1709994388314

جموں وکشمیر انجمن شرعی شیعیان کے زیر اہتمام عظیم الشان عوامی اجلاس ، قومی بہبود اور عوامی مسائل کی داد رسی ہمارا بنیادی مقصد۔۔۔ آغا سید حسن

سرینگر // جموں وکشمیر انجمن شرعی شیعیان کے اہتمام سے 9مارچ بروز سنیچر اریگیشن کالونی سمبل بانڈی پورہ میں ایک اعلیٰ سطحی جلسہ منعقد ہوا جس میں ہزاروں کی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی جلسہ کی صدارت انجمن شرعی شیعیان کے صدر حجت الاسلام والمسلمين آغا سید حسن الموسوی الصفوی نے کی جلسہ میں لوگوں کی بنیادی ضروریات کو اجاگر کیا گیا۔جلسہ کا آغاز تلاوت کلام اللہ سے ہوا جبکہ نظامت کے فرائض زونل نائب صدر نوگام غلام حسین شگنو صاحب نے انجام دئے جلسہ کی ابتدا میں علاقہ کےجن ترجمانوں نے اپنے علاقہ کےمطالبات سامنے رکھے ان میں زونل صدر اوڑینہ شبیر علی بٹ صاحب، زون گاڈکھوڈ سے محمد ابراہیم ڈار صاحب، ضلع نائب صدر سید سجاد حسین موسوی صاحب، ضلع صدر حاجی عبد الرحیم ڈار صاحب شامل ہیں ان تمام معززین نے اطمنان کا اظہار کیا کہ آغاصاحب ہمارےمطالبات حکومت کے ایوانوں تک پہنچائیں گے جلسہ میں جوان سال ایڈوکیٹ آغا سید منتظر مھدی نے قومی امنگوں کی ترجمانی کرتے ہوئے کہا کہ یہ جلسہ بذات خود ایک احتجاج ہے ان تمام اقتدار میں بیٹھے حکمرانوں کے خلاف جو بڑے بڑے دعویٰ کرتے وقت نہیں تھکتے ہیں۔ لیکن جب ہم ضلع بانڈی پورہ بالخصوص سمبل سونا واری کی طرف نظر کرتے ہیں تو حکومت کے دعوے بلکل کھوکھلے ثابت ہوتے نظر آتے ہیں آغا منتظر نےبھاری اجتماع کی وساطت سےمطالبہ کیا کہ علاقہ میں ڈائری ملک فارم کا افتتاح ہونا چاہیے، جوانوں کے لئے روزگار کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے، اگر چہ ہر گھر جل ہر گھر نل کی سکیم سے لوگ مستفید ہورہے ہیں لیکن بد قسمتی سے سونا واری کا یہ پورا علاقہ پانی کی بنیادی سہولیات سے محروم ہے۔ بھاری اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے حجت الاسلام آغا سید مجتبیٰ عباس الموسوی الصفوی نے کہا کشمیر قدرتی نعمات سے اگر چہ مالا مال ہے لیکن سونا واری کا یہ پورا علاقہ بنیادی ضروریات بجلی، پانی، سڑک اور ہسپتال جیسے اہم ضروریات سے محروم رکھا گیا ہے انتخابات میں ووٹ انہی بنیادی ضروریات کی فراہمی کے لئے حاصل کئے جاتے ہیں اورپھر اقتدار میں آنے کے بعد سب فراموش کی نظر کیا جاتا ہے آغا مجتبیٰ نے کہا تعمیر و ترقی کا دور شروع ہونا چاہیے عوامی مسائل کا حل نکلنا چاہیے۔تعلمی شعبہ میں مارچ سیشن کے حوالے سے بھی آغا مجتبیٰ نے کہا وادی کی موسمی حالات کو مد نظر نہ رکھتے ہوئے جو تعلیمی نظام درھم برھم کیاگیا اس کو ٹھیک کرنے کی ضرورت ہے نیز حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ ایک جدید سروےکی جائے تاکہ اس بنیادی ضروریات سے محروم علاقے کو رزرویشن فراہم کی جائے جلسہ کے اختتام پر حجت الاسلام والمسلمين آغا سید حسن الموسوی الصفوی نے صدارتی کلمات کے آغاز میں کہا خدا اس قوم کی حالت نہیں بدلتا ہے جسے اپنی بدلنے کی فکر نہ ہو آغا صاحب نے کہا اس جلسہ کا مقصدعوام الناس کے مسائل کا سدباب اور سیاسی شعور پیدا کرنا ہےہماری قوم کو جس کسمپرسی کی حالت میں دھکیلا گیا ہے ہمیں اس سے نکلنے کی ضرورت ہے آغا صاحب نے کہا یہاں جتنے بھی عوامی مطالبات میرے سماعت تک پہنچے ان کے سد باب کے لئے حتی المقدور کوشش کروں گا اور حکومت کے ایوانوں تک پہچاوں کم مدت میں پہنچاوں گا تاکہ حکومت اپنے دعووں کو عملی جامہ پہناسکے آغا صاحب نے سرینگر جامعہ مسجد کےحوالے سے کہا جس طرح کل میر واعظ کشمیر ڈاکٹر محمد عمر فاروق صاحب نے جمعہ کی پیشوائی کی اُمید کی جاتی ہے یہ سلسلہ بدستور جاری رکھا جائے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں