4831537

عالمی عدالت انصاف کے فیصلے کا کثیر الجہتی جائزہ؛ غزہ کے عوام کی فتح

اگر عالمی عدالت انصاف حفاظتی اقدامات کے ساتھ غزہ میں جنگ بندی کا حکم دیتی تو یہ اس کی طرف سے جاری کیا جانے والا بہترین فیصلہ ہوتا لیکن اس کمزوری کے باوجود مذکورہ عدالت کا ابتدائی فیصلہ بھی فلسطین کی بڑی جیت ہے۔

بین الاقوامی ڈیسک: بین الاقوامی عدالت انصاف نے غزہ میں نسل کشی کے ارتکاب سے متعلق صیہونی حکومت کے خلاف جنوبی افریقہ کی شکایت پر ابتدائی فیصلہ جاری کردیا ہے۔ اس حکم کا کئی پہلووں سے جائزہ لیا جا سکتا ہے۔ اس حوالے سے درج ذیل نکات قابل ذکر ہیں۔

پہلا: فیصلے سے قبل اسرائیل کو عدالت میں پہلی شکست کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ عدالت نے جنوبی افریقہ کی شکایت قبول نہ کرنے کی اسرائیل کی درخواست مسترد کر دی تھی۔ ابتدائی فیصلے کے سیشن میں، عدالت کے سربراہ نے شکایت کو سنبھالنے کے اپنے دائرہ اختیار کا اعلان کرتے ہوئے واضح کیا کہ جنوبی افریقہ کو اسرائیل کے خلاف اس عدالت میں شکایت کرنے کا حق حاصل ہے۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ جنوبی افریقہ کی رپورٹس معقول ہیں اور ان پر غور کیا جانا چاہیے۔

دوسرا: 1948 میں منظور شدہ اقوام متحدہ کے نسل کشی کنونشن کے مطابق، کسی گروہ کے تمام یا اس کے کسی حصے کو قومیت، نسل یا مذہب کی بنیاد پر تباہ کرنے کی دانستہ کوشش کو نسل کشی سمجھا جاتا ہے۔

بین الاقوامی عدالت انصاف کے 17 میں سے 16 ججوں کا خیال ہے کہ اسرائیل کو غزہ میں نسل کشی اور جسمانی تباہی کی کارروائیوں کو روکنا چاہیے۔
لہذا، اگرچہ عدالت نے کہا کہ “ہم اس بارے میں کوئی فیصلہ جاری نہیں کریں گے کہ نسل کشی ہوئی ہے یا نہیں” لیکن عدالت کے ارکان کے لیے نسل کشی کا واقعہ واضح ہے۔

بین الاقوامی قانون کے ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ حقیقت کہ بین الاقوامی عدالت انصاف نے اپنی سماعت کے پہلے 36 منٹ جنوبی افریقہ کے اسرائیل کے خلاف مقدمہ کرنے کے حق کی وضاحت میں گزارے اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ عدالت نے غزہ میں نسل کشی کے امکان کو مسترد نہیں کیا ہے۔

عدالت نے نہ صرف صیہونی حکومت کے حق میں کوئی فیصلہ جاری نہیں کیا بلکہ اس حکومت سے ایک ماہ کے اندر غزہ کے عوام کے لیے حفاظتی اقدامات کے حوالے سے رپورٹ بھی طلب کی ہے۔

عالمی عدالت انصاف کے ججوں کی اکثریت نے غزہ کے حوالے سے حفاظتی اقدامات کے حق میں ووٹ دیا

ایک قانونی ماہر نے الجزیرہ کو انٹرویو دیتے ہوئے ہیگ کی عدالت کے فیصلوں کو فلسطینی عوام کی فتح قرار دیا اور ساتھ ہی غزہ میں مزید جنگی جرائم کو روکنے کے لیے صیہونی حکومت کے خلاف مزید عبرتناک اقدامات پر عمل درآمد کی ضرورت پر زور دیا۔

تیسرا: بین الاقوامی عدالت انصاف اقوام متحدہ کا بنیادی عدالتی ستون ہے جو سیاسی اہداف کے بغیر عدالتی فیصلے جاری کرتی ہے۔ تمام ارکان عدالت کے فیصلے پابند ہوتے ہیں۔ اسی لئے جرمن حکومت نے اعلان کیا کہ برلن اسرائیل کے بارے میں بین الاقوامی عدالت انصاف کے فیصلے کا احترام کرے گا، چاہے اس کا مواد کچھ بھی ہو۔ فرانسیسی وزارت خارجہ نے بھی ایک بیان میں کہا: “ہم بین الاقوامی قانون کے احترام کے لیے پرعزم ہیں اور بین الاقوامی عدالت انصاف کے لئے اپنی حمایت پر زور دیتے ہیں۔

چوتھا: عدالت انصاف کے مذکورہ فیصلے کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی ناکامی تصور کیا جا رہا ہے کہ جس نے ابھی تک غزہ کے خلاف اسرائیل کے جرائم کو روکنے کے لیے کوئی قرارداد جاری نہیں کی۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں غزہ کے خلاف جرائم پر اسرائیل کی کئی بار مذمت کی جا چکی ہے لیکن جنرل اسمبلی کی قراردادیں واجب الاتباع نہیں ہے۔

یہ اس حقیقت کے باوجود ہے کہ عالمی عدالت انصاف کے فیصلے لازم الاجراء ہیں اور اسے غزہ کی صورتحال کے حوالے سے بڑی طاقتوں کی کارکردگی پر تنقید کی ایک زبردست قسم سمجھا جاتا ہے۔

پانچویں: اس فیصلے کے ساتھ ہی گیند اسرائیل کے کورٹ میں ہے کیونکہ اس رجیم کو غزہ کے لوگوں کی انسانی ضروریات کی فراہمی کے لیے فوری طور پر ضروری اقدامات کرنے اور نسل کشی کے جرائم کی روک تھام کے لیے ایک ماہ کا وقت دیا گیا ہے۔

غزہ کے خلاف اسرائیل کے جرائم کا تسلسل اس حکومت کے لیے قانونی نقصانات کا باعث بن سکتا ہے۔ اگرچہ صہیونیوں کا دعویٰ ہے کہ عدالت کی جانب سے جنگ روکنے کا حکم جاری نہ کرنے کی وجہ سے انہیں شکست کا سامنا نہیں کرنا پڑا لیکن صہیونی حکام کا رد عمل ظاہر کرتا ہے کہ انہوں نے عدالت میں شکست تسلیم کر لی ہے۔
صیہونی حکومت کے وزیر اعظم نیتن یاہو نے جنوبی افریقہ کی شکایت کے معاملے میں اس رجیم کے خلاف بین الاقوامی فوجداری عدالت کے فیصلے کے رد عمل میں نسل کشی کے الزام کو “خوفناک اور افسوسناک” قرار دیتے ہوئے کہا: “عدالت کی اسرائیل کے خلاف نسل کشی کے دعووں پر بحث کرنے کی آمادگی ایک رسوائی ہے جو نسل در نسل مٹائی نہیں جائے گی۔

ادھر صیہونی حکومت کے داخلی سلامتی کے وزیر اِتمار بن گویر نے بھی بین الاقوامی عدالت انصاف پر یہود دشمنی کا الزام عائد کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اس فیصلے سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ انصاف نہیں چاہتی۔

چھٹا: بین الاقوامی عدالت انصاف کا فیصلہ اسرائیل پر بین الاقوامی قانونی ذمہ داریاں عائد کرتا ہے لیکن اس کے نفاذ کا کوئی طریقہ کار موجود نہیں ہے۔ اس لیے یہ ممکن ہے کہ اسرائیل، امریکہ اور کئی یورپی ممالک کی حمایت سے اس حکم پر عمل درآمد سے انکار کر دے کیونکہ اس سے قبل اس نے سابق امریکی حکومت کی حمایت سے سلامتی کونسل کی قرارداد 2334 پر عمل درآمد سے انکار کیا تھا۔

یہی وجہ ہے کہ نیتن یاہو نے ہیگ کی عدالت کی جانب سے اس مقدمے سے نمٹنے کے فیصلے کو ’ناگوار‘ فیصلہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’اسرائیل اس وقت تک جنگ جاری رکھے گا جب تک وہ ’مکمل فتح‘ حاصل نہیں کر لیتا۔

جنوبی افریقہ کے وزیر خارجہ نندی پنڈور نے ایک رپورٹر کے اس سوال کے جواب میں کہ کیا ان کے خیال میں اسرائیل عدالت کے احکامات کی تعمیل کرے گا، کہا کہ “انہوں نے حقیقت میں اسرائیل سے کبھی امید نہیں لگائی کہ وہ عدالتی حکم کی تعمیل کرے۔ تاہم اسرائیل کے طاقتور دوستوں کو اس ملک کو عدالت کے احکامات پر عمل کرنے کا مشورہ دینا چاہئے اگر صیہونی حکومت عدالتی فیصلے پر عمل درآمد سے انکار کرتی ہے تو بین الاقوامی نظام اور بالخصوص اس کے قانونی اداروں کی ساکھ پر سوال اٹھے گا۔

ساتواں: چونکہ عدالت کا ابتدائی فیصلہ اس وقت جاری ہوا جب ابھی جنگ جاری ہے اور اس کے خاتمے کے کوئی آثار نظر نہیں آرہے ہیں، اس لیے اسے ایک قسم کا ٹرننگ پوائنٹ سمجھا جاتا ہے۔ جنوبی افریقہ کی حکومت نے بھی ہیگ کی عدالت کے فیصلے پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا: ’’ہم بین الاقوامی عدالت انصاف کی طرف سے اسرائیل کے خلاف عائد کیے گئے عارضی اقدامات کا خیرمقدم کرتے ہیں۔ یہ فیصلہ قانون کی حکمرانی کے لیے ایک فیصلہ کن فتح اور فلسطینی عوام کے لیے انصاف کی تلاش میں ایک اہم سنگ میل ہے۔

ادھر حماس کے رہنما “سامی ابو زہری” نے بھی غزہ میں صیہونی حکومت کی نسل کشی کے بارے میں ہیگ کی عدالت کے ابتدائی فیصلے کو صیہونی حکومت کو تنہا کرنے اور اس حکومت کے جرائم کو بے نقاب کرنے کے لیے ایک اہم پیش رفت قرار دیا۔

آٹھواں: عدالت کے فیصلے کے ساتھ ساتھ عدالت کی کارروائی جنوبی افریقہ کے لیے ایک کریڈٹ تھی کیونکہ جنوبی افریقہ نے جو کبھی نسل پرست حکومت کے جبر کا شکار تھا، اسرائیل کے خلاف مقدمہ دائر کر کے 21ویں صدی کے سب سے بڑے انسانی مصائب میں سے ایک کو ختم کرنے کے لئے امید افزاء کارروائی کی ہے۔

نتیجہ

اگر عالمی عدالت انصاف حفاظتی اقدامات کے علاوہ غزہ میں جنگ بندی کا حکم دیتی تو یہ اس کی جانب سے جاری کئے جانے والا بہترین فیصلہ ہوتا لیکن پھر بھی بین الاقوامی عدالت انصاف کے ابتدائی فیصلے کو فلسطین کے لیے ایک “عظیم فتح” جب کہ صیہونی حکومت کی اسٹریٹجک شکست قرار دیا جا سکتا ہے۔ کیونکہ موجودہ عالمی نظام میں جہاں صہیونی لابی کا بہت اثر رسوخ ہے وہیں امریکہ بھی صیہونی حکومت کا سب سے اہم حامی اور بہت زیادہ اثر رسوخ والے عالمی بدمعاش کے طور اثر انداز ہورہا ہے۔ لہذا اس اعتبار سے عالمی عدالت انصاف کا فیصلہ فلسطینیوں کی قانونی اور اخلاقی جیت ہے۔

سید رضی عمادی؛ تجزیہ کار برائے مغربی ایشیائی امور
(مہر نیوز کی خصوصی رپورٹ)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں