Download (2)

جموں وکشمیر میں 31عسکریت پسند سرگرم 27کا تعلق صوبہ کشمیر سے او رچار کشتواڑ کے ہیں

جموں وکشمیر کے لوگوں کو ملک دشمن عناصر کے رحم وکرم پرنہیں چھوڑاجاسکتا عسکریت سے نمٹنے اور منشیات کوجڑسے اُکھاڑپھینکنے کے لئے وعدہ بند /آر آر سوائین

سرینگر // عسکریت پسندوں کے خلاف ہی نہیں بلکہ علیحدگی پسندیکے خلاف جنگ جاری رکھنے کا عندیہ دیتے ہوئے ڈائریکٹرجنرل آف پولیس نے جموں وکشمیر میں 31کے قریب عسکریت پسندوں کے سرگرم ہونے کاانکشاف کرتے ہوئے جموں وکشمیر پولیس کی جانب سے عسکریت سے نمٹنے منشیات کے کاروبار وجڑ سے اُکھاڑ پھینکنے کے سلسلے میں سال بھرکی کار کردگی ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ امن بحال کرنے لوگوں کے جان مال کے تحفظ کویقینی بنانے کے لئے ہر ممکن اقدامات اٹھائے جائینگے ۔جموںو کشمیر کے عوام کوشر پسند عناصر کے رحم پر نہیں چھوڑا جاسکتا ہے اور اس سلسلے میں ہرطرح کے اقدامات اٹھائے گئے ہیں ۔میں کشمیر پولیس کے سربراہ آر آر سوا ئین نے 2023کی حصولیابیوں کی تفصیلات فراہم کرتے ہوئے کہا کہ جموںو کشمیر پولیس امن بحال کرنے لوگوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لئے مشینوں کی طرح کام کرناچاہتی ہے ۔اعدادشمارپیش کرتے ہوئے انہوں نے کہامجموعی طور پراسی فیصد حالات بہترہوئے ہے اور لوگوں میںڈر خوف اب باقی نہیں رہاہے امن تیزی کے ساتھ قائم ہورہاہے اور لوگ امن امان کوبحال رکھنے ملکی دشمن سرگرمیوں کو ناکام بنانے کے لئے اپناتعاون فراہم کررہے ہے تفصیلات فراہم کرتے ہوئے ڈائریکٹر جنرل آف پولیس نے کہاکہ رواں برس کے دوران سال عسکریت 113 پسندوں کومار اگیا۔جموںو کشمیر پولیس کسی عسکریت پسند یاعام شہری کی جان کو بچانے کی ہرممکن کوشش کررہی ہے ۔نوجوان کوعسکر یت سے دور رکھنے کے لئے اقدامات اٹھائے گئے ۔اعداد شمارپیش کرتے ہوئے انہوں نے کہاسال2022میں تشددآمیز واقعات میں عسکریت پسندوں کے ہاتھوں31 شہری مارے گئے تھے او روان برس کے دوران یہ تعداد 14تک جاپہنچی ۔انہوں نے کہا کہ سال2022میں تشددکے 125واقعات رونماء ہوئے اسطرح کی 46 کارروائیاں عمل میں لائی گئی او راس طرح تشدد آمیز واقعات میں 63%کی کمی آ گئی ہے۔ انہوں نے کہاکہ جموںو کشمیر کے لوگوں کو شرپسندعناصر کے حوالے نہیں کیاجاسکتا ہے اورمن مانی کی اجازات نہیں دی جاسکتی ہے ۔ڈائریکٹر جنرل آف پولیس نے کہاکہ ایس آئی اے کے57جائیدادیں ضبط کی ہے اور مجموعی طور پر 99جائیدادوں کو سربمہر کردیاگیا ہے ۔تفصیلات فراہم کرتے ہوئے ڈی جی پی نے کہاکہ مسلم لیگ مسرت عالم اور فری ڈم پارٹی کوغیر قانونی ملک دشمن سرگرمیوں میںملوث پاکران پرپابندی عائد کر دی گئی۔ ڈی جی پی نے کہا کہ جنگ صرف عسکرت پسندوں کے خلاف نہیں بلکہ اس طرح کی سوچ رکھنے والوں کے خلاف بھی لڑی جارہی ہے ۔اعدادشمارپیش کرتے ہوئے انہوںنے کہاکہ 48آپریشنوں کے دوران 76عسکریت پسندوں جن میں 5 غیر ملکی ہے کو ماراگیا اور یہ بات کھل کرسامنے آئی کہ مقامی عسکر یت پسندوں کے بجائے غیرملکی عسکریت پسندوں کی تعداد زیادہ ہے او رجموں وکشمیرمیںعسکریت کوفروغ دینے کے ضمن میں ہمسایہ ملک کی کوششیں شدومد سے جاری ہے ۔تفصیلات فراہم کرتے ہوئیے ڈی جی پی نے کہا جموںو کشمیرمیں مقامی 31عسکریت پسند جن میں چار جموں زون کے اور 27 کشمیر صوبہ سے تعلق رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا عسکریت پسندوں کے عیانت کرنے کے الزام میں سال2022میں 2019 افرادکی گرفتاری عمل میں لائی جبکہ یہ تعداد 313ہے اور ریکارڈ بلنڈنگ کا لایاہے جو بھی ملوث شخص مفرور ہیں جب بھی وہ اپنے علاقے میں داخل ہونگے ان کے خلاف ٹیکنالوجی کی مددسے کارروائی عمل میں لائی جائے گی اور اقدامات اٹھائے گئے ہیں ۔انہوںنے کہاکہ بالائی ورکروں کے خلاف بھی اقدامات اٹھائے گئے 201افراد گرفتارکئے گئے جن میں 30جموں سے سلاخوں کے پیچھے دھکیل دیئے گئے ۔انہوںنے اعداد شمارظاہر کرتے ہوئے کہاکہ رواں برس کے دوران 89ٹہیرمڈلوزکوبے نقاب کردیاگیا جن میں 78 کشمیر سے اور 11جموں سے تباہ دکردیئے گئے۔ رواں برس کے دوران 18کمین گاہوں کوپتہ چلاجن میں چھ کشمیر میں اوربارہ جموں زون میں ہے ۔ا ٓر آر سوائن نے تفصیلات فراہم کرتے ہوئے کہاکہ عسکر یت پسندو ں کی حمایت ملک دشمن سرگرمیاں انجام دینے والوں کے خلاف بھی اقدامات اٹھائے گئے ہیں اور اس ضمن میں کسی کو ملک کے خلاف منصوبہ بندی کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور نہ ہی صحافی آزادی کا غلط مطلب لیاجاناچاہے جوکوئی بھی ملک دشمن سرگرمیوں میںملوث ہوگا اس کے خلاف عدالت کادروازہ کھٹکھٹانے سے گریز نہیں کیاجائیگا ۔سال بھر کی کارکردگی کاخلاصہ پیش کرتے ہوئے ڈائریکٹرجنر ل نے کہاکہ 8ہزار کے قریب جعلی فیس بک انسٹراگرام کی نشاندہی ہوئی اور 69Aایکٹ کے تحت ان کے خلا ف کارروائیاں عمل میں لائی گئی ۔ڈی جی پی نے کہاکہ رواں برس میں جموںو کشمیر پولیس میں حالات سے نمٹتے قتل ہلاکتوں میں کمی دیکھنے کومل رہی ہے ۔سال2022میں 14پولیس جوان افسرمارے گئے، جبکہ رواں برس میں یہ تعداد چار ہے انہوں نے کہا پولیس و فورسز جوانوں او رافسروں کی ہلاکتوں کو روکنے کے لئے ہرممکن اقدامات اٹھائے جارہے ہیں ۔ انہوںنے کہاکہ جموں وکشمیرمیں حالات میں دن بدن بہتری آ رہی ہے اور سال2023میں جہاں دوکروڑ سے زیادہ سیاح وارد کشمیر ہوئیں وہی جی ٹونٹی میٹنگ کاانعقاد بھی ہوا۔ امرناتھ یاترا کو خوش اسلوبی کے ساتھ انجام دیاگیا چارلاکھ پچاس ہزار یاتریوں نے شیولنگم کے درشن کئے۔ انہوں نے کہا بہترحالات کے باعث 34سال کے بعد 8محرم کوجلوس نکالاگیا شعیہ برادری نے اپنے مذہبی فریضے کوانجام دیا۔ انہوںنے کہا جموں وکشمیر پولیس وسی آر پی ایف ایس ائی ایس ایف کی مددسے بھارت جوڑوں یاترا بھی اپنے اختتام کوپہنچادی گئی ۔تفصیلات فراہم کرتے ہوئے انہوںنے کہاماضی میں ہرتین دن کے بعد عسکریت پسندوں کی جانب سے کوئی نہ کوئی کارروا ئی عمل میںلائی جاتی تھی اب نوسے دس دنوں کے بعد اس طرح کاکوئی واقع رونما ہوتا ہے ۔تفصیلات فراہم کرتے ہوئے ڈی جی پی نے کہاکہ سال2019کے بعد ہڑتالوں سنگباری کاسلسلہ ختم ہوا اور اب وادی کشمیرمیں سنگبازی اور ہڑتالوں کے زیروفیصد کارروائیاں عمل میں لائی جاتی ہے۔ انہوںنے کہا جموںو کشمیرمیں امن کوبگاڑنے کے لئے پاکستان سے ہڑتالوں کی کالیں دی جاتی ہے تاہم عام شہری اب ان ہڑتالوں کی طرف توجہ نہیں دیتے ہیں بلکہ جموںو کشمیرکوعوام امن ترقی اور خوشحالی کامتمنی ہیں ۔ڈی جی پی نے کہاکہ ہم ہر ایک کی جان کومحفوظ رکھنے کے متمنی ہیں۔ انہوں نے کہا پہلے منصوبہ بندی کے تحت سنگ بازی ہوا کرتی تھی جس میںاب 72%کی کمی آگئی ہے ۔انہوں نے کہاکہ جموںو کشمیر پولیس نے منشیات کے خلاف بڑی جنگ شرع کررکھی ہے اور 2019کے بعد منشیات کے خلا ف بڑے پیمانے پرکارروائیاں عمل میں لائی جارہی ہے ۔انہوں کہا سرحدپار سے ہیروئن گانجاچرس جموں وکشمیرمیں داخل کرانے کی بھرپور کارروائیاں عمل میں لائی جارہی ہے جن پرکسی حد تک روک بھی لگادی گئی ہے۔ انہوںنے کہاعلیحدگی پسندی او رعسکریت پسندوں کے مابین برابر تعاون ہے اور وہ منشیات کوایک ہھتیا رکے طرح پراستعمال کرتے ہیں ۔پاکستان سے پانچ لاکھ روپے کی چرس ہیروئن جموںو کشمیرمیں داخل کی جاتی ہے اور پہنچاتے پہنچاتے ایک کروڑ کی قیمت تک پہنچ جاتی ہے او ریہی پیسے پاکستان واپس لے جاتے ہے جہاں وہ ڈرون طیاروں کے زریعے عسکریت پسندوںتک پہنچانے کی کوشش کی جارہی ہے ۔تفصیلات فراہم کرتے ہوئے انہوںنے کہا منشیات کاکاروبار کرنے والوںکے خلا ف بڑے پیمانے پرکارروائیاں عمل میں لا ئی جارہی ہے او ر31%تک گرفتاریوں کاگراف پہنچ گیاہے۔ سال 2022میں 191افراد کی گرفتاری عمل میں لائی گئی او راب یہ تعدا 250تک جاپہنچی ہے ۔ڈی جی پی نے کہاکہ جموںو کشمیرمیںمنشیات میں ملوث لوگ بین ریاستی گروہوں سے بھی تعلق رکھتے ہیں او رایس آئی اے کی جانب سے ایک ایسے کیس کومنظرعام پرلایاگیا جن میں 19افراد شامل تھے جن کاتعلق کشمیر، جموں، پنجاب سے تھا اور ان گرہوں میں شامل سرغنہ ترکی ،پیرس اورکینڈامیں بھی رہائش پزیر تھے۔ انہوںنے کہاکہ سرغنہ کے گھر پرچھاپے کے دوران پانچ کروڑ اور بین الاقوامی کنٹرول لائین پرمنشیات کی خرید فروخت کے سلسلے میں دوکروڑ پچاس لاکھ روپے ضبط کئے گئے۔ انٹرپول کے زریعے اب ایسے افرا دکے خلا ف کارروائی عمل میںلائی جائیگی ۔انہوں نے؁ کہا دس کروڑ 90لاکھ روپے منشیات اب تک ضبط کی گئی ہے۔ انہوںنے کہا2023میں منشیات کے سلسلے میں 171کیسوں کاچالان عدالت میں پیش کیاگیا جن میں 27کو سزائی دے دی گئی او رمنشیات کے سرغنہ کو 20 سال قیدبامشقت کی سزاسنائی دی گئی ۔اور 336 گرام چرس پانچ ہزار630 اور گانجا ضبط کیاگیا ۔ڈی جی پی نے کہا منشیات کی اس بدعت کوجڑ سے اُکھاڑ پھینکنے کے لئے ہرممکن اقدامات اٹھائے جارہے ہیں ۔انہوںنے کہا ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کے بارے میں اقدامات اٹھائے گئے ہیں اور مجموعی طور رجموںو کشمیرمیں امن قانون کو بھرقراررکھنے لوگوں کے جان و مال کے تحفظ کویقینی بنانے عسکرت کو جڑ سے اکھاڑ پھینک کردینے کے لئے اقدامات اٹھاکرلوگوں کوایک پرُامن ماحول فراہم کرنے کے لئے سال 2023کے دوران اقدامات اٹھائے گئے اورہم دعا کرتے ہیں کہ سال 2024 ملک کے عوام کے لئے نیک خواہشات لے کرآئے او رجموںو کشمیرمیں پوری طرح سے امن بحال ہو۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں