Images (1)

دفعہ 370کی منسوخی کے بعد وزیر اعظم نریندر مودی کا پہلا دورہ کشمیر 7مارچ کو طے

ایس کے آئی سی سی میں پروگرام کی صدارت کرنے کے علاوہ سرینگر میں رہی ریلی سے خطاب کریںگے
دورے کے دوران کچھ ترقیاتی پروجیکٹوں کا سنگ بنیاد بھی رکھیں گے ، بی جے پی لیڈران سے بھی بات چیت ہو گی

سرینگر // جموں کشمیر سے دفعہ 370کی منسوخی کے بعد وزیر اعظم نریندر مودی کا پہلا دورہ کشمیر7مارچ کو طے ہیں اور اس سلسلے میں تیاریوں کو حمتی شکل دی جا رہی ہے ۔ دورے کے دوران وزیر اعظم نریندر مودی ایس کے آئی سی سی میںایک تقریب کی صدارت کریں گے جبکہ سرینگر میں ہی عوامی ریلی سے خطاب ہوگا ۔ سی این آئی کے مطابق وزیر اعظم نریندر مودی 7مارچ کو دورے کشمیر پر وارد ہو رہے ہیں ۔ بی جے پی ذرائع نے اس کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ 7مارچ کو وزیر اعظم نریندر مودی سرینگر پہنچے گئے جس دوران وہ ایس کے آئی سی سی میں ایک پروگرام کی صدارت کریں گے جبکہ سرینگر میں ہی ایک عوامی ریلی سے خطاب بھی ہوگا۔یہ اگست 2019 میں دفعہ 370 کی منسوخی کے بعد وادی کشمیر کا یہ وزیر اعظم کا پہلا دورہ ہوگا۔ذرائع نے بتایا کہ یہ عوامی ریلی آئندہ عام انتخابات کیلئے بی جے پی کی انتخابی مہم کے حصے کے طور پر منعقد کی جائے گی ۔ بی جے پی ذرائع نے بتایا کہ وزیر اعظم کی عوامی ریلی سے سرینگر میں ہی خطاب کریں گے اور اننت ناگ کے پروگرام فی الحال منصوبے میں نہیں ہے ۔ خیال رہے کہ بی جے پی اننت ناگراجوری لوک سبھا سیٹ پر توجہ مرکوز کر رہی ہے جس میں جنوبی کشمیر کے شوپیاں، کولگام اور اننت ناگ اور جموں کے راجوری پونچھ کے علاقے شامل ہیں۔جموں و کشمیر میں حلقوں کی حد بندی سے پہلے، اننت ناگ سیٹ میں صرف جنوبی کشمیر کے چار اضلاع – شوپیاں، کولگام، پلوامہ اور اننت ناگ شامل تھے۔خیال رہے کہ اگست 2019 میں مرکز کے ذریعہ دفعہ 370 کی منسوخی اور ریاست جموں و کشمیر کو دو مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں تقسیم کرنے کے بعد یہ وزیر اعظم کا وادی کشمیر کا پہلا دورہ ہوگا۔تاہم، دو ماہ میں یہ پی ایم مودی کا جموں و کشمیر کا دوسرا دورہ ہوگا۔ انہوں نے نے 20 فروری کو جموں میں ایک عوامی ریلی سے خطاب کیا جس کے دوران انہوں نے 32,000 کروڑ روپے سے زیادہ کے متعدد ترقیاتی پروجیکٹوں کی نقاب کشائی کی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں