2142245

قرآنِ کریم کو حفظ کرنا اس پر عمل کرنے کے راستے پر پہلا قدم ہے

ایران// آیت اللہ سید یوسف طباطبائی نژاد نے اصفہان میں مدرسہ علمیہ شہید طباطبائی نژاد کے فارغ التحفیظان کے اعزاز میں منعقدہ تقریب میں قرآن مجید کے حفظ کے ساتھ نہج البلاغہ اور صحیفہ سجادیہ کو حفظ کرنے کی اہمیت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: تین کتابیں ہیں جو دین کی بنیاد اور علم و دانش کا رکن ہے اور آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ حفظ ابھی آغاز ہے اور اس سے یہ نہیں سمجھنا چاہئے کہ ہمارا حفظ کا کام ختم ہو گیا ہے۔

انہوں نے کہا: قرآن مجید میں موجود انبیاء و پیغمبروں کے قصوں اور ان کے حالات کو بیان بھی بیان کرنا چاہئے۔ یہ قرآنِ کریم کا انتہائی خوبصورت اسلوب ہے جو اچانک درمیان میں ایک قصہ بیان کر دیتا ہے اور یہی قرآن کی مٹھاس کا سبب بھی ہے۔

آیت اللہ طباطبائی نژاد نے کہا: روایت میں ہے کہ جو عالم اپنے علم پر عمل نہیں کرتا وہ اس جاہل کی مانند ہے جو اپنی جہالت سے باہر نہیں آنا چاہتا۔ قرآنِ کریم کا حافظ بننا خداوند متعال کا خاص لطف و کرم ہے۔

انہوں نے مزید کہا: امام جواد علیہ السلام فرماتے ہیں کہ “مومن کو تین خصلتوں کی ضرورت ہوتی ہے، “خدا کی جانب سے توفیق اور اپنے نفس کے لئے خود واعظ ہونا اور مومن کی نصیحت کو قبول کرنا”۔

اصفہان کے امام جمعہ نے نہج البلاغہ میں امیر المومنین علیہ السلام کے فرمان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا: امام علیہ السلام فرماتے ہیں “تَعَلَّموا القرآنَ فإنَّهُ أحسَنُ الحَدیثِ و تَفَقَّهوا فیهِ فإنّهُ رَبیعُ القُلوبِ و استَشفوا بنُورِهِ فإنّهُ شِفاءُ الصُّدورِ” یعنی “قرآن سیکھو، کیونکہ یہ حدیثوں میں سب سے افضل ہے اور اسے سمجھو اور تفقہ کرو کیونکہ یہ دلوں کے لئے بہار ہے اور اس کے نور سے شفا حاصل کرو کیونکہ یہ سینوں (دلوں) کی شفا ہے”۔

(حوزہ نیوز)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں