حماس کے سربراہ اسماعیل ہنیہ کے تین بیٹے اور پوتے کی شہادت سے دشمن خوفزدہ

حماس کے سربراہ اسماعیل ہنیہ کے تین بیٹے اور پوتے کی شہادت سے دشمن خوفزدہ

تحریر: مجید الاسلام شاہ

فلسطین، لبنان، عراق، یمن اور ایران میں اسلامی مزاحمتی تحریک کے جنگجوؤں کی زندگی ایسی ہی ہے وہ اور ان کے اہل خانہ یعنی رشتہ دار، بیوی، بیٹے، بیٹیاں، نواسے، بھائی، بہنیں اور قریبی رشتہ دار سب کے سب راہ مقاومت میں اپنی جانیں قربان کردیتے ہیں۔ وہ صرف لفظوں میں نہیں بلکہ حقیقت میں اپنی جان، مال قربان کرتے ہیں اور ایثار و قربانی کے جذبے کو لوگوں کے لیے بلند کرتے ہیں، اس لیے لوگ بھی ان سے محبت کرتے ہیں اور ان کے طریقے اور نظریات کو قبول کرتے ہیں۔

غزہ کے عوام دیکھ سکتے ہیں کہ غزہ میں 33000 شہداء کے قافلے میں حماس اور فلسطینی اسلامی مزاحمتی تحریک کے رہنماؤں کے قریبی رشتہ دار اور دوست بھی شامل ہیں۔

گزشتہ روز عیدالفطر کے دن اسرائیلی بمباری میں اسماعیل ہنیہ کے تین بچوں اور پوتوں کی شہادت فاتح اور غاصب اسرائیلی متشدد خونخوار درندوں کی شکست، تباہی اور نابودی کا باعث بنے گی۔

واضح رہے کہ ایران، لبنان، فلسطین، عراق، یمن میں شہادت کے موقع پر ماتم و تعزیت کے بجائے مبارک باد دی جاتی ہے۔ کیونکہ شہداء شہادت کے ذریعے ایک خاص باوقار زندگی پاتے ہیں اور ابدی زندگی پاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے خاص رزق و روزی حاصل کرتے ہیں۔ مبارک باد کے پیغام میں لکھا ہے: (شہادت تیرے لیے پیاری ہو، اے شہید)۔”

اسرائیل کی جانب سے حماس کے سربراہ اسماعیل ہنیہ کے تین بچوں اور پوتوں کی شہادت نے حماس کے سربراہ کو گہرے رنج و غم میں مبتلا کر دیا ہے اور تحریک مزاحمت کے دشمنوں کو خوفزدہ کر دیا ہے۔ ایک باپ کے لیے بچے کو کھونے کا دکھ اور درد بہت ہی سخت ہوتا ہے۔ لیکن اسرائیل اس گھناؤنے فعل سے حماس کے رہنما اسماعیل ہنیہ اور دیگر رہنماؤں کو ہلا نہیں سکے گا بلکہ انہیں آزادی، اور جدوجہد کے راستے پر اپنے عزم میں مزید مضبوط بنائے گا۔ اور یہ مظلوم فلسطینی عوام، غزہ کے عوام اور فلسطینی آزادی پسندوں اور مجاہدوں کی جدوجہد کو تحریک دے گا۔ کیونکہ یہ جہاد، فتح اور شہادت کا راستہ ہے اور لفظ حماس (حَمَاس) کے معنی ہیں حوصلہ افزائی، بہادری، جوش، اس طرح غزہ کے مظلوموں اور فلسطینی مجاہدین میں جہاد اور حماس دونوں کا جذبہ موجود ہے۔

(حوزہ نیوز)

اپنا تبصرہ بھیجیں