818191b6 F149 4b2b 855d B00df234ba5e

سماجی بدعات کے روک تھام اورسدباب کے لئے سرینگر میں دانشوروں اورسماجی کارکنوں کا اجلاس

سماجی بدعات کے روک تھام اورسدباب کے لئے سرینگر میں دانشوروں اورسماجی کارکنوں کا اجلاس
سماجی برائیوں کے روک تھام کے لئےیک جٹ ہونے کی اشد ضرورت:شرکاءکا مشترکہ بیان

سرینگر// کشمیری معاشرے میں بڑھتی ہوئی سماجی برائیوں کا روک تھام اورسدباب کرنے کے لئے سرینگر کے شاہ عباس ہوٹل میں مختلف طبقہ ہائے فکر سے وابسطہ دانشوروں اورسماجی کارکنوںکا ایک غیر معمولی اجلاس منعقد ہوا ۔جس میں شامل ، شرکاء نے یک زبان ہوکر سماجی بدیوں کے خلاف مربوط اور منصوبہ بندلائحہ عمل ترتیب دینے پر اتفاق کیا۔اجلاس کاباقاعدہ آغاز تلاوت قرآن حکیم سے ہوا جس کی سعادت مجتبیٰ شجاعی نے حاصل کی۔تلاوت کلام کے بعد غلام حسن مجروح نے اجلاس کے اغراض ومقاصد بیان کئے۔جس کے بعد دانشوروں اور سماجی کارکنوں نے منشیات کے روک تھام ،جہیز جیسے ناسور کے خاتمے اور دیگر سماجی مسائل پر کھل کر گفتگو کی اور مفید آراءاور تجاویزپیش کیں۔شرکا نے یک زبان ہوکر منشیات اور دیگر سماجی برائیوں کے خلاف کمر بستہ ہونے کا عزم وارادہ کیااور کشمیری عوام خاص طور پر نوجوان نسل سے بھی استدعا کی کہ وہ منشیات جیسی سماجی برائیوں اور بدعات کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنےکے لئے اپنے اندر احساس ذمہ داری پیدا کریںاور اس ضمن میں کلیدی رول نبھائیں۔شرکا نےوادی کشمیر کے تمام طبقہ ہائے فکر کے رہنماوں سے مودبانہ اپیل کی کہ وہ سماجی برائیوں کے روک تھام کے لئے متحد اور متفق ہوجائیں اور یک جٹ ہوکر سرزمین کشمیر کو سماجی بدیوں سے پاک کرنے میں ایک دوسرے کو تعاون دیں۔ اس اجلاس میں صدارت کے فرائض روشن لعل کاچو نے انجام دئے ۔اجلاس میں صدر مجلس روشن لعل کاچو کے علاوہ ،پروفیسر غلام علی گلزار،مولانا سیدبلال احمد کرمانی،سابق جج محمد ابراہیم وانی ،غلام حسن مجروح،امداد ساقی،ایڈوکیٹ غضنفر حسین ،سید الطاف رضوی ،محمد حسین وانی،محمد اشرف خان،ڈاکٹر لطیف حیدر اور مجتبیٰ شجاعی نےشرکت کی۔واضع رہے اس غیر معمولی اجلاس کا اہتمام امامیہ فیڈریشن کشمیر نے کیا تھا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں