Nitin E1638303368251

دفعہ 370 کی منسوخی کے بعدجموں و کشمیر اور لداخ نے گہری مثبت اور ترقی پسند تبدیلیوں کا مشاہدہ کیا

پچھلے کچھ سالوں کے دوران سماجی و اقتصادی ترقی اور اچھی حکمرانی سے ایک سازگار ماحول پیدا کیا گیا
ہمہ جہت ترقی اور دونوں علاقوں کے لوگوں کیلئے امن اور خوشحالی لانا مرکزی حکومت کی ترجیح/ نیتی آنند رائے

سرینگر// دفعہ 370 کی منسوخی کے بعدجموں و کشمیر اور لداخ میں گہری مثبت اور ترقی پسند تبدیلیوں کا مشاہدہ کیا گیا ہے کا دعویٰ کرتے ہوئے وزیر مملکت برائے داخلہ نیتی آنند رائے نے کہا کہ پچھلے کچھ سالوں کے دوران سماجی و اقتصادی ترقی اور اچھی حکمرانی کیلئے کئی اقدامات کیے ہیں، جس کیلئے ایک سازگار ماحول پیدا کیا گیا ہے۔وزیر مملکت برائے داخلہ نیتی آنند رائے نے راجیہ سبھا کو ایک تحریری جواب میں کہا کہ حکومت جموں و کشمیر کے مرکز کے زیر انتظام علاقے اور لداخ کے مرکز کے زیر انتظام علاقے کی مجموعی ترقی کے لیے پوری طرح پرعزم ہے۔انہوں نے کہا کہ دفعہ 370 کی منسوخی کے بعدجموں و کشمیر اور لداخ کے میں گہری مثبت اور ترقی پسند تبدیلیوں کا مشاہدہ کیا گیا ہے ۔ حکومت نے پچھلے کچھ سالوں کے دوران سماجی و اقتصادی ترقی اور اچھی حکمرانی کیلئے کئی اقدامات کیے ہیں، جس کے لیے ایک سازگار ماحول پیدا کیا گیا ہے۔ ہمہ جہت ترقی اور دونوں مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے لوگوں کیلئے امن اور خوشحالی لانا مرکزی حکومت کی ترجیحات میں شامل ہیں۔دریں اثنا لداخ سے بی جے پی کے رکن پارلیمان جمیانگ نمگیال نے منگل کے روز یو ٹی انتظامیہ کے تحت جمود کو جاری رکھنے کے لیے ایک مضبوط مقدمہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ سابقہ ریاست کو انتخابات سے زیادہ امن، سلامتی اور ترقی کی ضرورت ہے۔پارلیمنٹ کے جاری سرمائی اجلاس کے دوسرے دن لوک سبھا میں جموں و کشمیر کے مرکز کے زیر انتظام علاقے سے متعلق دو بلوں پر بحث میں ٹریڑری اور اپوزیشن بنچوں کے درمیان گرما گرم بحث دیکھنے میں آئی، جس میں تجربہ کار ٹی ایم سی ایم پی سوگتا رائے نے مطالبہ کیا۔ مرکز نے یو ٹی میں اسمبلی انتخابات کے انعقاد کے لیے ایک مقررہ وقت مقرر کیا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں