Download (12)

سخت سردی میں دل کا دورہ پڑنے اور ہارٹ سٹروک کا زیادہ خطرہ

عمر رسیدہ افراد گھروں سے باہر نکلنے کے دوران احتیاط برتیں: ماہرین

سرینگر//سخت سردی میں دل کا دورہ پڑنے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے جبکہ دماغ کی نس پھٹنے کا بھی زیادہ خطرہ رہتا ہے اس لئے لوگوں کو چاہئے کہ وہ احتیاط سے کام لیں۔ ماہرین طب نے لوگوں سے کہا ہے کہ سردیوں میں دل کا دورہ پڑنے کا خطرہ زیادہ رہتا ہے اس لئے لوگوں کو چاہئے کہ وہ احتیاط برتیں ۔ انہوں نے بتایا ہے کہ وادی کے ہسپتالوں میں دل کے دورہ پڑنے والے اور سٹروک کے مریضوں میں دوگنا اضافہ ہوتا ہے جس کے نتیجے میں اموت بھی بڑھ جاتی ہے ۔انہوںنے اس بات کا بھی انکشاف کیا ہے کہ نہ صرف عمر رسیدہ افراد بلکہ جوان اور صحت مند افراد بھی دل کے دورہ پڑنے اور سٹروک کے بعد ہسپتال پہنچائے جاتے ہیں اور ان میں سے کئی مریضوں کو مردہ حالت میں ہسپتال پہنچایا جاتا ہے ۔ انہوںنے بتایا کہ منفی درجہ حرارت کے نتیجے میں انسان کی نسیں سکڑ جاتی ہے جس سے سٹروک اور ہارٹ اٹیک کا خطرہ بڑھ جاتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ شدید سردی کے دوران خون زیادہ گاڑھا اور چپچپا ہو جاتا ہے جس سے جمنا آسان ہو جاتا ہے۔سردیوں میں اضافہ بھی ان کیسز کے خطرے کو بڑھا دیتا ہے انہوں نے کہا کہ سردیوں کے دوران سورج کی روشنی کی کمی لوگوں میں وٹامن ڈی کی کمی کا باعث بنتی ہے جو کہ ہارٹ اٹیک یا فالج سے مرنے کے خطرے سے منسلک ہے۔اگرچہ ہم موسم کو تبدیل نہیں کر سکتے، ہم سرد موسم کے خطرات سے خود کو بچانے کے لیے احتیاطی تدابیر اختیار کر سکتے ہیں۔ سرد درجہ حرارت سے بچنے کے لیے خود کو گرم رکھیں۔ اگر آپ باہر جاتے ہیں تو تہوں میں کپڑے پہنیں، ٹوپی، دستانے اور اسکارف پہنیں۔ چہل قدمی کے لیے سردی میں باہر جانے سے گریز کریں اور اپنی ورزش کو اندر لے جائیں۔ ہارٹ اٹیک اور فالج کے خطرے والے عوامل جیسے کہ ہائی بلڈ پریشر، ذیابیطس، غیر معمولی کولیسٹرول، اور تمباکو کا استعمال کنٹرول کریں۔ سبزیوں اور پھلوں سے بھرپور صحت بخش غذا لیں اور اپنے تناؤ کو کم کریں۔ اگر آپ کو پہلے سے ہی دل کی بیماری ہے، تو سخت سرگرمیوں سے گریز کریں، جیسے کہ بھاری برف کو ہٹانا وغیرہ۔انہوںنے مزید بتایا کہ فلو ویکسن اور کووڈ ٹیکہ ضرور لیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں