Images (5)

سرحدی علاقوں میں لوگوں بنیادی سہولیات کی عدم دستیابی سے پریشان

سڑکوں کی مرمت ، اسکولوں کا درجہ بڑھانے اور کھیل کود کیلئے میدان فراہم کرنے کا کیا جا رہا ہے مطالبہ

سرینگر // سرحدوں پر جنگ بندی معاہدے پر مکمل عملدر سے جہاں امن کی فضا قائم ہے وہیں اب سرحدی آبادی سڑکوں کے بہتر رابطے، کھیل کے میدان اور سرکاری اسکولوں کے بہتر انفراسٹرکچر کا مطالبہ کیا ہے ۔ سی این آئی کے مطابق شمالی ضلع بارہمولہ کے اوڑی علاقے میں رہائش پذیر لوگوں نے مطالبہ کیا کہ ان کے علاقوں میں بنیادی سہولیات کی بہتری کو یقینی بنایا جا سکے۔ نمائندے سے بات کرتے مقامی لوگوں نے بتایا کہ ان کے علاقوں میں سڑکیں، سرکاری عمارتیں اور رہائشی مکانات خستہ حال ہیں جبکہ کھیلوں کے انفراسٹرکچر کو اپ گریڈ کرنے کی اشد ضرورت ہے۔مقامی باشندوں نے بتایا کہ سرحدی علاقہ اوڑی کے درد کوٹ میں سڑکوں پر گڑھے پڑے ہوئے ہیں تاہم اس سڑک کی مرمت نہیںہو پاتی ہے ۔ انہوںنے بتایا کہ ایک طرف سے سرکار بہتر سڑک رابطوں کی بات کر رہی ہے تاہم زمینی سطح پر اس میںکچھ نہیں ہے ۔ ایک مقامی شہری نے بتایا کہ سڑک پر بڑے بڑے گڑھے ہیں اور پچھلے کئی سالوں سے اس کی مرمت نہیں کی گئی ہے اور متعلقہ حکام کو لوگوں کی تکالیف کی کوئی پرواہ نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ سڑک ایک اہم لنک کے طور پر کام کرتی ہے جو کئی لوگوں کو جوڑتی ہے۔ علاقے اور ہزاروں مسافر، ٹرانسپورٹرز روزانہ گڑھوں سے گزرتے ہیں۔سڑک کی حالت خراب ہے۔جس سے لوگوں کی نقل و حرکت بہت مشکل ہو رہی ہے۔اسی طرح سے انہوں نے مزید کہا کہ علاقے میں ایک اسکول ہے جو ایک مکان میں چل رہا ہے اور اس میں چار ہی کمرے ہیں جس میں بچے اچھے سے نہیں پڑ پاتے ہیں اور بارشیں ہونے کے ساتھ ہی انہیں گھروں کو جانا پڑتا ہے ۔ ادھر مقامی نوجوانوں نے بتایا کہ ان کے گاؤں میں کھیل کھیلنے کے لیے کوئی جگہ دستیاب نہیں ہے۔ ہم نے متعدد بار متعلقہ حکام سے اپیل کی اور درخواست کی کہ کھیل کے میدان کے لیے زمین کا ایک ٹکڑا مقرر کیا جائے لیکن کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم ایک محدود زندگی گزار رہے ہیں جو ہماری ذہنی اور جسمانی صحت پر بہت زیادہ نقصان اٹھا رہی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں