170777102

صیہونی حکومت کے جرائم کو روکنے کے لیے امیر عبداللہیان کی کیسپین ممالک کی وزارت خارجہ کو تجاویز

ماسکو //ایران کے وزیر خارجہ امیرعبداللہیان نے ماسکو میں منعقد ہونے والے کیسپین کے ساحلی ممالک کے وزرائے خارجہ کے اجلاس میں غزہ کے مظلوم عوام کے خلاف صیہونی حکومت کے وحشیانہ جرائم کو روکنے سے متعلق تجاویز پیش کیں۔

کیسپین کے ساحلی ممالک کے وزرائے خارجہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ایران کے وزیر خارجہ حسین امیر عبداللہیان نے کہا کہ بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا خواتین اور بچوں کے قتل کے یہ افسوسناک اعداد و شمار اور صحافیوں اور طبی عملے کو نشانہ بنانے کے واقعات صیہونی حکومت کےغیر انسانی اور مجرمانہ اقدامات کو ثابت کرنے کے لیے کافی نہیں؟

انہوں نے استفسار کیا کہ کیا عالمی برادری غزہ میں جنگی جرائم اور خواتین اور بچوں کے قتل عام پر ایسے ہی خاموش تماشائی بنی رہی گی؟

ایران کے وزیر خا رجہ نے کہا کہ صیہونی حکومت بچوں کے خلاف جرائم کے ارتکاب میں پہلے نمبر پر ہے۔

انہوں نے کہا کہ اتنی بڑی تعداد میں بچوں کے قتل عام کی مثال پوری تاریخ میں کسی بھی خطے یا جنگ اور تنازعے میں نہیں ملتی۔

وزیر خارجہ حسین امیر عبدللہیان کا کہنا تھا کہ اسرائیل کے جرائم پر محض بیزاری کا اظہار کافی نہیں بلکہ عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ تمام علاقائی اور بین الاقوامی اجلاسوں میں صیہونی جارحیت کے خلاف متحد موقف اپنانے کی ضروت ہے۔

ایران کے وزیر خارجہ نے کہا کہ غزہ پر اسرائیل کے حملوں کو فوری طور پر بند کرانے، جلد از جلد انسانی امداد پہنچانے، غزہ کی ناکہ بندی کے خاتمے کے لیے غاصب صیہونی حکومت پر تمامتر دباؤ سے کام لینا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ غزہ کے لوگوں کو نقل مکانی پر مجبور کرنے کے صیہونی اقدامات کا بھی فوری نوٹس لیے جانے کی ضرورت ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں