2075297

شہید سلیمانی نے موت کے کلچر کو زندگی میں تبدیل کر دیا

مصر کے قبطی آرتھوڈوکس چرچ کے پادری نے سردار سلیمانی کی شہادت کی چوتھی برسی کے موقع پر منعقد بین الاقوامی کانفرنس ’’ شہید قاسم سلیمانی، مختلف ادیان اور مذاہب کے بزرگوں کی نگاہ میں‘‘ سے خطاب کرتے ہوئے کہا: جنرل سلیمانی نے ہی مزاحمتی محاذوں بالخصوص شام کی لاجسٹک اور فوجی اور ہمہ جہتی حمایت کی جس کی وجہ سے ہی ہمارا ملک بچ پایا۔

فادر ڈوماڈیس الراہب نے مزید کہا: تمام عراقی مزاحمتی قوتیں قاسم سلیمانی سے متاثر ہیں اور ان کا علاقائی مساوات پر بہت اثر رہا ہے اور قاسم سلیمانی کی شہادت سے علاقائی تعلقات بھی بہت متاثر ہوئے۔

انہوں نے کہا: داعش کے خلاف جنگ میں قاسم سلیمانی کا کردار نہایت اہم تھا اور یہ ان زندگی کی سب سے بڑی کامیابی تھی، جو کہ نہ صرف عراق اور شام بلکہ دہشت گردی اور تمام دہشت گرد تنظیموں کے خلاف ان کی جنگ افغانستان میں بھی بہت موثر تھی۔

اس مصری آرتھوڈوکس چرچ کے پادری نے غزہ کے لوگوں اور فلسطین کی حمایت میں جنرل سلیمانی کے کردار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا: اگر ہم انٹرنیٹ پر سرچ کریں تو ہمیں شہید سلیمانی کے بارے میں کافی معلومات ملیں گی، شہید سلیمانی نے اسرائیل کے محاصرے کے لیے ایک مضبوط نظام تشکیل دیا، خطے میں ان کی موجودگی معنی رکھتی تھی، انہوں نے خطے کے لوگوں میں موت کے کلچر کو زندگی کے کلچر میں تبدیل کر دیا، وہ ہمیشہ فلسطینی گروپوں سے ملاقات کیا کرتے تھے، علاقے کے لوگوں نے موت کے کلچر کو قبول کر لیا تھا لیکن سردار سلیمانی نے اس سوچ کو بدل دیا۔

انہوں نے کہا: دہشت گردانہ خیالات اور افکار اور لوگوں کی زندگیوں کو تباہ کرنا دراصل ایک فسطائی طرز فکر ہے جس کے خلاف شہید سلیمانی لڑتے رہے، اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ ان کی قبر پر رحمت نازل فرما۔ آخر میں میں آپ سب کو سال 2024 کی مبارکباد دیتا ہوں اور مجھے اس کانفرنس میں مدعو کرنے کے لیے شکریہ ادا کرتا ہوں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں