خاندانی حکمرانی کو مرتے ہوئے دیکھ کر خوشی ہو رہی ہے ،سات دہائیوں تک کبھی غریبوںاور نوجوانوں کی پرواہ نہیں کی/ وزیر اعظم

وزیر اعظم مودی وارد جموں ، 32,000 کروڑ روپے سے زیادہ کے متعدد ترقیاتی پروجیکٹوں کا کیا افتتاح
دفعہ 370ملک اور جموں کشمیر کی ترقی کے درمیان بڑی رکاوٹ تھی ، یوٹی لازوال امن اور ترقی کی راہ پر گامزن
جموں و کشمیر سے اب گولیوں اور بم دھماکوں کی خبروں نہیں ملتی ، کشمیر کو اس طرح ترقی ملے گی کہ لوگ سوئٹزرلینڈ بھول جائیں گے

سرینگر // دفعہ 370کو ملک اور جموں کشمیر کی ترقی کے درمیان بڑی رکاوٹ تھی کا اعلان کرتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا کہ خصوصی حیثیت کو ختم کرنے کے بعدجموں و کشمیر لازوال امن اور ترقی کی راہ پر گامزن ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ خاندانی حکمرانی کو مرتے ہوئے دیکھ کر ہمیں خوشی ہو رہی ہے اور سات دہائیوں تک جموں و کشمیر پر حکومت کرنے والوں نے کبھی غریبوں، نوجوانوں کی پرواہ نہیں کی۔ وزیر اعظم مودی نے کہا کہ جموں و کشمیر میں اب بندوقوں اور بم دھماکوں کی خبروں کیلئے مشہور نہیں ہے بلکہ تعلیم اور رابطہ اولین ترجیحات ہیں۔ ساتھ ہی انہوں نے دعویٰ کیا کہ کشمیر میں سوئٹزرلینڈ سے بہتر انفراسٹرکچر موجود ہے ۔ سی این آئی کے مطابق دورے جموں کے دوران وزیر اعظم نریندر مودی نے 32,000 کروڑ روپے سے زیادہ کے متعدد ترقیاتی پروجیکٹوں کا افتتاح کیاجبکہ انہوں نے کئی ایک پروجیکٹوں کی سنگ بنیاد بھی رکھی ۔ ان منصوبوں میں صحت، تعلیم، ریل، سڑک، ہوابازی، پٹرولیم، اور شہری بنیادی ڈھانچے سمیت کئی شعبوں شامل ہے ۔ اس کے علاوہ وزیر اعظم کے ہاتھوں بانہال سے سنگلدان ریل لنک بھی افتتاح کیا گیا جبکہ نوجوانوں کو ملازمت کے تقرریوں کے خطوط بھی دیں ۔ جموں کے مولانا آزاد اسٹیڈیم میں ایک بڑے عوامی جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا کہ دفعہ 370 ملک اور جموں و کشمیر کی ترقی کے درمیان ایک دیوار ہے اور کہا کہ خصوصی حیثیت کو ختم کرنے کے بعد، جموں و کشمیر لازوال امن اور ترقی کی راہ پر گامزن ہے جس کی وجہ سے جموں و کشمیر کی ترقی نے روک دیا تھا۔ انہوں نے کہا ’’دفعہ 370 ملک اور جموں و کشمیر کی ترقی کے درمیان ایک دیوار تھی۔ اس دیوار کو بی جے پی حکومت نے ہمیشہ کیلئے ہٹا دیا تھا۔ وہ خاندان جنہوں نے جموں و کشمیر پر 70 سال حکومت کی انہوں نے عوام اور نوجوانوں کے بارے میں کبھی نہیں سوچا۔ اس کے بجائے انہوں نے بار بار اقتدار پر قبضہ کرنے کے لیے اپنی پارٹیوں کو متعلقہ رکھنے کے لیے کام کیا‘‘ ۔ وزیر اعظم مودی نے کہا ’’ میں جموں و کشمیر میں 70 سالہ طویل خاندانی حکمرانی کو ختم ہوتے دیکھ کر خوش ہوں ‘‘ ۔ انہوں نے کہا’’جن لوگوں نے جموں و کشمیر پر سات دہائیوں تک حکومت کی، انہوں نے کبھی بھی پسماندہ لوگوں بشمول معاشرے کے کمزور طبقات کی پرواہ نہیں کی‘‘۔انہوں نے کہا کہ دفعہ 370 پر ایک فلم آنے والی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ فلم دفعہ 370 کے بارے میں کچھ اہم حقائق سے لوگوں کو آگاہ کرنے میں مدد کرے گی۔وزیر اعظم نے کہا ’’جموں و کشمیر اب بندوقوں، بموں اور علیحدگی پسندی کی خبروں میں نہیں رہا۔ تعلیم، رابطے اور ترقی نے ان سب کی جگہ لے لی ہے‘‘ ۔ انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر کے نوجوانوں کو پیشہ ورانہ کورسز کے لیے جموں و کشمیر سے باہر جانے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ کشمیر اور جموں کے علاقے تعلیمی مرکز کے طور پر ابھر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا ’’ہڑتالوں اور بندوں سے دور، جموں و کشمیر کے نوجوان اپنا مستقبل خود لکھ رہے ہیں‘‘۔انہوں نے کہا کہ دفعہ 370 کو ہٹانے کے بعد، انہوں نے ملک کے لوگوں سے آئندہ لوک سبھا انتخابات میں بی جے پی کو 370 سیٹیں اور این ڈی اے کو 400 سے زیادہ سیٹیں دینے کو کہا ہے۔انہوں نے کہا کہ جموں کے لوگوں کا آج کا زبردست ردعمل ملک کے ہر شہری کے حوصلے بلند کرنے والا ہے۔ مجھے بتایا گیا ہے کہ لوگ میری تقریر کو 280 بلاکس میں بڑی اسکرین پر بھی دیکھ رہے ہیں۔خطاب کے دوران وزیر اعظم مودی نے کہا ’’حال ہی میں خلیجی ممالک کے اپنے غیر ملکی دورے کے دوران، انہیں بتایا گیا کہ جموں و کشمیر کی مہمان نوازی اور مسحور کن ماحول بہت اچھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ملک اور سرینگر میں G20کی کامیاب صدارت اور میٹنگوں کے بعد ہوا ہے‘‘۔مودی نے کہا کہ ان کے پچھلے سال 2 کروڑ سیاحوں نے جموں و کشمیر کا دورہ کیا جس سے بہت سے لوگوں کیلئے روزی روٹی کے مواقع پیدا ہوئے۔ انہوں نے کہا ’’ میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ جہاں تک بنیادی ڈھانچے کا تعلق ہے، لوگ سوئٹزرلینڈ کو بھول جائیں گے اور جموں و کشمیر کو ترجیح دیں گے کیونکہ بنیادی ڈھانچے کو بڑا فروغ ملے گا‘‘۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ 11 سالوں میں ہندوستان دنیا کی 5ویں سب سے بڑی معیشت بن گیا ہے اور اگلے پانچ سالوں میں ہم دنیا کی تیسری سب سے بڑی معیشت بن جائیں گے۔مودی نے کہا کہ دفعہ370 کی منسوخی کے بعد، سماج کے کمزور طبقوں، والمیکیوں، صفائی کرم چاریوں، پہاڑیوں، کوہلیوں، ایس ٹی، کو ان کا جائز حصہ ملا۔ اسمبلی اور پنچایتوں میں بھی خواتین کی مناسب نمائندگی ہوگی۔انہوں نے کہا کہ مودی کی گارنٹی فائنل ہے اور یہ گارنٹی ہے کہ ہر ایک کے خواب پورے ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ 10 سال پہلے جموں و کشمیر کی ترقی کا کوئی تصور نہیں تھا۔ انہوں نے کہا کہ دو آئی آئی ٹی، دو ایمس ہیں، جن میں سے ایک کا آج جموں میں میرے ذریعہ افتتاح کیا گیا ہے۔انہوں نے کہا،’’ میڈیکل کالجوں کی تعداد 4 سے بڑھا کر 12 کر دی گئی ہے۔ آج کل 650 پی جی میڈیکل کی سیٹیں ہیں اس کے علاوہ 45 نرسنگ اور پیرا میڈیکل کالجز ہیں‘‘ ۔ اس سے قبل پی ایم مودی نے آیوشمان بھارت، جن جیون، اور صحت اسکیم سمیت مختلف اسکیموں کے استفادہ کنندگان سے بات کی اور ان سے رائے طلب کی۔ مودی نے کہا، ’’جو لوگ اپنے خاندانوں کی فلاح و بہبود کے بارے میں سوچتے ہیں، وہ عام شہریوں کے لیے کبھی کوئی سوچ نہیں چھوڑیں گے۔ انہوں نے اس بات پر خوشی کا اظہار کیا کہ یونین ٹیریٹری میں خاندانی سیاست اب ختم ہونے والی ہے۔وزیر اعظم نے کہا کہ وکست جموں و کشمیر بنانے کے لیے حکومت غریبوں، کسانوں، نوجوانوں اور ناری شکتی پر توجہ مرکوز کر رہی ہے۔ وزیر اعظم نے نوٹ کیا کہ جموں و کشمیر تیزی سے تعلیم اور ہنرمندی کی ترقی کا ایک بڑا مرکز بن رہا ہے۔انہوں نے کہا جو خواب 70 سال سے ادھورے پڑے تھے وہ جلد ہی پورے کریں گے۔وزیر اعظم نے کہا کہ جموں کشمیر مایوسی اور علیحدگی پسندی کے دنوں کو پیچھے چھوڑتے ہوئے وکست بننے کے عہد کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں