6d568dcd 72f2 4954 Bb0a 7de4a9c098eb

خیراور شر

توصیف احمد وانی پدگام پوری
ڈائریکٹر سید حسن منطقی اکیڈمی اونتی پورہ پلوامہ کشمیر انڈیا

خیر کامنبع و مرکز وہی ذات ِ ذوالجلال ہے جو بلاشرکتِ غیرے کائنات و مافہیا کی خالق بھی ہے، اور بدیع بھی! خالق ہونا حقیقی اور مجازی دونوں معنوں میں ہوسکتا ہے لیکن بدیع ہونا ایک ایسی صفت ہے جو مجازی طور پر بھی کسی مخلوق سے منسوب نہیں ہو سکتی۔ خالقیت و صناّ عیت میں پہلے سے موجود اشیاء سے مدد لی جا تی ہے لیکن بدیع ہونا وہ صفتِ خلاقیت ہے جس میں کسی پہلی نظیر سے بھی پہلے خلق کیا جاتا ہے، اور پہلے سے خلق ہوئی کسی شئے کی مدد لیے بغیر خلق کیا جاتا ہے۔ اللہ رب العالمین بدیع السمٰوات والارض ہے۔

وہ خیر کا خالق ہے اور خیر کو پسند کرتا ہے۔ نیکی کی طرف دعوت بھی وہی دیتا ہے، نیکی کے کام بجا لانے کی ہمت اور توفیق بھی وہی دیتا ہےاور پھر اپنی پسندیدگی کا اعلان کرتے ہوئے اس کی جزا بھی وہ خود ہی دیتا ہے۔ روزے کا حکم اسی کا ہے، روزہ رکھنے کی ہمت اور توفیق وہی عنایت کرتا ہے اور پھر روزہ رکھنے کی جزا بھی وہ خود دیتا ہے، یہاں تک کہ وہ اعلان کرتا ہے کہ روزے کی جزا میں خود ہوں۔ سبحان اللہ! انعام اپنی جگہ مقدم، لیکن انعام میں اگر منعم کی ذات اگر معیت میں ملے تو کیا کہنے!

وہ خیر اور شر دونوں کا خالق ہے لیکن شر کو اس کی پسندیدگی کا کوئی درجہ حاصل نہیں۔ شر کا خالق کوئی اور نہیں۔ توحید کے باب میں ثنویت کی کوئی جا نہیں۔ یزداں اور اہرمن کی تقسیم یہاں روا نہیں۔ وہ ذات، واحد ہی نہیں بلکہ احد ہے۔ خیر اور شر کی تخلیق اور تقسیم کو سمجھانے کے لیے اس نے انبیاء کو مبعوث کیا۔ وہ قومیں جو رسالت سے منحرف ہوئیں، ان کی فکری مجبوری بن گئی کہ وہ خیر اور شر کے مظاہر دیکھ کر ان کے لیے الگ الگ خالق تجویز کریں۔ خیر اور شر کو یزداں اور اہرمن میں تقسیم کرنے کے بعد انسان کی قوتِ ارادہ بھی موقوف ہو جاتی ہے۔ اگر خیر اور شر کو الگ الگ خالقوں کے حوالے کر دیا جائے— تو پھر انسان کی اس کائنات میں کیا حیثیت رہ جاتی ہے؟ خیر اور شر کی داستان بس دیوتاؤں کی باہمی جنگ کا ایک نہ ختم والی ڈرامہ سیریز، سیزن ٹائپ، بن جاتا ہے۔ پھر کسی ایک فکری سقم کو دور کرنے کے لیے دیومالائی داستانوں کی ایک طلسمِ ہو شربا لکھنا پڑتی ہے۔ وحدت کی یہ تقسیم یزداں اور اہرمن تک محدود کیوں رہے ؟ یہ تقسیم آسمانوں پر دیوتاؤں کا ایک پورا خاندان تخلیق کرتی ہے — اور زمین پر انسانوں کو دیوتاؤں کے ہاتھ میں ایک کٹھ پتلی بنا کر رکھ دیتی ہے۔ انسان کی قوتِ ارادہ مفقود ہو جاتی ہے۔ جزا و سزا اور بعث بعد الموت کا تصور انسانی فکر سے معدوم ہو جاتا ہے۔ یہ ایک فکری عذاب ہے جو انبیاء کی الوہی تعلیم سے انکار کرنے کی پاداش میں انسانی شعور پر نازل ہوتا ہے۔ کفر، کسی رسول کا انکار کرنے پر وارد ہوتا ہے— اور شرک، رسالت کی مکمل فیکلٹی کا انکار کرنے کی فکری سزا ہے۔

قابلِ غور بات یہ ہے کہ ربِِّ کائنات نے انسانوں سے مکالمہ صرف اہلِ خیر کی معرفت کیا ہے۔ تاریخ میں اب تک اہلِ خیر ہی نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ وہ رب العالمین کی طرف انسانیت کے لیے ایک پیغامِ فوز و فلاح لے کر آئیں ہیں۔ خیر کے خالق نے صرف خیر اور اہلِ خیر کو اپنے ساتھ نسبت کا شرف دیا ہے۔ اس نے شر کا خالق ہونے کے باوجود شر کو خود سے منسوب نہیں کیا۔ اہلِ خیر کے مقابل میں آنے والے فرعون، قارون، ہامان نے کسی رب کا اقرار نہیں کیا، کسی اعلیٰ ذات سے خود کو منسوب نہیں کیا، بلکہ خود ہی کو رب کے طور پر پیش کیا۔ فرعون کا عوام سے خطاب”انا ربکم الاعلی”تھا۔ حضرت موسیٰ ؑ دیگر انبیائے کرام کی سنّت میں”سبحان ربی الاعلیٰ”سناتے اور سکھاتے رہے۔

اس طرح خیراور شر کے باب میں ہمیں دو الگ نوعیت کے طرزِ فکر ملتے ہیں۔ ایک طرف اصحابِ خیر ہیں، جن کی سربراہی انبیاء اولیاء و اصفیاء کر تے ہیں۔ دوسری طرف اصحابِ شر ہیں، جو کسی انسان کو اس قابل نہیں مانتے کہ وہ ان کی فکری اور عملی اصلاح کر سکے۔ وہ بزعمِ خویش خود ہی اپنے راہنما ہیں۔ ان خود ساختہ رہنماؤں کا رخ اپنے ہی نفس کی طرف ہوتا ہے۔ یہ اپنے نفس ہی کو خود کفیل پاتے ہیں اور”انا ربکم الاعلیٰ”کا اعلان کر دیتے ہیں۔ در آن حالے کہ نفس اپنی اصل تعریف میں برائی کی طرف دعوت دینے والا ہوتا ہے۔ اسے نفسِ امّارہ بتایا گیا ہے — مگر یہ کہ جس پر اس کے رب کا رحم ہو جائے۔ اَز روؤے قرآن ، حضرت یوسفؑ ایسے معصوم نبی نے بھی نفسِ امّارہ سے برات طلب کی، اپنے رب کی برہان سے مدد لی اور اپنے رب کے رحم کے طالب ٹھہرے۔

خیر کے طالبین کو بالعموم انسان کے قریب پایا گیا، غرورِ نفس سے دُور پایا گیا اور تکریمِ انسان میں مصروف ومشغول پایا گیا۔ مرشدی حضرت واصف علی واصفؒ ایک مضمون”تقربِ الٰہی”میں لکھتے ہیں:”عجب بات تو یہ ہے کہ اللہ کے مُقرّب ،اِنسانوں کے قریب رہتے ہیں۔ کہیں اِنسان کا قُرب ہی اللہ کا قُرب نہ ہو! وہ جو صرف اللہ کے قریب تھا اور انسان کے قریب ہونے سے منکر ہُوا، اُس کا حشر تو سب کو معلوم ہی ہے۔”

قرآن مجید میں صراطِ مستقیم پر چلنے کی دعا تعلیم کی گئی اور ہر نماز میں سورۃ فاتحہ پڑھنے کے دوران میں ربِ العالمین کی حمد وثنا کے بعد ہم دعا مانگتے ہیں کہ اے رب العالمین!ہمیں صراطِ مستقیم ( سیدھا راستہ) دکھا — اور پھر دیباچۂ قرآن ہی میں اس راستے کا تعین بھی کر دیا جاتا ہے—”ان لوگوں کا راستہ جوانعام یافتگان ہے۔“۔ یہاں یہ بھی یاد رہے کہ نعمت یافتہ ہونے اور انعام یافتہ ہونے میں فرق ہے۔ جن کے حق میں انعام کی یہ دعا قبول ہو جاتی ہے، ازاں بعد ان کے لیے اس راستے پر چلنے کے لیے ایک عملی صورت بھی تجویز کر دی جاتی ہے۔ انہیں ہدایت کی گئی :”کونو مع الصادقین”(صادقین کے ساتھ ہو جاؤ)۔ انعام یافتہ بھی انسان ہیں اور صادقین بھی انسان ہیں۔ انسان سے اعراض کرنے کا مطلب یہ ہے کہ انسان نے خود کو اپنے رب کے انعام سے بھی محروم کر لیا ہے اور معیارِ صداقت سے بھی دُور کر لیا ہے۔ اب خیر اور شر کے باب میں اس کا نفس ہی کوئی فیصلہ کر رہا ہے۔ نفس ہمیشہ مبنی بر ظلم ہی فیصلہ کرتا ہے—”الاّ ما رحم ربّی”مگر وہ جس پر میرا رب رحم کردے۔

اپنے نفس امّارگی کی ظلمت سے آزاد کیے بغیر، خیر اور شر آپس میں گڈ مڈ ہو جاتے ہیں۔ انسان خیر کا بینر لگا کر شر کی پنیری لگا رہا ہوتا ہے۔ وہ خیر کے نام خیرات وصول کر تا ہے اور اسے حق داروں میں تقسیم کرنے کی بجائے خود ہڑپ کر جاتا ہے۔ اس طرح وہ خیر کے نام لوگوں کو خیر اور اہلِ خیر سے بدظن کرتا رہتاہے۔

خیر کے راستے پر چلنے والا اپنے فکر و عمل میں ایک خاص پروٹوکول پر چلتا ہے— اور وہ پروٹوکول”خود کی نفی”کی ریڈ بک ہے۔خدا تو نظر نہیں آتا۔ اس لیے خدا کے نام پرجھکنے سے لازم نہیں کہ انسان کی انا بھی جھک جائے۔ انسانی انا کو جھکانے کے لیے انسان ہی درکار ہوتا ہے۔ اسی لیے رسالتؐ کے انکار پر کفر لازم آتا ہے— رسول انسان ہیں۔ توحید کا اقرار صرف آدھا کلمہ ہے۔ رسالتؐ کی تصدیق کلمے کو مکمل کرتی ہے۔ انسان کے نفس کو تزکیہ کے مراحل سے گزارنے کے لیے انسان ہی درکار ہوتا ہے۔ انسان کی محبت ہی اسے اس کے نفس کے شر سے بچاتی ہے۔ انسان کے دل سے اگر انسان کی محبت نکل جائے تو اس کا وجود اپنے قوائے ذہنی سمیت، شر کی قوتوں کی ایک آماجگاہ بن جاتا ہے۔ اس کے دل سے اخلاقی اقدار رخصت ہو جاتی ہیں۔ وہ اپنے مقصد کے حصول کے لیے انسانوں کو روندتا ہوا گزر جاتا ہے۔

خیر کو سمجھنے کے لیے، خیر کے راستے پر چلنے کے لیے اور خیر کے راستے پر استقامت اختیار کرنے کے لیے انسان کو انسان ہی کی معیت و معاونت درکار ہے۔ اہلِ خیر وہ لوگ ہیں جو خود سے خود کو نکال چکے ہیں۔ خود کو خود سے نکال دیا تو منشائے خداوندی کا ادراک ممکن ہے— خود سے خود کو نکال دینے والا شخص لوگوں کو خدا کے دین میں داخل کر سکتا ہے۔ تب ہی پیغام ِ خداوندی منشائے خداوندی کے مطابق انسانوں تک پہنچ پاتا ہے۔ خیر کے کاموں میں انسانی نفس جب دخیل ہوتا ہے توخیر اور شر کے درمیان حدِّ فاصل دھندلا جاتی ہے۔

خیر اور شر میں فرق قائم کرنے کے لیے ایک فرقان بصورتِ انسان درکار ہرتا ہے۔ ہر زمانے کے لیے ، س عالمین کے لیے ، ایک فرقانِ عظیم بصورت ِ انسانِ کامل ؐ موجود ہے۔ رجوع الی القرآن سے پہلے رجوع الی الفرقان کی ضرورت ہے۔ قرآن کو بھی فرقان کہا گیا لیکن قرآنِ ناطق قرآنِ صامت پر فوقیت رکھتا ہے۔ اُس نے شہرِ علمؐ بسایا— اور اس شہر میں ایک در بھی رکھا— اور وہ دَر کھلا رکھا— تاکہ باادب انسان شہرِ انسانیت میں داخل ہوتے رہیں — قافلہ در قافلہ ، جوق در جوق — اور نوعِ انسانی کے لیے فوز و فلاح کے ابواب تاقیامت کھلتے رہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں