دفعہ 370کی منسوخی کے بعد ایس ٹی ،ایس سی اور او بی سو طبقوں کو حقوق ملے

جموں کشمیر میں ترقی کا نیا دور شروع ہو گیا / مودی
ہماری حکومت کی تیسری میعاد زیادہ دور نہیں، ہم مشکل وقت سے نکلے ہیں اور ملک کو بھی مسائل سے نکالا گیا

سرینگر //کانگریس کو ایک مرتبہ پھر سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے وزیر اعظم نریندرمودی نے کہا کہ ’’ کانگریس پارٹی ‘‘ اب پرانی ہو گئی ہے اور وہ ہمیشہ کسی بھی قسم کے ریزرویشن کے خلاف رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ جموں کشمیر سے دفعہ 370کی منسوخی کے بعد ایس ٹی ،ایس سی اور او بی سو طبقوں کو اپنے حقوق ملے اور جموں کشمیر میں ترقی کا نیا دور شروع ہو گیا ۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہماری حکومت کی تیسری میعاد زیادہ دور نہیںہے ۔ سی این آئی کے مطابق پارلیمنٹ اجلاس کے دوران راجیہ سبھا میں شکریہ کی تحریک پر بحث کا جواب دیتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا کہ کانگریس پارٹی نے اپنے کام کو ’’آؤٹ سورس‘‘ کیا ہے اور اس کے زوال پر اپنی ہمدردی کا اظہار کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہمارا مقصد صرف ملک کو نئی بلندیوں پر لے جانا ہے۔ ہم ملک کے پسماندہ، غریبوں اور دلتوں کے لیے اپنی اسکیموں کو اسی طرح چلاتے رہیں گے۔ اپنے خطاب کے دوران وزیر اعظم مودی نے کہا کہ ملک 2047 تک سنہری دور میں ہوگا۔ ہم اگلے پانچ سالوں میں اس کی بنیاد رکھیں گے۔وزیر اعظم نریندر مودی نے بدھ کو کانگریس پر سخت حملہ کرتے ہوئے الزام لگایا کہ اپوزیشن پارٹی پرانی ہو چکی ہے اور وہ ہمیشہ کسی بھی قسم کے ریزرویشن کے خلاف رہی ہے۔وزیر اعظم مودی نے کہا ’’کانگریس کی سوچ پرانی ہو چکی ہے اور اس نے اپنے کام کو آؤٹ سورس کر دیا ہے۔ ہم پارٹی کے اس طرح کے زوال پر خوش نہیں ہیں اور ہم اپنی ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں‘‘۔ جواہر لعل نہرو کی طرف سے وزرائے اعلیٰ کو لکھے گئے خط کا حوالہ دیتے ہوئے مودی نے کہا کہ اس میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ پہلے وزیر اعظم کسی بھی قسم کے ریزرویشن کے خلاف تھے، خاص طور پر ملازمتوں میں، کیونکہ اس سے حکومت کے کام کاج پر برا اثر پڑتا ہے۔انہوں نے کہا ’’کانگریس نے اقتدار کے لیے جمہوریت کا گلا گھونٹ دیا اور جمہوری طور پر منتخب حکومتوں کو برخاست کیا۔ کانگریس دلتوں، پسماندہوں، قبائلیوں کے خلاف رہی ہے اور اگر بابا صاحب امبیڈکر نہ ہوتے تو انہیں کوئی ریزرویشن نہیں ملتا‘‘۔مودی نے کانگریس پر ملک کو تقسیم کرنے کے لیے بیانیہ تیار کرنے کا بھی الزام لگایا اور الزام لگایا کہ وہ اب ایسے بیانات دینے کی کوشش کر رہی ہے جس سے شمال اور جنوب کی تقسیم پیدا کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔انہوں نے کانگریس پر حملہ کرتے ہوئے کہا کہ جس پارٹی نے ملک کی زمین کا ایک بڑا حصہ دشمن قوم کے لیے بند کر دیا تھا وہ اب ہمیں داخلی سلامتی پر خطبہ دے رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ کانگریس کے پاس اپنے لیڈروں اور پالیسیوں کی گارنٹی نہیں ہے لیکن وہ مودی کی ضمانتوں پر سوال اٹھا رہی ہے۔وزیر اعظم نے کہا کہ کانگریس ملک کو درپیش مسائل سے واقف ہے لیکن انہیں حل کرنے کے لئے کچھ نہیں کیا۔وزیراعظم نے کہا کہ ہم مشکل وقت سے نکلے ہیں اور ملک کو مسائل سے نکالا ہے۔مودی نے کہا کہ کانگریس انگریزوں سے متاثر تھی اور اسی وجہ سے اس نے کئی دہائیوں تک غلامی کی علامتوں کو جاری رکھا۔جموں کشمیر سے دفعہ 370کے خاتمہ کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جموں کشمیر سے دفعہ 370کی منسوخی کے بعد ایس ٹی ،ایس سی اور او بی سو طبقوں کو اپنے حقوق ملے اور جموں کشمیر میں ترقی کا نیا دور شروع ہو گیا ۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہماری حکومت کی تیسری میعاد زیادہ دور نہیںہے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں