عراقی وزیر اعظم نے بائڈن سے ملاقات میں کیا کہا؟

امریکی صدر کے ساتھ گفتگو میں عراقی وزیراعظم نے بالواسطہ طور پر ایران کے ردعمل کو اسرائیل کی جارحیت کے خلاف اپنے دفاع کا فطری حق قرار دیا۔

عراقی وزیر اعظم محمد شیاع السودانی نے امریکہ کے چھ روزہ دورے کے دوران امریکی صدر، وزیر خارجہ، وزیر دفاع، کانگریس کے متعدد نمائندوں، تاجروں اور مختلف کمپنی کے منیجروں سے ملاقات کی۔

السودانی نے امریکی صدر کہا کہ داعش کا مقابلہ کرنے اور اس پر عراق کی فتح میں غیر ملکی امداد کا بڑا ہاتھ تھا، درحقیقت عراقی وزیر اعظم نے واضح طور پر اس مشکل صورتحال میں اسلامی جمہوریہ کی مدد کا ذکر کیا۔

انہوں نے ایرانی قونصل خانے پر حملے کی بھی مذمت کی اور کہا: یہ اقدام اقوام متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قوانین کی صریح خلاف ورزی ہے ۔

عراقی وزیراعظم نے بالواسطہ طور پر ایران کے ردعمل کو اسرائیل کی جارحیت کے خلاف اپنے دفاع کا فطری حق قرار دیا۔

اس بیان کے بعد ایرانی قونصل خانے پر حملے کے متعلق بین الاقوامی مذمتی بیانات میں م عراقی وزیراعظم کا موقف اس حوالے سے اہم ترین اور جرات مندانہ موقف قرار دیا جا سکتا ہے۔

السودانی نے غزہ میں مسلسل قتل و غارت کی بھی مذمت کی اور امریکی صدر کو بین الاقوامی قوانین اور بین الاقوامی انسانی قانون کا احترام کرنے کی ضرورت پر تاکید کی جو جنگوں میں عام شہریوں، خاص طور پر خواتین اور بچوں کے تحفظ کو یقینی بناتے ہیں۔

عراقی وزیر اعظم نے امریکی صدر کے ساتھ اپنی گفتگو کا اختتام ایک اہم اخلاقی درس کے ساتھ کیا اور کہا:بحیثیت انسان، ہمیں انسانی حقوق کی اقدار کا احترام کرنا چاہئے، ہر قسم کی جارحیت کی مذمت کرنی چاہئے، شہریوں کو جنگ کی آفات و مصیبت سے بچانا چاہئے، اور سفارتی ہیڈ کوارٹرز کا احترام کرنا چاہئے، اور جو کچھ ہو رہا ہے اس کے بارے میں ہمیں خاموش نہیں رہنا چاہئے۔

(حوزہ نیوز)

اپنا تبصرہ بھیجیں