Download (5)

مرکزی حکومت کے نزدیک جموں و کشمیر کے عوام کا خون سستا، قاتل فوجی افسر کی رہائی افسوسناک

مرکزی حکومت کے نزدیک جموں و کشمیر کے عوام کا خون سستا، قاتل فوجی افسر کی رہائی افسوسناک
سازشی عناصر4دہائیوں سے سازشوں میں مصروف ، مسترد کرنا وقت کی اہم ضرورت/ عمر عبداللہ

سرینگر // جموں وکشمیر کے عوام کی روز مرہ کی زندگی میں مصیبت کے سوا کچھ نہیں ہے اور مرکزی حکومت ہمیں بار بار یہ یاد دلاتی ہے کہ ہمارا خون سستا ہے اور ہمارے خون کی کوئی قدر نہیں ، یہی وجہ ہے کہ امشی پورہ میں راجوری کے 3نوجوانوں کو فرضی جھڑپ میں قتل کرنے والے فوجی افسر کو نہ صرف رہا کیا گیا بلکہ اُس کی سزا بھی معطل کی گئی۔ ان باتوں کا اظہار نیشنل کانفرنس نائب صدر عمر عبداللہ نے آج کنزر ٹنگمرگ پارٹی کے یک روزہ کونشن سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔کنونشن کا انعقاد انچارج کانسچونسی فاروق احمد شاہ نے کیا تھا جبکہ اس موقعے پر پارٹی جنرل سکریٹری حاجی علی محمد ساگر، معاون جنرل سکریٹری ڈاکٹر شیخ مصطفیٰ کمال، صوبائی صدر ناصر اسلم وانی، سیاسی صلح کار مدثر شاہ میری، صوبائی سکریٹری ایڈوکیٹ شوکت احمد میر، شمالی زون صدر جاوید احمد ڈرا، سینئر لیڈران شریف الدین شارق، نذیر احمد خان گریز،ڈاکٹر محمد شفیع، ریاض احمد بیدار، ارشاد رسول کار، نذیر احمد ملک، غلام حسن راہی، ایڈوکیٹ نیلوفر مسعودی،جہانگیر یعقوب وانی اور دیگر عہدیداران بھی موجو دتھے۔عمر عبداللہ نے اپنا خطاب جاری رکھتے ہوئے کہا کہ نئی دلی کو جموں وکشمیر کے عوام کے جذبات کا کوئی خیال نہیں، انہیں ہماری پریشانیوں سے کوئی واستہ نہیں،لوگوں کی روز مرہ کی زندگی میں مصیبت کے سوا کچھ نہیں اور ہمیں بار بار مرکز کی طرف سے یہ یاد دلایا جاتاہے، ہمارا خون سستا ہے اور ہمارے خون کی کوئی قدر نہیں، جب ہمارے لوگ مارے جاتے ہیں، اس پر کوئی کارروائی نہیں ہوتی یہی وجہ ہے کہ کورٹ مارشل میں جس فوجی افسر کو راجوری کے 3معصوم نوجوانوں کے قتل کیلئے عمر قید کی سزا دی گئی تھی، کل اُسے کھلا چھوڑ دیا گیا اور اس کی سزا معطل کی گئی، کتنے افسوس کی بات ہے،ہمارے لوگ جو بنا کسی الزام کے جھیلوں میں برساسہا برس سے سڑ رہے ہیں، انہیں صرف تاریخ پہ تاریخ ملتی ہے اور وہ باہر نہیں آتے، کتنے سارے نوجوانوں 2019کے بعد جیلوں میں ہیں اور انہیں ضمانت نہیں ملتی ہے۔ معمولی سے معمولی الزام کی بنیاد پر ہمارے سرکاری ملازمین کو نوکریوں سے نکالا جاتاہے، لوگوں کے گھروں کے اوپر بلڈوزر چلائے جاتے ہیں، اُس وقت مرکزی حکومت کو کوئی فرق نہیں پڑتا ہے،لیکن جس آدمی کو اپنی فوجی تحقیقات میں ہی گناہگار پایا گیا اور عمر قید کی سزا سُنائی گئی ، اب وہ3معصوم نوجوانوں کا قاتل کھلے عام گھومے گا۔سازشی عناصر کو ہدف تنقید بناتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ جہاں جموںوکشمیر میں بہت کچھ بدلا، ہمارا جھنڈا چھینا گیا، ہمارا آئین چھینا چھینا گیا، وہیں لوگوں کی آواز کو کمزور کرنے کی سازشوں میں کوئی کمی واقع نہیں آئی اور ٹنگمرگ کے سابق ایم ایل اے صاحب ان سازشوں میں ہر وقت پیش پیش رہے ہیںاور جب بھی نئی دلی نے انہیں کوئی سازشیں رچانے کی ذمہ داری سونپی تو انہوں نے وہ بخوبی انجام دی۔ 1984میں جب نیشنل کانفرنس کی حکومت کو گرانے کیلئے نئی دلی میں سازش ہوئی اُس وقت بھی ٹنگمرگ کے سابق ایم ایل اے پیش پیش تھے اور اگر 1984نہیں ہوا تو تا آج جموں وکشمیر کی یہ حالت نہیں ہوتی۔ 1984کا یہ واقعہ جموں و کشمیر کے حالات کی خرابی بھی بنیاد بنا۔ جب نیشنل کانفرنس نے 1999میں اسمبلی میں دوتہائی اکثریت سے اٹانومی کی قرارداد پاس کرائی تو نئی دلی ہڑبڑا اُٹھی اور اس نے نیشنل کانفرنس کو کمزور کرنے کیلئے ایک اور سازش رچائی اور ایک نئی سیاسی جماعت بنانے کی سعی کی اور ٹنگمرگ کے سابق ایم ایل اے صاحب اس سازش میں بھی برابر شریک رہے۔ 2019میں جب جموں وکشمیر کی خصوصی پوزیشن چھینی گئی اور تمام سیاسی لیڈران جیلوں اور سب جیلوں میں بند تھے ، اُس وقت بھی نئی دلی نے یہاں ایک نئی سیاسی جماعت بنانے کا فیصلہ کیا گیا تاکہ غیر ملکی سفارتکاروں کو دکھایا جاسکے کہ یہاں سیاسی لیڈران آزاد ہیں اور اُن سے بات کرائی جاسکے، اس میں بھی ٹنگمرگ کے سابق ایم ایل اے صاحب آگے آگے تھے۔اتنا ہی نہیں موجودہ مرکزی وزیر اور سابق فوجی سربراہ نے اس بات کا انکشاف بھی کیا تھا کہ 2010میں عمر عبداللہ حکومت کو کمزور کرنے اور حالات کو بگاڑنے کیلئے اُس وقت کے ٹنگمرگ کے ایم ایل اے کو زرکثیر دیا گیا تھا۔ جن لوگوں نے 40سال تک سازشیں رچائیں اور کشمیریوں کو اندھیروں میں دھکیلا، وہ آگے جاکر نہیں بدلیں گے کیونکہ وہ عادت سے مجبور ہیں۔ اس لئے ٹنگمرگ کے عوام کی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اس سازشی لیڈر کو مسترد کردیں ،تاکہ مستقبل میں اسے کسی بھی سازش کا حصہ ہونے کا موقعہ فراہم نہ ہوسکے۔جموں وکشمیر سے متعلق امن و امان، تعمیر و ترقی، روزگار اور خوشحالی کے مرکزی حکومت کے دعوئوں کو محض جھوٹ اور فریب قرار دیتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ 2019میں جب جموںوکشمیر کی خصوصی پوزیشن چھینی گئی اُس وقت کہا گیا تھا کہ یہاں نوجوانوں کو گھر بیٹھے بیٹھے نوکریوں کے آرڈر فراہم کئے جائیں گے، آج 4سال سے زائد عرصہ ہوگیا اور ہم پوچھنے کیلئے مجبور ہوجاتے ہیں کہ کہاں ہے امن و امان؟ کہاں ہے ترقی؟ کہاں ہے خوشحالی، کن نوجوانوں کو سرکاری ملازمتوں کے آرڈر ملے، یہاں تو اُن کو بھی نکالا جارہاہے جو پہلے سے ہی نوکریاں کررہے ہیں۔ آج ہمارے ملازمین سے کہا جارہاہے کہ ثابت کرو کہ کیسے نوکری لگی ہے نہیں تو نکال دیں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں