصیدہ خوانی کر رہی ہے وَوَ جَدَکَ عائٍلا مَاَغنیٰ “ہم نے آپ کو تنگدست پایا تو غنی کر دیا۔” قریب سبھی مفسرین نے اس آیہ مبارک کو حضرت خدیجہ طاہرہ سلام اللہ علیہا کے معاشرتی اور معاشی مقام و مرتبے سے منسوب کیا ہے۔ رب کائنات نے اس بیت اشرف کے لیے ایک ایسی ہمہ صفات و کمالات موصوف خاتون کا انتخاب کیا جو رسول مقبول کی حیات مبارکہ کے مختلف ادوار میں ان کی شریک حیات ہونے کی بہترین صلاحیت رکھتی تھی۔ تبھی تو پیغمبر اسلام اُٹھتے بیٹھتے یہ اعتراف کرنے پر مجبور ہوئے کہ خدیجہؑ جیسی رفیقہ مجھے کوئی دوسری نصیب نہیں ہوئی۔

کافی وسیع مطالعہ اور عمیق تحقیقی جائزے کے بعد یہ وثوق سے کہا جا سکتا ہے کہ جناب خدیجہؑ معصومہ کو اپنی زندگی کا اٹھائیس سال تک کسی معصوم ہستی کے ساتھ رہنے کا اتفاق نہیں ہوا تھا نہ ان کے والد معصوم تھے اور نہ والدہ معصوم تھیں لیکن قابل عظمت و فضیلت ہے جو اپنی ذاتی جد و جہد سے شہزادی خدیجہؑ نے اپنے کو مجمع صفات کمال بنا لیا تھا۔ خوبی عمل، حُسنٍ کردار، پاکیزگیٍ نفس اور بلندی اخلاق سے اپنے کو اتنا پُر وقار، با عظمت، فضیلت و شرف بنا دیا تھا کہ خود رب العزت جبرئیل امین کے ذریعہ اپنے پیغمبر اکرم حضرت محمد مصطفٰی ﷺ کی زبانی سلام کہلواتا ہے، جنت کی بشارت دیتا ہے اور ان کے اعمال صالحہ کو قبولیت کی سند سے نوازتا ہے۔

جب علم کی روشنی نہ تھی، اخلاق مدفون اور حیا بے دیار تھی، جب دنیا مواسات و مساوات سے بے بہرہ اور رحم و کرم سے نامانوس تھی، جب تعلیماتٍ انبیاء کا نام و نشان مٹایا جا چکا تھا۔ موسویؑ، عیسویؑ، خلیلیؑ احکام و شرائع مسخ کئے جا چکے تھے۔ بربریت و بہیمیت، شیطنت اور درندگی کا اندھیرا پوری دنیا بالخصوص عرب پر مسلط تھا، تبھی صنف نسواں کے وقار کا بدرٍ کامل بشکل خدیجتہ الکبریٰ اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ ضو فشاں ہوا۔ دورٍ حاضر میں جب ساری پرانی خرابیاں پھر آزادی کے نام پر واپس لائ جا رہی ہیں تو اس بات کی شدید ضرورت ہے کہ کردار شخصیتوں کے تذکروں سے ایسی روشنی پیدا کی جائے جس سے جو حقیقت کو جادۂ اعتدال اور فکر و شعور کو صراطٍ مستقیم کے پا لینے میں مدد مل سکے۔

حضرت خدیجتہ الکبریٰؑ حضرت محمد مصطفٰی ﷺ کی شریک حیات بنیں۔ کارٍ رسالت میں شریک ہوئیں۔ تبلیغ اسلام اور مرسل اعظمؐ کی پچیس سالہ زندگی کا ایک ایک لمحہ با بصیرت انسان کو ہر قدم پر خدیجہ طاہرہؑ کی یاد دلائے گا۔ وثوق کے ساتھ کہا جا سکتا ہے کہ پیغمبر اسلامؐ کے لیے خدیجہ طاہرہؑ کا انتخاب قدرت نے اسی لیے کیا تھا کیونکہ خدیجہ طاہرہؑ کے بغیر اسلامی اصول تو ہوتے مگر بے زبان ہوتے۔ اسلام اپنا آئین تو مرتب کر لیتا لیکن حضرت خدیجہ کے تعاون کے بغیر تکمیل نا ممکن تھی۔ اسلام اپنے قانون بھی منظم کر لیتا لیکن حضرت خدیجہ کے معاونت کے بغیر ان کی تبلیغ مشکل تھی۔ پیغمبر اسلامؐ تبلیغ کے لیے میدان عمل میں آ بھی جاتے لیکن ہمدرد، غمگسار، معین و مددگار کوئی نہ ہوتا۔

اسلام کی تبلیغ و اشاعت میں حضرت خدیجہ طاہرہؑ کا بے مثل تعاون و ایثار ہے۔ آپؑ نے رحمت العالمین کو بغیر حساب یعنی لا محدود دولت و سرمایہ دے کر فکرٍ معاش سے آزادی دلوائی۔ اپنی نصرت و حمایت اور کلمات تسلی و تشفی کے ذریعہ تاجدار انبیاءؐ کے عزم و ارادے میں تقویت کا باعث ہوئیں۔ مسلسل پچیس سال تک نبوت و رسالت کی عزیز ترین رفیقۂ حیات رہیں۔ حبیبؐ خدا کی مسرت و شادمانی اور دکھ و درد میں برابر کی شریک اور رنج و غم میں مددگار و غمخوار رہیں۔

ملیکتہ الاعرب نے اسلام کی آبیاری و بقائے دیں کی خاطر دولت و لہو کو بہا دیا۔ اسلام کے اوراق گردانی سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے اسلام کی تعمیر میں زبردست حصہ لیا۔ تبلیغ کے لیے ضروری سہولیات مہیا کیں۔ آپؑ کی کاوشوں، محنتوں اور تعاون نے اسلام کو سر سبز و شاداب کیا۔ ان کی ریاضتوں نے اس کو پھلنے پھولنے کا موقع فراہم کیا۔ اسلام و ایمان خدیجتہ الکبریٰؑ کے ممنونٍ کرم ہیں۔ ان پر آپؑ کا لطف، کرم و احسان ہے۔

شہزادی خدیجہؑ بنت خویلد وہ خوش قسمت، با عظمت و فضیلت خاتون عرب و عجم میں ہیں جن کا کوئی ثانی نہیں۔ مالک مختار و خالق کائنات نے ان کو وہ مرتبہ عظیم مرحمت فرمایا جس کی گرد کو پہنچنا بھی نا ممکن بلکہ محال ہے۔ پروردگار عالم نے عرب کی شہزادی، حضرت خدیجہ طاہرہؑ کی گود کو شہزادی نور، سیدہ طاہرہؑ سے زینت دی۔ جو عظمت اسلام اور وقارٍ نسواں کا عنوان قرار پائیں۔ آپؑ کو شیر خدا، حیدر کرار، امیرالمومنین جیسا داماد ملا، جنھوں نے اسلام کے گیسوؤں کو سنوارا، حق کی ڈوبی ہوئی نبض کو اُبھارا۔ حسنٍ مجتبٰی، سہزادۂ صلح، حضرت امام حسنؑ اور شہید اعظم، سید الشہداء، حضرت امام حسین علیہ السلام جیسے نواسے ملے جنھوں نے اسوۂ رسالت اور سیرت نبوت کا تحفظ کیا۔ حضرت خدیجہؑ کو حق نے زینبؑ و ام کلثومؑ سی نواسیاں مرحمت فرمائیں جنھوں نے اپنے جزبۂ ایثار، وفا، صبر ضبط سے عرب کی شہزادی کی یاد تازہ کر دی۔ سیدہ خدیجہؑ نے اسلام کو گیارہ معصوم رہبر دیئے۔ قرآن کو محافظ و قرآن ناطق دیئے۔ کعبہ کو نگراں دیئے۔ منبر نبیؐ کو خطیب دیئے۔ جنت کو سردار دیئے۔ اور آج بھی اسلام کی محافظ، ہادی و شادابی کی ذریعہ آپؑ ہی کے لال کے دم سے قائم ہے:

سرٍ فہرست صداقت ترا نام آج بھی ہے

ترا فرزند زمانے کا امام آج بھی ہے

ام المومنین ملکتہ العرب اسلام کی تاریخ میں ایک مرکزی حیثیت رکھتی ہیں جنہیں تاریخ ساز کردار تسلیم کیا گیا ہے۔ آپؑ تاجدار انبیاءؐ کے ہاں آنے سے قبل ایک اہم تاریخی شخصیت تھیں۔ 1400 سو سال پہلے پورے عرب میں مالی اعتبار سے کوئی آپ کا مد مقابل نہیں تھا۔ اس وقت کا منظر نامہ یہ تھا کہ لڑکیوں کو زندہ دفن کر دیا جاتا تھا اور عورتوں کو منحوس تصور کیا جاتا تھا ایسی صورت حال میں آپ گھر بیٹھے تجارت کرنا، اتنے بڑے تجارتی کاروبار کو روز بروز فروغ و ترقی دینا اور اس دولت و اموال پر کنٹرول کرنا اور اپنی ذہانت و ادراک سے تجارت کے میدان میں مردوں کو گردٍ کارواں بنا دیا تھا۔

واقعی میں حیرت انگیز تھا۔ آج کے جدیدیت دور کی خواتین کے لیے سیدہ خدیجہؑ کے کمالات میں سے ایک یہ بھی قابل غور و فکر ہے کہ آپؑ نے سارے عرب امیروں، تاجروں، دولتمندوں، سربراہوں، شہزادوں، قبائلی ٹھیکیداروں، رئیسوں، اور بادشاہوں کے پیغامہائے عقد کو ٹھکرا کر عورتوں کو حقیر سمجھنے والے عربوں کے پندار امارت و ریاست کو مسمار کردیا تھا۔ اس وجہ سے بھی آپؑ ایک تاریخی شخصیت ہیں کہ اس وقت کے دورٍ جہالت میں آپؑ تمام مکارم اخلاق، صفات حمیدہ اور اعلٰی انسانی اقدار کی ملکہ تھیں۔ تاریخ کا معجزہ ہے کہ آپؑ کو دور جہل میں آپؑ کو “طاہرہ” اور “سیدہ قریش” کہا جاتا تھا۔ آج کی خواتین کے لیے دانش و فیہم ہے کہ آپؑ نے خلاف معمول عرب کے سارے امیر و کبیر انسانوں کے دعوت ناموں کو ٹھکرا کر مکہ کے ایک غریب و نادار نوجوان کو اپنا سرتاج منتخب کر لیا۔

المختصر، خویلد کا خاندان ایک معزز اور شریف خاندانوں سے تھا۔ شرافت و کرامت، خیر و برکت، فضل و شرف اور امارت و سیادت پورے عرب میں مشہور و معروف تھا۔ بنی ہاشم کے بعد یہ خاندان قابل ذکر تھا۔ اسی گھرانے میں ایک بچی پیدا ہوئی نہ صرف اپنے قوم و قبیلہ کا نام روشن کیا بلکہ اپنی پوری صنف کے وقار کو اقوام عالم کی نظر میں بلند و بالا کر دیا۔ آج پیدا ہونے والی بچی کل کی ملکۂ عرب، شہزادی اسلام، ام المومنین حضرت خدیجتہ الکبریٰ علیہ السلام ہیں۔

جناب خدیجہؑ کے اندر وہ کملات، عظمتیں و فضیلتیں موجود تھیں جو کسی کامل انسان کے لیے ضروری ہوتے ہیں۔ ایک بڑے انسان کی زوجہ شریک حیات بننے سے عظیم و ممتاز نہیں ہوتا ہے بلکہ ان کے اندر خصوصیات کو ظاہری طور پر اظہر و مظہر بھی ہونا ہوتا ہے۔

راقم الحروف اپنے حضور آقا دو جہاںؐ کی زبانٍ پاک سے ملکتہ العرب خدیجتہ الکبریٰؑ کے کمالات اس مقام خاص پر، یہاں قارئین کرام کے لیے تحریر کرنا چاہتا ہے۔ یہ ایک گفتگو ہے جورسول اکرمؐ اور ان کی صاحبزادی حضرت فاطمتہ الزہؑرا سلام اللہ علیہا کے درمیان ہوئی:

“خدا! خدیجہ سے بہتر کوئی نہیں۔ جب لوگوں نے میرا انکار کیا تھا تو وہ مجھ پر ایمان لائیں۔ جب لوگوں نے مجھے جُھٹلایا تو انھوں نے میری تصدیق کی۔ انھوں نے اپنے مال سے میری اس وقت مدد کی جب لوگوں نے مجھے مدد سے محروم کر دیا تھا۔ اور اپنی تمام دولت اشاعت دین کے لیے وقف کر دی۔ ان کے ذریعے ہی مجھے تم جیسی برگزیدہ اور سیدۃ النساء العالمین بیٹی عطا ہوئی۔”

یہ قابل تنقید نہیں لیکن قابل آگاہی و آشنائی ہے کہ جن کے لیے قرآن کریم میں ذکر ہے، اسلام پر احسان ہے کہ اپنی تمام دولت اشاعت دین کی خاطر صرف کر دی، جن کا نواسہ سید الشہداء، سردارٍ جنت اور کشتیٍ نجات ہے، جن کے داماد خیبر، خندق، بدر و حنین ہے، جن کے شوہر سرور کائنات و رحمت العالمین اور ذریعۂ شفاعت ہے، جن کے لیے پروردگار نے جنت سے کفن بھیجا اور جبرئیل امین کے ذریعے سلام کہلواتا رہا ان کی خاطر ان کی رحلت کے موقع پر جتنی تعداد میں انہماک سے مجالس برپا ہونی چاہیے تھی، غم کا احساس و اظہار، آہ و بکا نظر نہیں آتا۔ آپؑ کی حیات طیبہ، کمالات، فضیلتوں اور عظمتوں پر کتابیں تصنیف ہونی چاہیئے تھی، منظر عام آنا چاہیے تھی وہ بہرحال فقدان کا شکار ہے۔ معروف صحافی، تاریخ نویس، پارلیمنٹرین اور مصنف خشونت سنگھ نے 20 سال قبل راقم الحروف سے بڑی ذمہ داری و وثوق سے کہا تھا کہ “شیعوں میں اب ویسے قلمکار نہیں جیسے پہلے تھے۔” اب عہدٍ دوراں عیاں ہے۔ لیکن اس بات سے تو انکار نہیں کیا جا سکتا کہ آج شاعروں کی عدم موجودگی نہیں۔ بڑے بڑے عالیشان عظیم الشان بزم محافل کا انعقاد کیا جاتا ہے پر افسوس والدہ حسنین و کریمیں کی والدہ ماجدہ، حضرت خدیجتہ الکبریٰ علیہ السلام پر کوئی مرثیہ یا مناقب نہیں۔ مسجد کے امام صاحب بھی محراب سے چند فقرے بھی آپؑ پر اظہار کمالات سے محروم کر دیتے ہیں۔ عجب المیہ! امید کے ساتھ مبلغین حضرات سے گزارش کرتا ہوں کہ کمیوں کی طرف منبر و محراب سے توجہ مبذول کرائی جائے کیونکہ حق ادا کرنا باعث اجر و ثواب ہے!

حضرت خدیجتہ الکبریٰؑ کی وفات 10 رمضان المبارک، انگریزی کیلنڈر کے اعداد و شمار کے مطابق 65 سال کی عمر میں 1405 سال قبل یعنی 619 عیسوی میں ہوئی۔ آپ کا جائے مدفن جنت المعلاۃ، مکہ معظمہ، سعودی عربیہ میں ہے۔ آپ کی ولادت باسعادت 554 عیسوی میں ہوئی۔ آپؑ کی رحلت کا غم الامین و الصادق ﷺ پر بہت گہرا رہا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں