Download (14)

جموں وکشمیر پولیس ایس پی اوزکے مابین سوئی داغا کارشتہ مستقل نوکریاں بھی فراہم کی جائے گی

منشیات عسکریت سے نمٹنے کے لئے کوئی بھی کسر نہیں چھوڑی جائیگی /ڈی جی پی آر آر سوائین

سرینگر // ایس پی اوز اور جموں وکشمیر پولیس کے مابین سوئی داغا کا رشتہ قرار دیتے ہوئے ڈائریکٹر جنر ل آف پولیس نے کہاکہ جان فشانی کے ساتھ کام کرنے والے ایس پی اوز کوہر طرح کی مرعات فراہم کرنے کے لئے اقدامات اٹھائے جارہے ہیں تاہم مستقبل میںنوکریاں فراہم کرنا سرکار کی ذمہ داری ہے۔ عوامی دربار مشکلات کاازالہ کرنے کے لئے منعقد کئے جاتے ہیں۔ لوگوں کوراحت پہنچانے کی بھر پور کوشش کی جاتی ہے اور ان عوامی درباروں کے دوران اس بات کااحساس ہوتاہے کہ مسائل ہیں جن کے ازالے کے لئے اقدامات اٹھانے کی اشد ضرورت ہے۔ منشیات کوجڑسے اُکھاڑ پھینکنے کے لئے عوا م کے بھر پو رتعاون کی ضرورت ہے عسکریت کوختم کرنے کے لئے اقدامات اٹھائے جارہے ہیں۔ ہماری تمنا ہے کہ جموں و کشمیرمیں مکمل امن قا ئم ہو اور لوگ بغیرکسی ڈر و خوف کے اپنی زندگی سکون کے ساتھ گزارے ۔ اپنی عوامی رابطہ مہم جاری رکھتے ہوئے ڈائریکٹرجنرل آف پولیس نے سرحدی ضلع کپوارہ میں عوامی دربار کاانعقاد کیا۔وادی کے مختلف علاقوں سے بالعموم اور سرحدی ضلع کپوارہ کے دور دراز علاقوں سے لوگوں کی بڑی تعداد اپنے اپنے مسائل لے کرآر آر سوائین سے ملاقی ہوئیں ۔ڈائریکٹرجنر ل آف پولیس نے کئی مسائل کوموقعے پرہی حل کرنے کے احکامات صاد رکئے تو کئی معاملات جوکئی اداروں سے تعلق رکھتے ہے انہیں ہدایت کی کہ وہ ان مسائل کوحل کرنے کے لئے اقدامات اٹھائیں۔عوامی دربار کے بعد زررائع ابلاغ کے نمائندوں کے ساتھ گفتگو کرتے وقت ڈائریکٹرجنرل آف پولیس نے کہاکہ عوامی رابطہ مہم کایہ مقصد کہ لوگ پولیس کے ساتھ جڑجائے رشتوں کومضبوط بنایاجائے۔ انہوںنے کہاکہ ان عوامی درباروں کے دوران اس بات کااحساس ہوتاہے کہ مسائل ہیں جن سے لوگوں کو مشکلوں کاسامناکرنا پڑ رہاہیں اور ان کے ازالے کے لئے بڑے پیمانے پراقدامات اٹھانے کی ضرور ت ہے ۔انہوںنے کہاکہ پولیس کے اندر بھی جوانوں افسروں کواپنے اپنے مسائل ہیں بچوں کوپڑھانے کے مشکلات اپنی جانوں کانظرانہ پیش کرنے والے جوانوں کومشکلات ان مشکلات کودور کرنے کے لئے اگرچہ پہلے ہی اقدامات اٹھائے گئے ہیں تاہم کچھ اور کرنے کی بھی ضرورت ہے ۔زررائع ابلاغ کی جانب سے جموںو کشمیرپولیس کے ساتھ کام کرنے والے ایس پی اوز کو مستقل نوکریاں فراہم کرنے ان کے تنخواہوں میں معقولیت لانے کے سوال کاجواب دیتے ہوئے انہوںنے کہاکہ ایس پی اوز او رجموںو کشمیر پولیس کے مابین سوئی داغا کارشتہ ہے ۔یہ جان باز سر ہتھیلیوں پررکھ کر اپنی خدمات انجام دیتے ہیں وہ ہر ایک مرعات کا حق رکھتے ہے اورجموںو کشمیر پولیس کی جانب سے انہیں وہ تمام سہولیت فراہم کی جائیگی جن کے وہ حقدار ہیں ۔ڈی جی پی نے کہاکہ جوایس پی اوز بہتر کارکردگی کر مظاہراہ کرتے ہیں ان میں سے کئی ایک کوجموںو کشمیر پولیس میںمستقل نوکریاں فراہم کی جاتی ہے تاہم مستقل نوکریاں فراہم کرنا سرکار کے ہاتھ میں ہے اور ا سکے لئے پالسی مرتب کرنے کی ضرورت ہے ۔منشیات کوجمو ںوکشمیرکے لئے سب سے بڑا خطرہ اور جموںو کشمیر پولیس کے لئے چلیج قرار دیتے ہوئے آر آر سوائین نے کہااب لوگوں سے اس بد عت کے خاتمے کے لئے تعاون مل رہاہے جوخوشی کی بات ہے ۔انہوںنے کہامنشیات نشیلی ادویات کے کاروبار کوزمین بوس کرنے میں ہرایک رکاوٹ کو زمین بوس کیاجائیگا ان تمام دشواریوں کے خطروں سے نپٹاجائیگا جومنشیات او رنشیلی ادویات کو ختم کرنے میں رکاوٹ بنے ہوئے ہے۔ انہوں نے کہااس بدعت سے جموں وکشمیرکے لوگوں کونجات دلانے کاہم نے مسمم ارادہ کیاہے ہمارے ارادے اٹل مضبوط مستحکم ہیں اور اس ناسورکوختم کرنے کے لئے کوئی سمجھوتہ قابل قبول نہیں ہوگا ۔عسکریت کے خاتمے کے لئے بھر پور اقدامات اٹھانے کوعندیہ دیتے ہوئے ڈی جی پی نے کہاکہ عسکریت آخری ہچکولے کھارہی ہے ہم اُمیدکرتے ہیں کہ جلدہی جموںو کشمیرکے عوام کواس سے چھٹکارا دلایاجائیگا ۔جموں وکشمیرمیںامن پوری طرح سے لوٹ آئے ہماری یہی کوشش ہے اور ہم امید کرتے ہے کہ ہم اپنے مقاصد میں ضرور کامیاب ہونگیں ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں