Download (17)

جموں وکشمیر بنک کے اندرونی و بیرونی سطح پر چیلینجز ،بنک انتظامیہ لاتعلق ،صارفین پریشان

بنک شاخوں کا حال بے حال ،روزگار سکیموں کی عمل آوری میں من مانیاں ، بنک انتظامیہ کو جواب دہ بنایا جائے /عوام

سرینگر //جے کے بنک جو کئی دہائیوں سے جموں وکشمیر میں ایک مقامی بنک ہونے کے ناطے عام آدمی کے ساتھ اپنے جذبات اور احساسات کا رشتہ بنانے میں ملکی سطح پر ایک نمایاں مقام حاصل کرچکا تھا ،اب اسکے منتظمین کی جانب سے سرد مہری اور عوام سے لاتعلقی نے اس اہم بنک کی زمینی سطح پر ساکھ کو بری طرح متاثر کیا ہے ۔اس وقت بنک کے اندرونی و بیرونی سطح پر کئی الزامات درپیش ہیں لیکن متعلقہ قیادت خاموش تماشائی بنی بیٹھی ہے ۔۔یہ بات قابل ذکر ہے کہ جے کے بنک نے حال ہی میں ایک کسٹمر میٹ کا انعقاد، دفتر میں بیٹھ کر” آن لائن” کیاتاہم عام صارفین اس طرح کی کسٹمر میٹنگوں سے زیادہ مطمئن نظر نہیں آرہے ہیں۔عام صارفین کا کہنا ہے کہ اب جے کے بنک کی اعلی قیادت اپنے دفتروں سے باہر نہیں آرہی ہے۔ماضی میں بنک کی اعلی قیادت زمین سے جڑی رہا کرتی تھی اور عام صارفین کے ساتھ اس کا ایک موثر اور مضبوط لیزان رہتا تھا لیکن اب کئی برسوں سے وہ لیزان ختم ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔یہ بات قابل ذکر ہے کہ جے کے بنک جموں وکشمیر کا ایک مقامی بنک ہونے کے ناطے لوگوں کے ساتھ جذباتی حد تک وابستہ ہوا کرتا تھا۔اس کی کئی مثالیں ماضی میں موجود ہیں جب بنک کی عام پالیسیوں میں مقامی سطح پر صارفین کی ضروریات کے لحاظ سے پروڈکٹ شامل کئے جاتے تھے۔اس طرح عام لوگوں اور بنک کے درمیان ایک جذباتی تال میل بھی واضح تھا۔اب عام صارفین کا کہنا ہے کہ چند برسوں سے جے کے بنک کی وہ تصویر دھندلی ہوگئی ہے جو اسکی عوام کے ساتھ جذباتی رشتے کے تناظر میں پیدا ہوئی تھی۔یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ جے کے بنک نے مقامی زبانوں کے بجائے محض انگریزی زبان میں ہی عام لوگوں تک پہنچنے کی کوشش کررہا ہے۔حالیہ مالی نتائج کے بارے میں انگریزی زبان میں ہی انگریزی میڈیا میں تشہیر کی گئی جبکہ اردواخبارات جو جموں وکشمیر میں مین سٹریم میڈیا کی حیثیت رکھتے ہیں ،کو نظر انداز کیا گیا۔کشمیری زبان کی طرف تو درکنار اب جے کے بنک نے اردو زبان میں بھی لوگوں کے ساتھ اپنا رابط ترک کردیاہے۔جس پر عوامی حلقوںمیں ناراضگی پائی جارہی ہے۔لوگوں کا کہنا ہے کہ نفیس کمروں میں کسٹمر میٹنگیں بلانے کا کوئی واضح اثر نہیں ہوگا جب تک کہ بنک کی اعلی قیادت ازخود صارفین کے مسائل اور اشوز کو نہیں سنیں گے۔جے کے بنک اگرچہ اپنے مالی نتائج میں بہتری کا مظاہرہ کررہا ہے لیکن ان فلاحی و عوامی مالیاتی سکیموں کی عمل آوری میں بنک کا طرز عمل انتہائی مایوس کن دکھائی دے رہا ہے۔مرکزی روزگار سکیموں کی عمل آوری میں جے کے بنک پر قواعد و ضوابط سے سراسر انحراف کے الزامات لگتے رہتے ہیں جن کا بنک قیادت کے پاس کوئی جواب نہیں ہے۔پرائم منسٹر ایمپلائمنٹ جنریشن پروگرام (PMEGP) سکیم کے تحت کریڈٹ گارنٹی سکیم کو نافذ کرنے کے بجائے نوجوان قرضہ خواہوں سے گارنٹی کے نام پر دھونس دباو کا شکار بنایا جاتا ہے۔اس کی سینکڑوں مثالیں سامنے آئی ہیں لیکن جے کے بنک حکام نے اس پر معنی خیز خاموشی اختیار کی ہوئی ہے۔ اتنا ہی نہیں بلکہ بینک کے ” اندرونی آڈیٹر” ( Auditors Internal ) اور Statutory آڈیٹرس کو یا تو بینک حکام کی جانب سے ان معاملات کو نظر انداز کرنے کے لئے کہا جاتا ہے یا دوسرے طریقوں سے انہیں خاموش رکھا جاتا ہے۔روزگار کے متلاشی نوجوانوں کو سرکاری سکیموں سے استفادہ کرنے کیلئے کافی زور دیا جاتا ہے لیکن ان پر عزم نوجوانوں کے حوصلے بنک کی بے وجہ سے تنگ طلبی سے ٹوٹ جاتے ہیں۔حال ہی میں جے کے بنک کے کئی شاخوں پر پی ایم ای جی پی سکیم کے تحت نوجوانوں سے سرکاری ملازم کی گارنٹی کے حوالے سے کافی احتجاج ہوا لیکن کوئی بھی ٹس سے مس نہیں ہوا۔عام لوگوں کا کہنا ہے کہ جے کے بنک کی شاخوں میں تعینات ملازمین کو بینکنگ اور بیکنگ سکیموں کی ازخود جانکاری نہیں ہے جس کی وجہ سے صارفین پریشانیوں میں مبتلاء� ہوجاتے ہیں۔اس سارے معاملے میں عام لوگوں کا لیفٹنٹ گورنر منوج سنہا اور ان کی انتظامیہ سے مطالبہ ہے کہ وہ جے کے بنک کی شان رفتہ بحال کرنے کیلئے بنک قیادت کو جواب دہ بنائے کیونکہ حال ہی میں لیفٹننٹ گورنر منوج سنہا نے ایک تقریب کے دوران واضح کیا تھا کہ جے کے بنک ایک عوامی ادارہ ہے اور اس پر کسی مخصوص طبقے کی اجارہ داری نہیں ہوسکتی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں