Images (3)

لوگوں کواُکھسانے افواہیں پھیلانے فیصلے پر غلط تبصرہ کرنے کسی کو اجازت نہیں ہوگی /وجے کمار

آئینی بینچ کافیصلہ منظر عام پر لانے امن قانون کو بر قرار رکھنے کے لئے اے ڈی جی پی کی سربراہی میں میٹنگ
لوگوں کواُکھسانے افواہیں پھیلانے فیصلے پر غلط تبصرہ کرنے کسی کو اجازت نہیں ہوگی /وجے کمار

سرینگر/ / جموں وکشمیر کا خصوصی درجہ واپس لینے کے بعد دائر کی گئی عرضیوں پر11دسمبر کو آ ئینی بینچ کی جانب سے فیصلہ منظرعام پرلانے سے پہلے اے ڈی جی پی کی سربراہی میں اعلیٰ سطحی میٹنگ کاانعقاد امن قانون کی صورتحال کوبھرقراررکھنے سماج دشمن عناصر کی کاروائیوں کوروکنے اور سوشل میڈیا کے زریعے افواہیں پھیلانے والوں پرکڑی نظررکھنے کاکیاگیافیصلہ ۔اعلیٰ سطحی میٹنگ کے دوران اس بات پر زور دیاگیاکہ کسی کوبھی جموں وکشمیر میں امن بگاڑنے رواں داری کوزک پہنچانے کی اجازت نہیں دی جائے گی ۔جموں کشمیر پولیس افسران ڈپٹی کمشنروں کے ساتھ بھی رابطہ قائم کر کے امن قانون کی صورتحال کوبھرقرا ررکھنے کیلئے اٹھائے جانے والے اقدامات پرتبادلہ خیال جائیگا ۔ سپریم کورٹ آف انڈیا کے آ ئینی بینچ نے 11 دسمبرکو 370کو منسوخ کرنے کے حق میںاور مخالفت میں دائرکی گئی عرضیوں کافیصلہ منظر عام پرلانے کاعندیہ دیاہے جموں وکشمیر میں سپریم کورٹ آف انڈیا کے فیصلے سے امن قانون کی صورتحال پر اس کے کیااثرات مرتب ہونگے اس سلسلے میں ایڈشنل ڈائریکٹرجنر ل لاء اینڈ آرڈروجئے کمار کی سربراہی میں 8دسمبر کو اعلیٰ سطحی میٹنگ منعقدہوئی جس میں جموں وکشمیر پولیس سی آ ئی ڈی سی آئی کے دیگرخفیہ اداروں اور سیول انتظامیہ نے بھی شرکت کی ۔اس اعلیٰ سطحی میٹنگ کے دوران جموںو کشمیرکی حفاظت صورتحال پرتبادلہ خیال کیاگیااو ر11دسمبر کوآئینی بینچ کی جانب سے سنائے جانے والے فیصلے کے دوران جموںو کشمیر میں امن قانون کی صورتحال کوبھرقراررکھنے کے لئے اقدامات اٹھانے پربھی تبادلہ خیال ہوا ۔اعلیٰ سطحی میٹنگ کے دوران کہاگیاکہ دائرکی گئی عرضیوںکے حق یامخالفت میںجوبھی فیصلہ منظرعام پرآئیگا ا س دوران جموں وکشمیرمیں امن قانون کی صورتحال بھرقرار ررکھی جائے گی کسی کوبھی امن میںرخنہ ڈالنے لوگوں کواُکھسانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ میٹنگ کے دوران سوشل میڈیا کڑی نظررکھنے کافیصلہ کیاہے۔ سپریم کورٹ کے آئینی بینچ کی جانب سے صادر کئے آنے والے فیصلے کے حوالے سے افواہیں پھیلانے کی برپور کوشش کرینگے تاہم اس طرح کی صورتحال سے نمٹنے کے لئے قبل ازوقت اٹھانے ہونگے او رسو شل میڈیا کے زریعے جوبھی عناصر افواہیں پھیلانے کے مرتکب ہونگے ان کے خلاف کڑی کارروائی عمل میںلائی جائے گی ۔میٹنگ کے دوران جموںو کشمیرپولیس کے فیلڈ افسروں کوہدایت کی گئی کہ وہ ڈپٹی کمشنروں کے ساتھ ر ابطہ قائم کرے اور امن قانون کی صورتحال کو بھر قرار رکھنے کے لئے اقدامات پرتبادلہ خیال کرے ۔ایڈشنل ڈائریکٹرجنرل لا ء ان آرڈر نے کہاکہ جموںو کشمیرمیں کسی کو امن امان بگاڑے لوگوں کواُکھسانے جان ومال کونقصان پہنچانے افواہیں پھیلانے یاسپریم کورٹ آف آنڈیاکے فیصلے پر غلط بیانی کرے کی اجازت نہیں دی جائے گی ۔آئینی بینچ کافیصلہ 370کوبحال کرنے یا مرکزی سرکار کے فیصلے کوجائز ٹھہرانے کا ہو امن قانون کی صورتحال کوپرحال میں برقراررکھاجائیگا اور ان عناصر کے منصوبوں کوکھاک میں ملایاجائیگا جوجموں وکشمیرمیں کسی نہ کسی بہانے امن کی صورتحال کوبگاڑ کر اپنے مفادات کی تکمیل چاہتے ہیں ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں