Download (3)

سنگ باری دہشت گردی کا ایک عمل 2024کے الیکشن سے پہلے عسکریت پسندوں کے خلا ف آپریشن آل آوٹ شدت کے ساتھ جاری رہے گا

عوامی دربارپولیس اور عوام کے مابین بہتر رشتوں کی ضمانت عوام کو امن امان قائم کرنے میں تعاون دیناہوگا/آرآرسوائین

سرینگر//عوامی اور پولیس کے درمیان بہتررشتوں کی ضمانت قرار دیتے ہوئے ڈائریکٹرجنرل آف پولیس نے کہاکہ سنگ باری دہشت گردی کا ایک عمل 2024کے الیکشن سے پہلے عسکریت پسندوں کے خلا ف آپریشن آل آوٹ شدت کے ساتھ جاری رہے گا اور جموں وکشمیر میںامن امان بحال کرنے میں کوئی بھی دقیقہ فروگزاشت نہیں کیاجائیگا ۔ ڈائریکٹرجنرل آف پولیس کی جانب سے پولیس کنٹرو روم سرینگر میں عوامی دربار کاانعقادہوا جسکے دوران وادی کے اطراف واکناف سے آئے ہوئے لوگوںنے ڈائریکٹرجنرل آف پولیس کے سامنے اپنے مسائل رکھے کئی مسائل کو ڈائریکٹرجنرل آف پولیس نے موقعے پرہی حل کرنے کے احکامات صادرکئے۔ عوامی دربار کے بعد حاشئے پرزررائع ابلاغ کے نمائندوں کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے ڈائریکٹرجنرل پولیس آر آرسوائین نے عوامی دربار کو پولیس اورعوام کے درمیاں بہتررشتوں کی ضمانت قر اردہتے ہوئے ہوئے رشتوں کوحل کرناوقت کی اہم ضرور ت ہے اورکئی ایسے معاملات ہوتے ہیں جن کاتعلق براہی راست پولیس کے ساتھ ہوا کر تے ہے ان میںگھریلوں جھگڑے اور دوسرے معاملات ہواکرتے ہیں جن کے بارے میں اقدامات اٹھاناوقت کی اہم ضرور ت ہے۔ انہوںنے کہا نامساعدحالات کے دوران پولیس فورسزکی تعیناتی اور عوامی مسائل میں اضافے کو سلسلہ شروع ہوا عوام کی شکایتوں کودرکنار نہیں کیاجاسکااورنہ ہی پولیس و فورسزکی کارروائیوں کوفراموش کیاجاسکتاہے ۔انہوںنے جموں وکشمیرمیں عسکریت کے خاتمے امن امان کوبحال کرنے کی ذکرکرتے ہوئے کہاکہ 2024کے الیکشن سے پہلے عسکریت کے خلاف آپریشن آل آوٹ کے تحت کارروائیاں عمل میں لائی جائیگی اور اس سلسلے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کیاجائیگا ۔انہوںنے کہاکہ 2024کے الیکشن میں رائے دہندگان کی بڑی تعداد اپنے ووٹ کااستعمال کریگی تاہم پولیس وفورسز کو کئی طرح کے چلینجوں کااب بھی سامناہے ۔پاکستان اور اسکے قبضے میں مقیم عسکری کمانڈروں کی طرف سے جموںو کشمیرمیںعسکریت کومضبوط بنانے ڈرون طیاروں کے زریعے اسلحہ گرانے کابڑا چلینج ہے جس سے نمٹنے کے لئے اقداما ت اٹھائے گئے ہیں۔ انہوںنے کہاکہ سنگ بازی دہشتگری کا ایک عمل ہے او رجموںو کشمیر لداخ ہائی کورٹ کی جانب سے اس سلسلے میں فیسلہ بھی صادرکیاگیاہے اور سنگ بازی میں ملوث افراد کو قانون کاسامناکرناپڑیگا ان کے خلا فکسی بھی طرح کی رائے نہیں دی جاسکتی ہے۔ انہوںنے کہاکہ بڑے شہروں قصبوں میں پولیس وفورسزکی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ امن امان کوبحال رکھے اور اس سلسلے میں پولیس و فورسزکی خدمات کوبلایانہیں جاسکتا ۔ڈی جی پی نے کہاکہ عوام کو امن امان قائم کرنے میں تعاون دیناہوگا ۔خفیہ اداروں کی جانب سے مسلسل یہ اطلاعات موصول ہورہی ہیں کہ 2050کے قریب عسکر یت پسند لانچنگ پوئیٹوںپردراندی کی تاک میں بیٹھے ہیں او ربرف باری کے دوران اس طرف کے آنے کے فراک میں ہے تاہم اس طرح کی کارروائیوں کوناکام بنانے کے لئے پولیس و فورسز پوری طرح سے متحرک ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں