1432637

ماہ رمضان المبارک

ماہ رمضان المبارک

تحریر: مولانا سید علی ہاشم عابدی

اللہ تبارک و تعالی کا مہینہ ماہ رمضان المبارک جس کا پہلا عشرہ برکت، دوسرا عشرہ رحمت اور تیسرا عشرہ مغفرت ہے۔ اس کے دن تمام دنوں سے افضل، اسکی راتیں تمام راتوں سے افضل ، اسکے ساعات تمام ساعات سے افضل ہیں۔ اس میں بندہ مہمان ہوتا ہے اور اللہ میزبان ہوتا ہے۔

ماہ رمضان المبارک کی مناسبتیں مندرجہ ذیل ہیں۔

یکم ماہ رمضان

1۔ خلیل اللہ حضرت ابراہیم علیہ السلام پر صحیفہ نازل ہوا۔

2۔ جنگ تبوک ۔ سن 9 ہجری

3۔ مرگ مروان بن حکم ۔ سن 65 ہجری

مروان رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے شدید ترین دشمن حکم بن ابی العاص کا بیٹا تھا، حضورؐ نے ان باپ بیٹے کو مدینہ سے باہر کر دیا تھا ۔ خلیفہ ثالث عثمان بن عفان نے ان دونوں کو اپنے دورہ حکومت میں مدینہ بلایا اور فدک عطا کیا، نیز امور حکومت میں شامل کیا۔ جس کے سبب حکومت ظلم و ستم کا مرکز بن گئی اور نتیجہ میں تنگ آ کر لوگوں نے حاکم کا محاصرہ کر کے قتل کردیا۔

مروان جنگ جمل و صفین میں امیرالمومنین امام علی علیہ السلام کے مقابل لشکر میں سرگرم تھا، جب حضرت امام حسین علیہ السلام اپنے بھائی حضرت امام حسن علیہ السلام کی شہادت کے بعد جنازہ لے کر روضہ رسولؐ پر پہنچے تو اس نے مخالفت کی اور جنازہ پر تیراندازی کرائی، حاکم مدینہ ولید نے جب امام حسینؑ کو یزید کی بیعت کے لئے بلایا تو مروان نے ولید کو امام حسین علیہ السلا م کے قتل کی تشویق کی۔

یزید پلید کے واصل جہنم ہونے کے بعد جب معاویہ بن یزید حکومت سے دستبردار ہوا تو مروان حاکم ہوا۔ مروان نے یزید کی بیوہ ام خالد سے شادی کی کہ جسکی ایک دن توہین کر دی تو اس نے زہر دے کر اس کا کام تمام کر دیا۔

واضح رہے کہ مروان کی اہلبیتؑ سے تمام تر دشمنیوں کے باوجود جب واقعہ حرہ میں اس نے حضرت امام زین العابدین علیہ السلام سے مدد مانگی تو کریم ابن کریم امام سجادؑ نے اس کی مدد کی، اس کے اہل خانہ کو تحفظ بخشا۔

4۔ ولایت عہدی امام علی رضا علیہ السلام سن 201 ہجری

5۔ وفات حضرت نفیسہ سلام اللہ علیہا ۔ سن 208 ہجری

آپ امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام کے پوتے جناب حسن بن زید کی بیٹی تھیں، انتہائی زاہدہ اور عابدہ خاتون تھیں ، آپ کی شادی امام جعفر صادق علیہ السلام کے فرزند جناب اسحاق مؤتمن سے ہوئی اور یکم رمضان المبارک سن 208 ہجری کو قاہرہ مصر میں حالت روزہ میں وفات پائی۔

6۔ وفات ابن سینا 428 ہجری

عظیم فیلسوف اور نامور حکیم جناب ابوعلی حسین بن عبدالله بن سینا المعروف بہ ابن سینا 370 ہجری کو ہمدان ایران میں پیدا ہوئے۔ دس برس کی عمر میں قرآن کریم حفظ کر لیا ۔

ابن سینا نے حکمت و فلسفہ کو نئی جہت عطا کی کہ آج بھی ان کی کتابیں محققین کے لئے مشعل راہ ہیں۔

یکم ماہ رمضان المبارک 428 ہجری کو ہمدان میں انتقال کیا اور وہیں دفن ہوئے۔

7۔ وفات سیدہ نصرت امین رحمۃ اللہ علیہا 1403 ہجری

تیرہویں صدی کی معروف عالمہ، عارفہ، فقیہ سیدہ نصرت امین رحمۃ اللہ علیہا 1312 ہجری کو اصفہان ایران کے ایک دینی گھرانے میں پیدا ہوئیں۔ آپ نے بانی حوزہ علمیہ قم آیۃ اللہ العظمیٰ شیخ عبدالکریم حائری رحمۃ اللہ علیہ جیسے عظیم فقہاء و مجتہدین سے اجازہ اجتہاد اور اجازہ روایات حاصل کیا۔ اسی طرح آپ نے متعدد بزرگان دین کو اجازہ اجتہاد و روایات عطا کئے۔ آپ کی تصنیفات و تالیفات کی طویل فہرست ہے۔

13؍ برس کی عمر میں آپ کی شادی آپ کے چچا زاد سے ہوئی ۔ اللہ نے آپ کو آٹھ اولادیں عطا کیں جنمیں سے 7 ؍ بچے بچپن میں ہی انتقال کر گئے۔

یکم رمضان المبارک 1403 ہجری کو اصفہا ن میں رحلت فرمائی اور قبرستان تخت فولاد میں دفن ہوئیں۔

3 ماہ رمضان المبارک

1۔ نزول انجیل

الہی آسمانی کتاب انجیل حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر نازل ہوئی۔

2۔ شہادت حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا (ایک روایت) سن 11 ہجری

3۔ وفات شیخ مفید رحمۃ اللہ علیہ 413 ہجری

چوتھی اور پانچویں صدی ہجری کے معروف شیعہ عالم، معلم، متکلم اور فقیہ جناب محمد بن محمد بن نُعمان المعروف بہ شیخ مفید رحمۃ اللہ علیہ 11 ؍ ذی القعدہ 336 ہجری یا 338 ہجری کو بغداد کے نزدیک عکبری میں پیدا ہوئے، آپ کے والد معلم تھے اس لئے آپ کو ابن معلم بھی کہتے ہیں ۔

جناب شیخ مفیدؒ شیخ صدوقؒ، ابن جنید اسکافیؒ اور ابن قولویہؒ کے شاگرد تھے۔ جناب سید مرتضیٰ علم الہدیٰؒ، جناب سید رضیؒ (جامع نہج البلاغہ) اور شیخ الطائفہ جناب شیخ طوسیؒ وغیرہ آپ کے شاگرد تھے۔

شیخ مفیدؒ کی کتابوں کی طویل فہرست ہے جنمیں ائمہ معصومین علیہم السلام کی سوانح حیات ’’الارشاد‘‘ سرفہرست ہے۔

3 ماہ رمضان 413 ہجری کو بغداد میں آپ کی وفات ہوئی۔ کچھ دن جنازہ گھر میں دفن رہا بعد میں امام موسیٰ کاظم علیہ السلام اور امام محمد تقی علیہ السلام کے روضہ مبارک کاظمین میں دفن ہوا۔ جہاں آج بھی محبان اہلبیت علیہم السلام امامین کاظمین علیہماالسلام کی زیارت کے بعد اپنے اس عظیم فقیہ و عالم کی قبر مبارک کی زیارت کرتے ہیں۔

4 ماہ رمضان

1۔ مرگ زیاد بن ابیہ ۔ سن 53 ہجری

زیاد سمیہ کا بیٹا تھا، دوسرے دور حکومت میں بصرہ کے گورنر مغیرہ بن شعبہ کا کاتب تھا۔ حضرت امیرالمومنین امام علی علیہ السلام نے ابن عباس کی تجویز پر اپنے دور حکومت میں زیاد کو ایران بھیجا ، جنگ صفین میں یہ آپ کے لشکر میں تھا۔ امام حسن علیہ السلام کی صلح کے بعد حاکم شام نے اسے اپنا بھائی بتایا اور بصرہ کا گورنر بنایا اور جب مغیرہ بن شعبہ ہلاک ہوا تو اسے کوفہ کا حاکم بنا دیا۔

زیاد نے حاکم شام کے حکم پر امیرالمومنین علیہ السلام کے شیعوں کا چن چن کر قتل کیا، ان کے گھر تاراج کئے، اموال غصب کئے۔ آخر چار رمضان المبارک 53 ہجری کو کوفہ میں ہلاک ہو گیا۔

زیاد کے بیٹے عبیداللہ نے واقعہ کربلا میں اہم رول ادا کیا۔

۲۔ وفات آیۃ اللہ میرزا حسن علی تہرانی رحمۃ اللہ علیہ 1425 ہجری

آیۃ اللہ میرزا حسن علی تہرانی رحمۃ اللہ علیہ تہران میں پیدا ہوئے، ابتدائی تعلیم تہران میں حاصل کرنے کے بعد نجف اشرف تشریف لے گئے اور وہاں بزرگ علماء و اساتذہ سے کسب فیض کیا اور درجہ اجتہاد پر فائز ہوئے، نجف اشرف کے بعد سامرہ تشریف لے گئے اور آیۃ اللہ العظمٰی میرزا محمد حسن حسینی شیرازی رحمۃ اللہ علیہ کے درس میں شامل ہوئے۔

سامرہ سے مشہد مقدس تشریف لائے، تبلیغ و تدریس میں مصروف ہوگئے۔ آپ کے شاگردوں کی طویل فہرست ہے، اسی طرح آپ کی تالیفات بھی ہیں ۔

4؍ رمضان المبارک سن 1325 ہجری کو مشہد میں رحلت فرمائی اور امام علی رضا علیہ السلام کے روضہ مبارک میں دفن ہوئے

3۔ وفات آیۃ اللہ میرزا ہاشم آملی رحمۃ اللہ علیہ۔ سن 1413 ہجری

آیۃ اللہ میرزا ہاشم آملی رحمۃ اللہ علیہ سن 1322 ہجری کو لاریجان آمل میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم لاریجان میں حاصل کرنے کے بعد تہران کے مدرسہ سپہ سالار میں تعلیم حاصل کی۔ پھر حوزہ علمیہ قم مقدس تشریف لے گئے جہاں آیۃ الله العظمیٰ شیخ عبدالکریم حائریؒ (بانی حوزہ علمیہ قم)، آیۃ اللہ العظمیٰ سید محمد حجت کوہ کمری ؒ (بانی مدرسہ حجتیہ قم مقدس) ‌آیۃ اللہ العظمیٰ محمد علی شاہ آبادیؒ اور آیۃ اللہ العظمیٰ محمد علی حائری قمیؒ سے کسب فیض کیا اور درجہ اجتہاد پر فائز ہوئے۔

اسکے بعد آپ نجف اشرف تشریف لے گئے جہاں آیۃ اللہ العظمیٰ سید ابوالحسن اصفہانیؒ، آیۃ اللہ العظمیٰ محمدحسین غروی نائینیؒ اور آیۃ اللہ العظمیٰ آقا ضیاء عراقی ؒ سے کسب فیض کیا۔

آیۃ اللہ میرزا ہاشم آملی رحمۃ اللہ علیہ کے شاگردوں کی طویل فہرست ہے جنمیں آیۃ اللہ العظمیٰ میرزا جواد تبریزیؒ، آیۃ اللہ العظمیٰ ناصر مکارم شیرازی دام ظلہ، علامہ محمد ہادی معرفتؒ، شہید آیۃ اللہ محمد مفتحؒ ، آیۃ اللہ العظمیٰ جوادی آملی دام ظلہ اور علامہ حسن زادہ آملی رحمۃ اللہ علیہ سر فہرست ہیں ۔

اللہ نے آپ کو ایک بیٹی اور پانچ بیٹے عطا کئے، جنمیں جناب علی لاریجانی ایرانی پارلیمینٹ کے اسپیکر رہے ہیں اور آیۃ اللہ صادق لاریجانی دام ظلہ ایکسپیڈیسی کونسل ایران کے صدر اور سابق چیف جسٹس اسلامی جمہوریہ ایران ہیں۔

آیۃ اللہ میرزا ہاشم آملی رحمۃ اللہ علیہ کی تصنیفات و تالیفات کی طویل فہرست ہے۔

4؍ رمضان المبارک 1413 ہجری کو 91 ؍ برس کی عمر میں رحلت فرمائی، آیۃ اللہ العظمیٰ وحید خراسانی دام ظلہ نے نماز جنازہ پڑھائی ، حضرت معصومہ سلام اللہ علیہا کے روضہ مبارک قم مقدس میں دفن ہوئے۔

4۔ وفات علامہ سید مرتضیٰ عسکری رحمۃ اللہ علیہ۔ سن 1428 ہجری

علامہ سید مرتضیٰ عسکری رحمۃ اللہ علیہ 18 ؍ جمادی الثانی سن 1332 ہجری کو سامرہ میں پیدا ہوئے ۔ آپ ددہیال اور ننہیال دونوں لحاظ سے ایک علمی گھرانے سے تعلق رکھتے تھے۔ دس برس کی عمر میں حوزہ علمیہ سامرہ میں داخل ہوئے اور حوزہ علمیہ عراق میں رائج کتابیں جیسے سیوطی، شرح جامی، شرح ابن عقیل، مغنی، حاشیہ، مختصر وغیرہ پڑھیں۔ چونکہ آپ شرعی رقومات خود پر خرچ نہیں کرتے بلکہ ساوہ ایران میں موجود زمینوں سے آپ کا خرچ چلتا تھا لیکن جب رضا خان پہلوی نے ایران سے عراق پیسے لے جانے پر پابندی لگا دی تو مجبور ہو کر قم مقدس تشریف لائے، مدرسہ فیضیہ میں قیام فرمایا اور حضرت امام خمینی قدس سرہ کے درس میں شرکت کی۔

حوزہ علمیہ قم میں کچھ دن قیام کے بعد بعض وجوہات کے سبب دوبارہ عراق تشریف لے گئے اور ’’اصول الدین‘‘ نامی علمی مرکز قائم کیا جسے بعد میں صدام کی بعثی پارٹی نے بند کرا دیا۔ نیز آپ نے شہید خامس آیۃ اللہ العظمیٰ سید محمد باقر الصدر رحمۃ اللہ علیہ کے ہمراہ’’ حزب الدعوۃالاسلامیہ عراق‘‘ میں سرگرم ہوئے۔

علامہ مرتضیٰ عسکری رحمۃ اللہ علیہ کو بچپن سے ہی اسلامی تاریخ کے مطالعہ میں دلچسبی تھی لہذا آپ نے اس سلسلہ میں نمایاں کارنامے انجام دئے۔ عبداللہ بن صبا، سقیفہ، معالم المدرستین، ایک سو پچاس جعلی صحابہ جیسی کتابیں لکھیں۔ مذکورہ کتب کے علاوہ مختلف موضوعات پر آپ کی کتابیں ہیں جنکا مختلف زبانوں خصوصا اردو میں ترجمہ ہو چکا ہے۔

علامہ عسکریؒ نے مناظرے بھی کئے جن میں سابق وہابی سعودی مفتی بن باز، ابوالاعلیٰ مودودی اور خطیب رقہ سے مناظرہ سر فہرست ہیں۔

4؍ رمضان المبارک 1428 ہجری کو تہران کے میلاد ہسپتال میں رحلت فرمائی اور حضرت فاطمہ

معصومہ سلام اللہ علیہا کے روضہ مبارک قم مقدس میں دفن ہوئے۔

5 ماہ رمضان المبارک

1۔ وفات آیۃ اللہ محمد تقی بافقی رحمۃ اللہ علیہ۔ سن 1365 ہجری

چودہویں صدی ہجری کے معروف عالم، فقیہ، مبلغ اور مجاہد آیۃ اللہ محمد تقی بافقی رحمۃ اللہ علیہ سن 1292 ہجری کو یزد ایران کے بافق نامی گاوں میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم و تربیت اپنے والد سے حاصل کرنے کے بعد دینی تعلیم کے لئے یزد تشریف لے گئے ۔ یزد میں تعلیم مکمل کرنے کے بعد سن 1320 ہجری میں حوزہ علمیہ نجف اشرف تشریف لے گئے۔ جہاں آیۃ اللہ العظمیٰ آخوند ملا محمد کاظم خراسانیؒ ، آیۃ اللہ العظمیٰ سید محمد کاظم یزدیؒ ، عظیم محدث آیۃ اللہ العظمیٰ حاج میرزا حسین نوریؒ ، آیۃ اللہ سید احمد موسوی کربلاییؒ، آیۃ اللہ العظمیٰ ملا حسین قلی ہمدانیؒ، آیۃ اللہ العظمیٰ شیخ محمد بہاری ہمدانیؒ اور آیۃ اللہ العظمیٰ سید حسن صدر کاظمینیؒ سے کسب فیض کیا اور درجہ اجتہاد پر فائز ہوئے۔

نجف اشرف سے قم مقدس واپس آئے اور حوزہ علمیہ کے قیام کے لئے کوششیں کی ، جب آیۃ اللہ العظمیٰ شیخ عبدالکریم حائری رحمۃ اللہ علیہ قم تشریف لائے آپ ہی کی تحریک پر مومنین نے انکا زبردست استقبال کیا اور قم مقدس میں قیام کی دعوت دی، نیز خود آپ علماء کے ہمراہ انکی خدمت میں حاضر ہوئے اور حوزہ علمیہ کے قیام کی گذارش کی ۔ جسے آیۃ اللہ العظمیٰ شیخ عبدالکریم حائری رحمۃ اللہ علیہ نے قبول کیا اور حوزہ علمیہ قم کا قیام عمل میں آیا۔

جس خصوصیت کے سبب آپ کو اپنے ہم عصر علماء میں امتیاز حاصل ہے وہ آپ کی شجاعت ہے۔ آپ نے ظالم پہلوی شاہ کے ظالمانہ احکام کا شجاعت اور بے باکی سے مقابلہ کیا۔ جس کے نتیجہ میں قید و بند اور جلا وطنی کی مشقتیں برداشت کرنی پڑی۔

5؍ رمضان المبارک 1365 ہجری کو جلاوطنی میں وفات پائی ، وفات کے بعد جنازہ قم لایا گیا اور حضرت معصومہ سلام اللہ علیہا کے روضہ مبارک میں دفن ہوئے۔

6 ماہ رمضان المبارک

1۔ نزول تورات

الہی آسمانی کتاب تورات حضرت موسیٰ علیہ السلام پر نازل ہوئی۔

2۔ امام علی رضا علیہ السلام کے نام کا سکہ جاری ہوا۔ سن 201 ہجری

ولایت عہدی کے بعد مامون نے امام علی رضا علیہ السلام کے نام کا سکہ جاری کرایا۔

3۔ وفات فقیہ عالی قدر جناب حمزہ بن عبدالعزیز سلار دیلمی رحمۃ اللہ علیہ 463 ہجری

پانچویں صدی ہجری کے معروف شیعہ عالم و فقیہ جناب حمزہ بن عبدالعزیز سلار دیلمی رحمۃ اللہ علیہ شیخ الاسلام جناب شیخ مفید رحمۃ اللہ علیہ اور جناب سید مرتضیٰ علم الہدیٰ رحمۃ اللہ علیہ کے شاگرد تھے۔ جنہیں سید مرتضیٰ رحمۃ اللہ علیہ نے حلب سیریا کا قاضی بنا کر بھیجا۔ نیز آپ کے علمی آثار بھی موجود ہیں جنمیں المراسم العلویہ فی الاحکام النبویہ، المقنع فی المذہب، التقریب (التہذیب) در اصول فقہ، التذکرۃ فی حقیقۃ الجوہر و العرض، الابواب و الفصول فی الفقہ، المسائل السلاریہ اور الرد علی ابی الحسن البصری فی نقض الشافی زیادہ مشہور ہیں۔

علماء و فقہاء کے نزدیک آپ کا اعتبار ثابت ہے۔ استادالفقہاء و المجتہدین آیۃاللہ العظمیٰ سید ابوالقاسم الخوئی رحمۃ اللہ علیہ نے آپ کی وثاقت کو بیان کیا ہے۔

فقیہ عالی قدر جناب حمزہ بن عبدالعزیز سلار دیلمی رحمۃ اللہ علیہ نے 6 ؍ رمضان المبارک سن 463 ہجری کو خسرو شہر تبریز ایران میں وفات پائی اور وہیں دفن ہیں۔

7 ماہ رمضان المبارک

1۔ امام علی رضا علیہ السلام کی ولایت عہدی کا آغاز

2۔ وفات حمزہ بن علی بن زہرہ حلبی رحمۃ اللہ علیہ 585 ہجری

چھٹی صدی ہجری کے معروف شیعہ عالم، فقیہ، اصولی، متکلم اور نحوی جناب حمزہ بن علی بن زہرہ حسینی حلبی المعروف بہ ابن زہرہ رحمۃ اللہ علیہ ماہ رمضان المبارک 511 ہجری کو حلب سیریا میں پیدا ہوئے۔ آپ کا سلسلہ نسب حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے ملتا ہے۔

آپ نے اپنے والد ماجد جناب علی بن زہرہ حلبی رحمۃ اللہ علیہ، داداجناب السید ابوالمحاسن زہرہ الحلبی رحمۃ اللہ علیہ، جناب أبو منصور محمد بن الحسن بن منصور نقاش موصلی اور جناب ابو عبدالله حسین بن طاہر بن حسین رحمۃ اللہ علیہ سے کسب فیض کیا ۔

جناب ابن زہرہؒ کے شاگردوں کی طویل فہرست ہے جنمیں جناب شاذان بن جبرئیل قمیؒ،جناب محمد بن جعفر مشہدی ؒ اورجناب ابن ادریس حلیؒ سر فہرست ہیں۔

آپ نے مختلف موضوعات پر کتابیں لکھیں جنمیں فقہ میں ’’الغنیہ‘‘ زیادہ مشہور ہے۔

جناب شیخ حر عاملی رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک آپ عالم، فاضل،قابل اعتبار اور کثیر التصنیف شخصیت ہیں۔

علامہ مجلسی رحمۃ اللہ علیہ نے آپ کو کامل عالم کے عنوان سے یاد کیا ہے۔

اسی طرح جناب محدث نوری رحمۃ اللہ علیہ اور محدث قمی رحمۃ اللہ علیہ نے آپ کی تجلیل فرمائی۔

7؍ رمضان المبارک 585 ہجری کو حلب میں وفات پائی اور مشہد السقط (مشہد المحسنؑ) میں دفن ہوئے۔

3۔ شہادت آیۃ اللہ علی اصغر احمدی شاہرودی رحمۃ اللہ علیہ 1411 ہجری

آیۃ اللہ علی اصغر احمدی شاہرودی رحمۃ اللہ علیہ 1342 ہجری کو شاہرود کے ایک دینی اور علمی گھرانے میں پیدا ہوئے۔ آپ نے مقدمات اور عربی ادب اپنے والد آیۃ اللہ شیخ محمد تقی شاہرودی رحمۃ اللہ علیہ سے پڑھ کر 1357 ہجری کو قم مقدس تشریف لے گئے جہاں آیۃ اللہ محقق دامادؒ، آیۃ اللہ العظمیٰ سید محمد حجت رحمۃ اللہ علیہ، آیۃ اللہ العظمیٰ سید روح اللہ موسوی خمینی قدس سرہ سے کسب فیض کیا، بروجرد میں آیۃ اللہ العظمیٰ بروجردی رحمۃ اللہ علیہ سے شرف تلمذ حاصل کیا اور نجف اشرف تشریف لے گئے جہاں آیۃ اللہ العظمیٰ سید محسن الحکیم رحمۃ اللہ علیہ اور آیۃ اللہ العظمیٰ سید ابوالقاسم خوئی رحمۃ اللہ علیہ سے کسب فیض کیا اور آیۃ اللہ العظمیٰ خوئی رحمۃ اللہ علیہ کی کتاب ’’محاظرات فی الفقہ الجعفری‘‘ پر حاشیہ لکھا۔

7؍ رمضان المبارک 1411 ہجری کو حضرت امیرالمومنین امام علی علیہ السلام کے روضہ مبارک کے نزدیک صدام کے فوجیوں نے گولی مار کر شہید کر دیا، تین دن تک جنازہ پڑا رہا۔ تین دن بعد کچھ علماء نے لباس بدل کر جنازہ اٹھایا اور دفن کیا۔

4۔ وفات آیۃ اللہ سید عبدالعزیز طباطبایی یزدی رحمۃ اللہ علیہ 1416 ہجری

آیۃ اللہ سید عبدالعزیز طباطبایی یزدی رحمۃ اللہ علیہ 21 ؍جمادی الثانی 1348 ہجری کو نجف اشرف میں پیدا ہوئے۔ آپ صاحب عروۃ الوثقیٰ آیۃ اللہ العظمیٰ سیدمحمد کاظم طباطبائی یزدی رحمۃ اللہ علیہ کی نسل سے تھے۔

ابتدائی دینی تعلیم حاصل کرنے کے بعد 15 ؍ برس کی عمر میں ایران آ گئے، والد کے انتقال کے بعد قم مقدس تشریف لائے جہاں آیۃ اللہ سید رضا صدر رحمۃاللہ علیہ سے تعلیم حاصل کی اور ایک سال بعد نجف واپس چلے گئے جہاں آیۃ اللہ العظمیٰ سید ابوالقاسم خوئی رحمۃ اللہ علیہ، آیۃ اللہ العظمیٰ عبدالہادی شیرازی رحمۃ اللہ علیہ، آیۃ اللہ العظمیٰ عبدالاعلی سبزواری رحمۃ اللہ علیہ، آیۃ اللہ العظمیٰ سید ہاشم حسینی تہرانی رحمۃ اللہ علیہ اور آیۃ اللہ میرزا محمد علی رحمۃاللہ علیہ سے شرف تلمذ حاصل کیا ۔ آیۃ اللہ العظمیٰ سید ابوالقاسم خوئی رحمۃ اللہ علیہ ، آیۃ اللہ العظمیٰ سید عبدالہادی شیرازی رحمۃ اللہ علیہ اور آیۃ اللہ آقابزرگ تہرانی رحمۃ اللہ علیہ سے اجازہ روایت حاصل کیا۔

محقق طباطبائی رحمۃ اللہ علیہ کو شیعوں کی قدیمی کتابوں میں آشنائی سے دلچسبی تھی اور علامہ امینیؒ کے تحقیقی ادارہ کے سرگرم رکن تھے۔ آپ نے بزرگان کے آثار کی تکمیل ، تصحیح اور تحقیق کی جنکی ایک طویل فہرست ہے۔ آپ کی تالیفات میں ’’مستدرک الذریعہ اہل البیت فی مکتبۃ العربیہ‘‘،’’ الغدیر فی التراث الاسلامی‘‘،’’ معجم اعلام الشیعہ‘‘زیادہ مشہور ہیں۔

7؍ رمضان المبارک 1416ہجری کو وفات پائی، قم مقدس میں حضرت معصومہ سلام اللہ علیہا کے روضہ مبارک میں دفن ہوئے۔

5۔ وفات آیۃ اللہ سید جواد حیدری رحمۃ اللہ علیہ 1435 ہجری

آیۃ اللہ سید جواد حیدری رحمۃ اللہ علیہ ایران کے شہر یزد کے امام جماعت تھے، آپ ایک عملی مبلغ تھے، اپنے کھیت میں کام کرتے اور دین کی تبلیغ کرتے ، آپ کی تقریر سننے کے لئے لوگ جوق در جوق حاضر ہوتے، آپ نے ایک تقریر میں فرمایا:’’ لوگ اپنی دنیا کے لئے جتنی ہوشیاری کرتے ہیں ائے کاش آخرت کے لئے کرتے۔ ‘‘ ایک دوسرے مقام پر فرمایا: انسان جب بوڑھا ہو جاتا ہے تو صرف جنت کی جستجو کرتا ہے۔

8 ماہ رمضان المبارک

1۔ ولادت مرجع عالی قدر آیۃ اللہ العظمیٰ سید موسی شبیری زنجانی دام ظلہ الوارف. سن 1346 ہجری

آپ آیۃ اللہ العظمیٰ سید محسن الحکیم رحمۃ اللہ علیہ ، آیۃ اللہ العظمیٰ بروجردی رحمۃ اللہ علیہ، آیۃ اللہ العظمیٰ سید ابوالقاسم خوئی رحمۃ اللہ علیہ ، آیۃ اللہ العظمیٰ سید عبدالہادی شیرازی رحمۃ اللہ علیہ ، آیۃ اللہ رضا صدر رحمۃ اللہ علیہ اور آیۃ اللہ سید محمد داماد رحمۃ اللہ علیہ کےشاگرد ہیں۔ علم رجال میں ماہر ہیں۔ آیۃ اللہ العظمیٰ اراکی رحمۃ اللہ علیہ کی وفات کے بعد جامعہ مدرسین حوزہ علمیہ قم نے جن سات مراجع کرام کا تعارف کرایا ان میں سے ایک آپ بھی ہیں۔

خدا وند عالم آپ کو صحت و سلامتی اور طول عمر عطا فرمائے۔ آمین

9 ماہ رمضان المبارک

1۔ وہابیوں نے نجف اشرف پر حملہ کیا ۔ 1225 ہجری

2۔ وفات آیۃ اللہ محمد بہاری ہمدانی رحمۃ اللہ علیہ 1325 ہجری

عالم، عارف، حکیم و فقیہ آیۃ اللہ محمد بہاری ہمدانی رحمۃ اللہ علیہ 1265 ہجری کو شہر بہار ہمدان میں پیدا ہوئے۔ ہمدان میں ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے بعد بروجرد تشریف لے گئے جہاں مرجع عالی قدر آیۃ اللہ العظمیٰ سید حسین بروجردی رحمۃ اللہ علیہ کے والد آیۃ اللہ العظمیٰ میرزا محمود بروجردی رحمۃ اللہ علیہ سے کسب فیض کیا اور درجہ اجتہاد پر فائز ہو کر اپنے وطن بہار ہمدان واپس آ گئے۔

وطن میں کچھ دن قیام کر کے نجف اشرف تشریف لے گئے جہاں آیۃ اللہ العظمیٰ ملا حسین قلی ہمدانی رحمۃاللہ علیہ سے کسب فیض کیا ۔ ناساز طبیعت کے سبب ایران واپس آئے اور مشہد میں قیام کیا جب طبیعت سازگار ہوئی تو دوبارہ نجف کا ارادہ کیا لیکن اچانک طبیعت مزید ناساز ہو گئی تو وطن بہار ہمدان تشریف لے آئے۔ 9 ؍ رمضان المبارک 1325 ہجری کو وہیں وفات پائی ۔ آپ کا مزار ہمدان میں عقیدت مندوں کی زیارت گاہ ہے۔

10 ماہ رمضان المبارک

1۔ وفات ملیکۃ العرب ، ام المومنین حضرت خدیجہ سلام اللہ علیہا 10؍ بعثت

2۔ اہل کوفہ کا پہلا خط مکہ مکرمہ میں حضرت امام حسین علیہ السلام کو موصول ہوا۔ سن 60 ہجری

3۔ شہادت شہید محراب آیۃ اللہ محمد صدوقی رحمۃ اللہ علیہ 1402 ہجری

آیۃ اللہ محمد صدوقی رحمۃ اللہ علیہ 1327 ہجری کو یزد کے دینی اور علمی گھرانے میں پیدا ہوئے۔ آپ نے ابتدائی تعلیم پہلے یزد میں پھر اصفہان میں حاصل کر کے قم مقدس تشریف لے گئے۔ جہاں آیۃ اللہ العظمیٰ شیخ عبدالکریم حائری یزدی رحمۃ اللہ علیہ ، آیۃ اللہ سید صدرالدین صدر رحمۃ اللہ علیہ، آیۃ اللہ سید محمد تقی خوانساری رحمۃ اللہ علیہ، آیۃ اللہ العظمیٰ سید محمد حجت کوہ کمری رحمۃ اللہ علیہ اور امام خمینی قدس سرہ سے کسب فیض کیا۔ آیۃ اللہ العظمیٰ شیخ عبدالکریم حائری رحمۃ اللہ علیہ کے بعد حوزہ علمیہ قم میں بعض خدمات کی ادائگی آپ کے سپرد ہوئی جنمیں طلاب کو شہریہ دینا تھا۔ اللہ نے آپ کو قوی حافظہ دیا تھا کہ 10000 ؍ طلاب کو شہریہ دیتے جسے شب میں رجسٹر پر اندراج فرماتے۔

امام خمینی قدس سرہ کے حکم سے شہر یزد کے امام جمعہ ہوئے ۔ 10 ؍ رمضان المبارک 1402 ہجری کو نماز جمعہ کے بعد منافقین کے حملہ سے شہید ہو گئے۔

12؍ رمضان المبارک

1۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انصار و مہاجرین کے درمیان عقد اخوت قائم کیا۔

2۔ وفات ابن جوزی 592 ہجری

اہل سنت فقیہ، محدث، متکلم اور مورخ ابوالفرج عبدالرحمن بن علی ابوالفضائل جمال الدین بغدادی معروف بہ ابن جوزی جو حنبلی مذہب تھے اور ان کا سلسلہ نسب ابوبکر بن ابی قحافہ سے ملتا ہے۔

3۔ وفات آیۃ اللہ شیخ محمدمہدی خالصی رحمۃ اللہ علیہ سن 1343 ہجری

تیرہویں اور چودہویں صدی ہجری کے معروف شیعہ عالم، فقیہ اور مجاہد آیۃ اللہ شیخ محمد مہدی خالصی رحمۃ اللہ علیہ نے پہلی عالمی جنگ میں انگریزوں کے خلاف جہاد کا فتویٰ دیا۔ مشہد مقدس میں وفات پائی ، حضرت امام علی رضا علیہ السلام کے روضہ مبارک میں دفن ہوئے۔

4۔ وفات عالم و عارف سید ہاشم حداد رحمۃ اللہ علیہ 1404 ہجری

آپ آیۃ اللہ العظمیٰ سید علی قاضی طباطبائی رحمۃ اللہ علیہ کے شاگرد تھے۔

شہید محراب آیۃ اللہ سید عبدالحسین دستغیب رحمۃ اللہ علیہ ، آیۃ اللہ شہید سید مصطفیٰ خمینی رحمۃ اللہ علیہ ، شہید مرتضیٰ مطہری رحمۃ اللہ علیہ اور آیۃ اللہ سید محمد حسین حسینی تہرانی رحمۃ اللہ علیہ آپ کے شاگرد تھے۔ آپ شرعی رقوم سے پرہیز کرتے اور نعل سازی کے ذریعہ خرچ چلاتے تھے۔

13؍ رمضان المبارک

1۔ مرگ حجاج بن یوسف ملعون۔ سن 95 ہجری

حجاج بن یوسف ثقفی بنی امیہ کے دور میں عراق اور حجاز کا حاکم اور شیعوں کا دشمن تھا۔ بنی امیہ کی حکومت کو مضبوط بنانے میں اس کا بڑا کردار رہا۔ بنی امیہ سے وفاداری اور ان کی خلافت کی ترویج میں سعی و کوشش کی وجہ سے ان کے یہاں اسے بڑا مقام ملا۔ عبدالملک بن مروان نے مرتے ہوئے اپنے بیٹے ولید سے اس کی سفارش کی اور اپنے ایک بیٹے کا نام بھی حجاج رکھا۔

حجاج تاریخ میں خونخواری اور سفاکی میں مشہور ہے اور اپنے مخالفوں کو قتل کرنے میں اتنا آگے گیا کہ عبدالملک بن مروان نے بھی اتنی خون ریزی سے نارضایتی کا اظہار کیا۔ حجاج کے ہاتھوں مارے جانے والوں کی تعداد بعض مورخین نے 120000 اور ایک قول کے مطابق 130000 بتائی ہے۔

حجاج بن یوسف، نے واسط شہر کو تاسیس کیا اور وہیں پر فوت ہوا۔

2۔ وفات حکیم جہانگیرخان قشقائی رحمۃ اللہ علیہ سن 1328 ہجری

تیرہویں صدی ہجری کے معروف شیعہ عالم، حکیم ، فیلسوف، عارف اور فقیہ جناب جہانگیرخان قشقائی رحمۃ اللہ علیہ عقلی اور نقلی علوم کے ماہر استاد تھے۔ آپ کے شاگردوں کی طویل فہرست ہے جنمیں آیۃ اللہ حاج آقا ر

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں