4837526

عشرہ فجر، ایران میں انقلاب اسلامی کی سالگرہ کا آغاز

ایران //ایران میں انقلاب اسلامی کی سالگرہ کے حوالے سے دھہ فجر کا آغاز ہوچکا ہے۔ 1979 میں اسی روز امام خمینی فرانس سے واپس ایران پہنچ گئے تھے۔ یکم فروری 1979 کو کئی سال جلاوطنی کے بعد رہبر انقلاب کبیر امام خمینی فرانس سے تہران واپس پہنچ گئے تھے۔

آیت اللہ العظمی روح اللہ خمینی مرجع تقلید تھے جنہوں نے ایرانی شہنشاہ کے خلاف انقلاب میں عوام کی قیادت کی تھی۔ پوری دنیا میں ان کے مقلدین موجود تھے۔ ایران میں ان کو امام خمینی کے لقب سے پکارا جاتا ہے۔ ایرانی عوام نے انقلاب برپا کرنے میں ان کی پیروی کی۔

امام خمینی مرجع تقلید ہونے کے ساتھ اعلی پائے کے سیاستدان بھی تھے۔ انہوں نے ولایت فقیہ کے نظریے کی ترویج کی۔

امام خمینی نے 14 سال جلاوطنی میں گزارے جس میں سے زیادہ تر عرصہ عراق میں گزارا۔ ان کو شروع میں 1964 میں ایران سے ترکی جلاوطن کیا گیا جہاں وہ برسا شہر میں تقریبا ایک سال تک مقیم رہے۔ اس دوران ترک کرنل نے ان کی میزبانی کی۔

1965 میں امام خمینی کو عراق کے مقدس شہر نجف اشرف جانے کی اجازت دی گئی۔ جہاں وہ طویل عرصے تک رہائش پذیر ہوئے۔ سابق عراقی آمر صدام حسین نے ان کو نجف سے زبردستی نکال دیا جس کے بعد انہوں نے فرانس کے دارالحکومت پیرس کے نواحے علاقے نوفل لوشاتو کا رخ کیا۔

نجف اشرف میں قیام کے دوران انہوں اپنے دروس میں ولایت فقیہ کے موضوع پر لیکچر دیا جو بہت مشہور ہوا جس میں انہوں نے اسلامی حکومت کا خدوخال اور ولی فقیہ کے حکومتی منصب پر مستدل گفتگو کی۔

اس دوران انہوں نے اپنے نظریات کا احتیاط کے ساتھ پرچار کیا۔ انہوں نے اپنے دروس کے دوران شاہ ایران کی حکومت پر تنقید کی۔ ان کو یہودی ایجنٹ قرار دیا اور امریکی پٹھو حکومت کے خلاف ایرانی عوام میں شعور اجاگر کیا۔

شاہی حکومت کے خلاف مظاہرے بڑھنے کے ساتھ امام خمینی کی شخصیت کی شہرت بڑھتی گئی۔ جلاوطنی کے آخری ایام میں امام خمینی نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں اور اہم شخصیات کے ذریعے اپنے پیغامات بھیجے۔ مختلف رہنما امام خمینی کے ساتھ ملاقات کی آرزو کرتے تھے۔

16 جنوری1979 کو شاہ ایران نے ملک سے فرار کا راستہ اختیار کیا جس کے دو ہفتے بعد امام خمینی نے ایران واپس آنے کا اعلان کردیا۔ امام خمینی کی واپسی کا اعلان ہوتے ہی اس وقت کے وزیراعظم شاپور بختیار نے ملک کے ہوائی اڈے بند کرنے کا حکم دیا۔ اس حکم کے خلاف بڑے پیمانے پر احتجاج اور مظاہرے ہوئے جس میں متعدد افراد شہید ہوگئے۔ احتجاج کے نتیجے میں 29 جنوری کو ہوائی اڈے کھولنے کا حکمنامہ جاری ہوا۔ ایران کے انقلابی عوام نے لاکھوں کی تعداد میں جمع ہوکر ان کا پرتپاک استقبال کیا۔

امام خمینی کی آمد نے حکومت کے خلاف جاری احتجاج میں شدت پیدا کردی۔ 8 فروری کو فضائیہ کے اعلی افسران اور اہلکاروں نے امام خمینی کے پاس اپنی وفاداری کا اعلان کردیا۔ 11 فروری کو مسلح افواج کے اعلی افسران نے امام خمینی کے گھر پر حاضری دے کر بانی انقلاب اسلامی کے ساتھے یکجہتی اور ان کی حمایت کا اعلان کرتے ہوئے اپنے استعفی پیش کئے۔

مسلح افواج کے اس تاریخ فیصلے کے بعد حکومتی ادارے معطل ہوگئے۔

حالات قابو سے باہر ہونے کے بعد شاپور بختیار بھی فرانس فرار ہوگئے اس طرح ایران میں ہزاروں سال سے قائم شہنشاہی حکومت کا خاتمہ ہوکر اسلامی جمہوری حکومت کا سورج طلوع ہوا۔

امام خمینی نے عوام سے پرامن رہنے اور امن و امان برقرار رکھنے کا حکم دیا اس طرح حالات معمول پر آگئے۔

ہر سال اسلامی انقلاب کی سالگرہ کے موقع پر ایران میں زندگی کے تمام شعبوں سے تعلق رکھنے والے کروڑوں افراد ملک بھر میں سڑکوں اور شاہراہوں پر نکل آتے ہیں اور انقلاب کی سالگرہ پر خوشی مناتے ہیں۔

اس موقع پر تقریبات میں حکومت کے مختلف عہدیدار شرکت کرتے ہیں اور انقلاب اسلامی کے ساتھ وفاداری اور بانی انقلاب کے ساتھ تجدید بیعت کرتے ہیں۔

آج اسلامی انقلاب کے 45 سال بعد امام خمینی کے نظریات دنیا بھر کے حریت پسندوں اور مسلم ممالک کے عوام کے لئے راہنما اصول کی حیثیت رکھتے ہیں۔
(مہر خبر )

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں