Download (16)

سولہ سال سے کم عمر طلبہ کوکوچنگ سینٹروں میں داخلے پرپابندی

مناسب فیس وصول کرے طبعی سہولیات بہم رکھے/مرکزی وزارت تعلیم

سرینگر //16سال سے کم عمر طلبہ وطالبات کو کوچنگ سینٹروں میں داخلے پر پابندی عائد کرتے ہوئے مرکزی وزارت تعلیم نے والدین سے کہاکہ وہ کوچنگ سینٹروں کی جانب سے گمراہ کن وعدوں پربھروسہ نہ کرے اچھے نمبرات اور ریکنگ میں بہتری کی ضمانت نہیں دی جاسکتی ہے کوچنگ سینٹروں میں تربیت یافتہ مدرس ہونے چاہئے ۔ کوچنگ سینٹروں میں ویب سائٹ کے علاوہ طبعی سہولیات بہم ہونی چاہئے۔ وزارت تعلیم کی جانب سے 18جنوری کو ایک بیان جاری کیاگیا اس بیان کے فورا بعد وزارت تعلیم کی جانب سے جاری کئے گئے بیان کے نقاط تفصیلات مزیدسامنے آ گئے ہیں ۔مرکزی وزارت تعلیم نے کوچنگ سینٹروں میں سولہ سال سے کم عمرکے طلبہ وطالبات پر داخلے کی پابندی عائد کردی ہے اور کسی بھی ایسے طالب علم کو داخلہ دیناقوائدوضوابط کی خلاف ورزی ہو ئی ۔مرکزی وزارت تعلیم کے بیان میں مزیدکہاگیاہے کہ کوچنگ سینٹر میں ویب سائٹ کاہونا لازمی ہے اور مدرس گریجویٹ اور تربیت یافتہ ہونا چاہئے ۔تناؤ کودورکرنے کے لئے ڈاکٹریاطبعی سہولیات بہم ہونی چاہئے اور کوچنگ سینٹروں کے لئے لازمی قرار دیاگیاہے کہ زیر تعلیم طلبہ کے والدین سے مناسب فیس وصول کرے اور بڑے پیمانے پرفیس طلبہ کے والدین سے حاصل کرناکسی بھی صورت میں برداشت نہیں کیاجائیگا ۔قوائدو ضوابط پر من عن عمل کرنی ہوگی او رایسے کوچنگ سینٹروں کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائیگی جوریکنگ یانمروں کی جانب سے گمراہ کن وعدے یاضمانتیں فراہم کرتے ہیں ۔حصول تعلیم کے لئے واضح کئے گئے قوائد وضوابط کواپناناہوگا اور جوکوئی بھی کوچنگ سینٹر قوائد وضوابط کی خلاف ورزی کامرتکب قرار پائیگا اس کے خلاف کارروائی عمل میں لانے سے گریز نہیں کیاجائیگا ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں