رفح میں چھے لاکھ بچوں سمیت ایک ملین فلسطینی کسمپرسی کے عالم میں ہیں، اقوام متحدہ

اقوام متحدہ کے سربراہ نے رفح پر صہیونی حملے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ جنگ بندی اور قیدیوں کے تبادلے کی کوششیں ناکام ہونے سے المیہ رونما ہوسکتا ہے۔

الجزیرہ نے کہا ہے کہ اقوام متحدہ کے سربراہ انٹونیو گوتریش نے غزہ کے جنوبی شہر رفح پر صہیونی حکومت کے زمینی حملے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ رفح بارڈر کی بندش سے غزہ میں ایندھن کا بحران پیدا ہوگا جس سے امدادی ٹیموں کی سرگرمیاں متاثر ہوں گی۔

گوتریش نے کہا کہ ہماری ٹیمیں رفح کے مختلف حصوں میں مصروف عمل ہیں۔ رفح میں دس لاکھ افراد امدادی کاموں کے منتظر ہیں جن میں چھے لاکھ بچے بھی شامل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اگر جنگ بندی اور قیدیوں کے تبادلے کی کوششیں ناکام ثابت ہوئیں تو غزہ میں المیہ رونما ہوگا۔ رفح اور کرم شالوم کی گزرگاہیں بند ہونے سے حالات مزید تشویشناک ہورہے ہیں۔

اقوام متحدہ کے سربراہ نے اسرائیل سے مطالبہ کیا ہے کہ کشیدگی کم کرے اور جنگ بندی کی کوششوں کا ساتھ دیتے ہوئے تعاون کرے۔ مجھے اسرائیلی فورسز کی سرگرمیوں کے بارے میں تشویش ہے۔

دوسری جانب او آئی سی اور مختلف ممالک نے رفح پر صہیونی حملے کی شدید مذمت کی ہے۔ مصر، برازیل، وینزویلا اور دیگر ممالک نے صہیونی حکام سے کشیدگی کم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں