سعودی عرب میں رقص و موسیقی و شراب جائز مگر دختر رسولﷺ کی قبر کی زیارت پر پابندی ہے، مقررین

پاکستان //امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان کراچی ڈویژن شعبۂ طالبات کی جانب سے 8 شوال یوم انہدام جنت البقیع کے موقع پر کراچی پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا گیا، احتجاجی مظاہرے میں طالبات کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

2179099

احتجاج میں موجود خواتین نے پلے کارڈز اور بینرز اٹھائے ہوئے تھے، جس پر جنت البقیع اور جنت المعلیٰ میں روضہ دختر رسولﷺ حضرت فاطمہ زہرا ؑ، امام حسن مجتبیٰ ؑ، آئمہ اہل بیتؑ، ازواج مطہراتؓ اورصحابہ کرام ؓ کے مزارات کی از سر نو تعمیر کے حق میں اور آل سعود کیخلاف نعرے درج تھے۔

2179104

اس موقع پر شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے صدر آئی ایس او پاکستان طالبات کراچی ڈویژن خواہر زہرا کا کہنا تھا کہ 8 شوال تاریخ اسلام میں سیاہ باب کی حیثیت رکھتا ہے،جس روز سعودی عرب کے بادشاہ نے جنت البقیع اور جنت المعلیٰ میں موجود پیغمبران خدا، صحابہ کرام ؓ کے ساتھ دختر رسول جناب فاطمہ زہراء سلام اللہ علیہا، امام حسنؑ اور دیگر اولاد رسولؐ سمیت آئمہ اہل بیتؑ، ازواج مطہراتؓ اورصحابہ کرام ؓ کی قبور کو مسمار کیا، انہدام جنت البقیع صدر اسلام کی شخصیات کی نشانیاں مٹانے کی ایک سازش ہے تاکہ تاریخ میں رد و بدل کر کے تاریخ کو مسخ کیا جا سکے۔

انہوں نے اپنے خطاب میں پاکستان کی وزارت خارجہ سے مطالبہ کیا کہ جناب فاطمہ زہراء سلام اللہ علیہا کے روضہ اقدس کی از سر نو تعمیر کے معاملے کو سفارتی سطح پر اٹھایا جائے، پاکستان کے مسلمانوں کی درینہ خواہش ہے کہ جناب فاطمہ زہرا س اور دیگر آل رسولﷺ کے مزارات کو دوبارہ تعمیر کیا جائے۔

اس موقع پر دیگر مقررین کا کہنا تھا کہ آل سعود نے جنت البقیع و جنت المعلیٰ میں پیغمبران خدا و صدر اسلام کی شخصیات کی قبور کو مسمار کر کے اپنی اسلام دشمنی کو واضح کر دیا ہے،سرزمین حجاز میں رقص اور سرور کی محافل منعقد کی جا رہی ہیں سر عام شراب خانے کھولنے کی اجازت دی جا رہی ہے لیکن آج بھی دختر رسولﷺ کی قبر کی زیارت کرنے پر پابندی عائد ہے،دیگر مقررین میں معروف مذہبی اسکالر مفتی شہریار داؤد، معروف عالم دین و رہنماء ہیئت آئمہ مساجد و علماء امامیہ پاکستان مولانا صادق رضا تقوی اور معروف مذہبی اسکالر عظمیٰ زیدی شامل تھیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں