2151643

شہر ممبئی میں مولانا سید ابوالقاسم رضوی کا خطاب: بے سکونی کا علاج ذکر خدا ہے

ممبئی // امام جمعہ میلبرن آسٹریلیا و صدر شیعہ علماء کونسل حجۃ الاسلام و المسلمين مولانا سيد ابو القاسم رضوی نے اپنے پانچ دن کے مختصر قیام کے دوران شہر کے مختلف مقامات پر مجالس و محافل کو خطاب کیا اور اس شہر کو چار چاند لگا دئے، مولانا کے دروس سے شہر ممبئی کے مومنین و مومنات نے بھر پور استفادہ کیا۔

مولانا کے دروس کے موضوعات، ماہ رمضان المبارک تزکیہ نفس کا مہینہ ، تربیت اولاد ، احترام والدین ، پڑوسیوں کے حقوق ، شوہر و بیوی کس طرح اپنی ازدواجی زندگی کو مثالی بنا سکتے ہیں، اسی طرح صداقت و دیانت ، ایفاء عہد ، قرآن خوانی کو کس طرح قرآن فہمی میں تبدیل کیا جائے ۔

اس دوران مولانا نے مجالس ایصال ثواب کو بھی خطاب کیا، جشن ولادت امام حسن مجتبیٰ (ع )کے جشن میں یادگار تقاریر کیں اور سیرت امام حسن (ع) پر پر مغز و سیر حاصل گفتگو کی، کس طرح غصہ کو کنٹرول کیا جائے، بے سکونی کا علاج ذکر خدا ہے، اسی طرح معاشرے کے فساد کا خاتمہ عفو و در گزر کے ذریعے ہی ممکن ہے ۔

مولانا نے فقہی و تربیتی موضوعات پر کئے جانے والے سوالات کے قرآن و حدیث کی روشنی میں جوابات دئیے ،مولانا کے والد معلم قرآن واخلاق مولانا سید ظفریاب علی کی بے لوث و گراں قدر خدمات کو یاد کیاگیا ،مومنین نے مولانا سید ابوالقاسم رضوی کی سادگی و تواضع اور خدمت دین کے جذبے کو دیکھ کر یہی کہا کہ ’’الولد سر ابیہ‘‘ مولانا سید ظفریاب علی رضوی کا پرتو مولانا ابوالقاسم رضوی میں نظر آرہا ہے ۔

ممبئی شہر میں ہر جگہ مولانا کی آمد پر ان کا شکریہ ادا کیا گیا ،شال و گلدستہ سے مولانا کی عزت افزائی کی گئی، مولانا سید ابوالقاسم رضوی ان علماء میں سے ہیں جو تھکتے نہیں ہیں، اسی طرح آسٹریلیا میں بھی شب وروز خدمت دین میں لگے رہتے ہیں، اپنے پانچ روزہ قیام کے دوران مولانا نے امام بارگاہ گلشن جعفریہ ، امام باڑہ نذر علی کُرلا، محفل مصطفٰے جوہو، خوجہ مسجد، بہشت زینب ورسوا ، بیت الحمد ممبرا ، مسجد حیدری میرا روڈ میں خطاب فرمایا شہر کے چپے چپے کو اپنے علم سے سیراب کیا۔

(حوزہ نیوز )

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں